قومی زبان

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی خبر نہ تھی کہ مقدر شکست ایسی تھی نظر ہٹا نہ سکا رائے کس طرح لیتا وہ سب کو دیکھ رہا تھا نشست ایسی تھی اسے خیال یہ گزرا کہ گر گئی دیوار دل حزیں کی صدائے شکست ایسی تھی میں تعینات کے الجھاؤ توڑ ہی بیٹھا صدائے دوست صدائے الست ایسی تھی میں اپنے آپ ...

مزید پڑھیے

جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے

جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے دنیا میں اسی بات کی تعریف ہوئی ہے پیغام مسرت پہ خوشی خوب ہے لیکن سنتے ہیں کہ ہم سایے کو تکلیف ہوئی ہے بگڑے ہوئے کچھ حرف ہیں بے معنی سے کچھ لفظ یہ زیست کے اوراق کی تالیف ہوئی ہے روداد میں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی مانو کہ نہ مانو کوئی تحریف ہوئی ...

مزید پڑھیے

کس قدر وزن ہے خطاؤں میں

کس قدر وزن ہے خطاؤں میں ذکر رہتا ہے پارساؤں میں واپسی پر اتر گیا چہرہ جا کے بیٹھا تھا ہم‌ نواؤں میں راز کی بات ہے دعا نہ کرو یاد رکھنا ہمیں دعاؤں میں ڈھونڈ شاید ملے پیام ضمیر بوڑھے برگد کی ان چٹانوں میں اپنی تعریف کرنے بیٹھا تھا بات اڑا دی گئی ہواؤں میں چہرے بدلے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

بشر کی ذات کو غم سے کہاں مفر ہے میاں

بشر کی ذات کو غم سے کہاں مفر ہے میاں ہزار کہئے کوئی غم نہیں مگر ہے میاں سفر میں زاد سفر ہی تو کام آتا ہے سفر کو سہل نہ جانو سفر سفر ہے میاں ملال کیا کریں دستار کے نہ ہونے کا وبال دوش یہاں تو خود اپنا سر ہے میاں بہ عافیت گزر آئے تھے ہر تلاطم سے مگر کنارے پہ اب ڈوبنے کا ڈر ہے ...

مزید پڑھیے

جو دوست تھا وہی دشمن ہے کیا کیا جائے

جو دوست تھا وہی دشمن ہے کیا کیا جائے عجب خلش عجب الجھن ہے کیا کیا جائے بسا ہوا ہے جو خوشبو کی طرح سانسوں میں اسی سے اب مری ان بن ہے کیا کیا جائے یگانگت کا وہ جذبہ ادھر رہا نہ ادھر دعا سلام بھی رسماً ہے کیا کیا جائے بہار میں بھی میسر گل مراد نہیں یہ نا مرادئ دامن ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

خوشی کی آرزو کو پا کے محروم خوشی میں نے

خوشی کی آرزو کو پا کے محروم خوشی میں نے خوشی کی آرزو دل میں کبھی پلنے نہ دی میں نے وطن کی سر زمیں جس پر لٹا دی زندگی میں نے وہیں اپنے لئے پائی محبت کی کمی میں نے جو میری جان کے دشمن تھے ان پر جان دی میں نے سکھائی یوں بھی اپنے دشمنوں کو دوستی میں نے سیاست سے فسادوں کا بنا مسکن وطن ...

مزید پڑھیے

خوش نظر کہہ کے ٹال دے مجھ کو

خوش نظر کہہ کے ٹال دے مجھ کو یا پھر اپنی مثال دے مجھ کو خوش بیانی کا شکریہ لیکن جرأت عرض حال دے مجھ کو تو بھی ہو جائے ہم خیال مرا کوئی ایسا خیال دے مجھ کو عہد حاضر تو نقش ماضی ہے اب نئے ماہ و سال دے مجھ کو نظر آتی نہیں ہے راہ فرار دائرے سے نکال دے مجھ کو تو ہے کیا خود کو جانتا ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن تھا یہ اک کام مگر ہم نے کیا

غیر ممکن تھا یہ اک کام مگر ہم نے کیا تیرے نظارے کو پابند نظر ہم نے کیا آگے چل کر یہ خدا جانے کہاں رہ جائیں غیر بھی چل پڑے جب عزم سفر ہم نے کیا ان خیالات ہی پر ٹوٹ پڑی ہے دنیا جن خیالات کو کل ذہن بدر ہم نے کیا دن خطرناک جزیرہ سا نظر آنے لگا اپنی ہی ذات کا کل شب جو سفر ہم نے کیا یوں ...

مزید پڑھیے

سفر جس میں نہ ہو تو ہم سفر اچھا نہیں لگتا

سفر جس میں نہ ہو تو ہم سفر اچھا نہیں لگتا گوارا کر لیا جائے مگر اچھا نہیں لگتا جو سچ پوچھو تو گھر کی ساری رونق اس کے دم سے ہے وہ جان جاں نہ ہو گھر میں تو گھر اچھا نہیں لگتا ہتک آمیز نظروں سے کوئی دیکھے جہاں ہم کو قدم رکھنا بھی اس دہلیز پر اچھا نہیں لگتا خداوندا ترا بندہ جو مانگے ...

مزید پڑھیے

مرے سخن کو وہ اعجاز دے خدائے سخن

مرے سخن کو وہ اعجاز دے خدائے سخن کہ حرف حرف بنے گنج‌‌ بے بہائے سخن سکوت توڑے کبھی تو بھی دل کی بات کہے خدا کرے کبھی تیرے بھی لب پہ آئے سخن غضب خدا کا کڑی دھوپ کا طویل سفر اور اس سفر کا اثاثہ بس اک ردائے سخن حدیث غم کا بیاں ہے بغیر جنبش لب ہے خامشی بھی مری عین مدعائے سخن بدن سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 407 سے 6203