قومی زبان

قوم کا زوال اور متل کی خفگی

خلیق انجم اور ایم.اسلم ایک دو دوستوں کے ساتھ گوپال متل سے ملنے گئے تھے ۔ گوپال متل سیخ پا ہورہے تھے اورمسلمانوں کو گالیاں نکال رہے تھے ۔ جب خلیق انجم نے پوچھا میاں ایسی کیا بات ہوگئی کہ ہماری پوری قوم کو بے پر کی سنارہے ہو؟اس پرگوپال متل نے فرمایا کہ : ’’مسلمانوں کی عقل پر پردہ ...

مزید پڑھیے

مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا

مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا میرے گرد بن دیا الجھنوں کا جال سا اس نئی صدی کا یہ کارنامہ خوب ہے سکھ کا ایک لمحہ ہے دکھ کے ایک سال سا پیٹھ پر لدا ہوا مسئلوں کا بوجھ ہے بن گیا ہے آدمی آج کل حمال سا دوستی کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا دل ہمارے سینے میں تھا کبھی جو ڈھال سا فکر و فن کی ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا

کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا لوگ سورج کو ہتھیلی پہ اگائیں بابا دودھ بچوں کو بھلا کیسے پلائیں بابا ایک مدت ہوئی فاقے سے ہیں مائیں بابا لوگ اب اس کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں چھین لیتا ہے جو بہنوں کی ردائیں بابا جسم تو جسم ہیں جذبات جھلس جاتے ہیں گرم ہوتی ہیں بہت شہری ہوائیں ...

مزید پڑھیے

دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے

دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے موم کی طرح سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے کیسے کہہ دوں کہ یہ سورج ہے اجالوں کا امیں شام ہوتے ہی اندھیروں میں جو ڈھل جاتا ہے چند قطروں کی مرے دوست حقیقت کیا ہے ظرف والا تو سمندر بھی نگل جاتا ہے کیا ضروری ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے جس کو جلنا ہے وہ پھولوں ...

مزید پڑھیے

محبت کا وعدہ نبھایا ہے میں نے

محبت کا وعدہ نبھایا ہے میں نے زمانے کو نیچا دکھایا ہے میں نے کہیں وقت اس کو نہ مسمار کر دے محل آرزو کا بنایا ہے میں نے وہ مجھ سے بھی آگے بڑھا جا رہا ہے جسے پاؤں چلنا سکھایا ہے میں نے زمانہ پہ چھایا ہوا تھا اندھیرا اندھیرے میں دیپک جلایا ہے میں نے مصیبت میں تم کیا مرا ساتھ دو ...

مزید پڑھیے

ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے

ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے کہ جیسے اجنبی کوئی اک اجنبی سے ملے قدم قدم پہ خلوص وفا کا ذکر کیا عدو ملے بھی تو کس حسن‌ سادگی سے ملے ستم کرو بھی تو انداز منصفی سے کرو کوئی سلیقہ تو عنوان دوستی سے ملے تری تلاش میں نکلے تھے تیرے دیوانے ہر ایک موڑ پہ خود اپنی زندگی سے ملے وہ ...

مزید پڑھیے

اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا

اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا بیچنے نکلے تو یوسف کا خریدار نہ تھا دوستو رسم محبت پہ یہ کیا بیت گئی شہر یاراں میں کوئی شخص سر دار نہ تھا اور بھی لوگ تھے توفیق وفا رکھتے تھے ایک میں ہی تو ترے غم کا سزاوار نہ تھا دل کے کہنے پہ لگا لی ہے وفا کی تہمت ورنہ جینا تو مجھے باعث آزار ...

مزید پڑھیے

ہمارا ان کا تعلق جو رسم و راہ کا تھا

ہمارا ان کا تعلق جو رسم و راہ کا تھا بس اس میں سارا سلیقہ مرے نباہ کا تھا تجھے قریب سے دیکھا تو دل نے سوچا ہے کہ تیرا حسن بھی اک زاویہ نگاہ کا تھا تجھے تراش کے دل میں سجا لیا میں نے قصور اس میں مری رفعت نگاہ کا تھا چلے تھے یوں تو کئی لوگ کوئے جاناں کو ذرا سا ہم سے مگر اختلاف راہ کا ...

مزید پڑھیے

کچھ تمہاری انجمن میں ایسے دیوانے بھی تھے

کچھ تمہاری انجمن میں ایسے دیوانے بھی تھے جو بکار خویش دیوانے بھی فرزانے بھی تھے یوں تو ہر صورت پہ تھا بیگانگی کا شائبہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو جانے پہچانے بھی تھے سب بہ توفیق مروت دوستی کرتے رہے لوگ کیا کرتے کہ خود ان کے صنم خانے بھی تھے تو نے اپنی آگہی کے ظرف سے جانچا ...

مزید پڑھیے

کج کلاہی کی ادا یاد آئی

کج کلاہی کی ادا یاد آئی کوئے قاتل کی ہوا یاد آئی دل کو شاید نہیں یاراۓ وفا ورنہ کیوں تیری جفا یاد آئی اس کی بیداد کے ہر ذکر کے ساتھ اس کی ایک ایک ادا یاد آئی دل کے خوں ہونے کی جب بات چلی اس کی خوشبوئے حنا یاد آئی شکریہ ناصح مشفق کہ پھر آج اپنی روداد وفا یاد آئی

مزید پڑھیے
صفحہ 4075 سے 6203