قومی زبان

وقت کی راگنی گیت گاتی رہی

وقت کی راگنی گیت گاتی رہی اور میں گیت کی دھن بناتی رہی برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی ہجر کی رات تھی جاگنا شرط تھا چاندنی نیند کے پر بناتی رہی آپ ہی آپ وہ گنگناتا رہا آپ ہی آپ میں مسکراتی رہی جل گئی میں مگر دل جگر کب جلے آنچ کی اک کمی سر اٹھاتی رہی کام ...

مزید پڑھیے

اس کی ہوں یا اپنی ہوں

اس کی ہوں یا اپنی ہوں کوئی بتائے کس کی ہوں اپنے گھر میں رہ کر بھی اس کے گھر میں رہتی ہوں یا پھر وہ ہی سچا ہے یا پھر میں ہی جھوٹی ہوں تنہائی سو جاتی ہے اور میں جاگتی رہتی ہوں پتھر باتیں کرتے ہیں میں بھی باتیں کرتی ہوں وہ تو سیدھا سادہ ہے پر میں خود سے ڈرتی ہوں

مزید پڑھیے

محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے

محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے اداس موسم کا تذکرہ بھی کیا نہ جائے ملو تو ایسے کہ آئنہ آئنے سے جیسے دلوں میں رنجش یا بغض رکھ کر ملا نہ جائے میں چاہتی ہوں بغیر میرے نہ رہ سکے تو میں چاہتی بغیر تیرے رہا نہ جائے خیال رکھیے سفر میں اپنے بھی ہم سفر کا قدم سے آگے قدم بڑھا کر چلا نہ ...

مزید پڑھیے

دل کہاں ہوتا ہے ہر ایک اجڑنے والا

دل کہاں ہوتا ہے ہر ایک اجڑنے والا وہ بگڑتا ہے فقط جو ہو بگڑنے والا چھوٹ دے رکھی تھی میں نے اسے جو چاہے کہے مجھ کو پیارا تھا بہت مجھ سے جھگڑنے والا نوحے سنتی ہوں میں شعرا کے تو سر دھنتی ہوں کاش ہوتا کوئی میرا بھی بچھڑنے والا آندھیاں ہار کے جاتی ہیں کسی دم افشاںؔ خیمہ ہر ایک نہیں ...

مزید پڑھیے

زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے

زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے خلا رہے گا قدم ہم جہاں نہ رکھیں گے جواب دینا پڑے گا ہمیں خموشی کا سو طے کیا ہے کہ منہ میں زباں نہ رکھیں گے کہیں اضافہ کہیں حذف تو کہیں ترمیم کہیں کی اب وہ مری داستاں نہ رکھیں گے تلے ہیں ہاتھ جو ورثے پہ صاف کرنے پر کسی بھی دور کا باقی نشاں نہ ...

مزید پڑھیے

ماضی! تجھ سے ''حال'' مرا شرمندہ ہے

ماضی! تجھ سے ''حال'' مرا شرمندہ ہے مجھ سے اچھا آج مرا کارندہ ہے کیسا انساں ترس رہا ہے جینے کو کیسے ساحل پر اک مچھلی زندہ ہے اس کے پیچھے اس سے بڑھ کر اک انسان آگے آگے اک خوں خوار درندہ ہے جیسے کوئی کاٹ رہا ہے جال مرا جیسے اڑنے والا کوئی پرندہ ہے نوع بشر کا وحشی پن جب یاد کرو یہ مت ...

مزید پڑھیے

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے میرے آگے پیچھے دائیں بائیں ویرانی رہے ساری سمتیں آ کے جس مرکز پہ ہو جاتی ہیں ایک خم اسی جانب ہمیشہ میری پیشانی رہے آگے آگے میں ترا پرچم لیے چلتا رہوں ارض دل پر میرے قائم تیری سلطانی رہے روشنی کو ہو مری ایسا کوئی ماخذ عطا ذرۂ ناچیز میں دن رات ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

بظاہر اجنبی ہو تم مگر بوسوں کی بے کیفی بتاتی ہے کہ یہ وہ زہر ہے چکھا ہے جس کو بارہا میں نے نہ جانے جذب ہے میرے لبوں میں کتنے رخساروں کی کڑواہٹ یہ سب خمیازہ ہے اس بوسۂ اول کا دل بھولا نہیں جس کی حلاوت کو میں اس کو بارہا سمجھا چکا ہوں ماضیٔ مرحوم کا ماتم تو کر سکتے ہیں، واپس لا نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک انکم ٹکس کمشنر کا غزلیں سنانا

کرشن موہن جن دنوں کمشنر آف انکم ٹکس تھے تو ان کے اعزاز میں ایک دعوت ہوئی، اس میں گوپال متل بھی مدعو تھے۔ کرشن موہن نے غزلیں سنانا شروع کیں، تو مسلسل سناتے ہی رہے ۔ اچانک انہوں نے پانی مانگا تو گوپال متل نے میزبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اسے پانی نہ دینا ورنہ یہ تازہ دم ہوکر ...

مزید پڑھیے

شاعر یا درزی

گوپال متل سے کسی نے دریافت کیا: ’’کیوں صاحب! آپ نے اپنی فلاں نظم کانگریسیوں کے لئے لکھی تھی یا کمیونسٹوں کے لئے ؟‘‘ متل نے جواباً کہا: ’’صاحب! میں تو درزی ہوں۔ میرا کام ٹوپیاں سیناہے ۔ جس کے سر پر جو پوری آجائے’پہن لے۔‘‘

مزید پڑھیے
صفحہ 4074 سے 6203