پیڑ اگر اونچا ملتا ہے
پیڑ اگر اونچا ملتا ہے مشکل سے سایہ ملتا ہے محنت سے پیسہ ملتا ہے جیسے کو تیسا ملتا ہے دریا کے رستے ساگر سے قطرہ قطرہ جا ملتا ہے صحرا جنگل ساگر پربت ان سے ہی رستہ ملتا ہے بیٹھے بیٹھے گھومنے والا دنیا کا نقشہ ملتا ہے
پیڑ اگر اونچا ملتا ہے مشکل سے سایہ ملتا ہے محنت سے پیسہ ملتا ہے جیسے کو تیسا ملتا ہے دریا کے رستے ساگر سے قطرہ قطرہ جا ملتا ہے صحرا جنگل ساگر پربت ان سے ہی رستہ ملتا ہے بیٹھے بیٹھے گھومنے والا دنیا کا نقشہ ملتا ہے
نہ مرا زور نہ بس اب کیا ہے اے گرفتار نفس اب کیا ہے میں ترے واسطے آئینہ تھا اپنی صورت کو ترس اب کیا ہے دانے دانے پہ اتر آئے پرند بندۂ دام ہوس اب کیا ہے کس ہوا میں ہے تو اے ابر کرم اب برس یا نہ برس اب کیا ہے رہا جب تک رہا سمتوں کا زوال آئی آواز جرس اب کیا ہے
بات بڑھتی گئی آگے مری نادانی سے کتنا ارزاں ہوا میں اپنی فراوانی سے خاک ہی خاک نظر آئی مجھے چاروں طرف جل گئے چاند ستارے مری تابانی سے بے تحاشہ جیے ہم لوگ ہمیں ہوش نہیں وقت آرام سے گزرا کہ پریشانی سے اب مرے گرد ٹھہرتی نہیں دیوار کوئی بندشیں ہار گئیں بے سر و سامانی سے آئے گا ...
وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو بنایا اس نے کھیون ہار مجھ کو زباں کی دھار سے دیکھا ملا کر لگی کچھ تیز کم تلوار مجھ کو بٹھا رکھا مجھے سائے میں جس نے گرانی تھی وہی دیوار مجھ کو جنہیں ہے ناز اپنے فاصلوں پر پکڑنے دیں ذرا رفتار مجھ کو کبھی ہوتی نہ پھر لڑنے کی ہمت ملی اب تک نہ ایسی ہار ...
تو سرحد خیال سے آگے گزر گیا میں تیری جستجو میں بحد نظر گیا دل کو کریدنے سے مری جان فائدہ اک زخم تھا کہ وقت کی آندھی سے بھر گیا ساحل تمام عمر یوں ہی تشنہ لب رہا سیلاب کتنی بار یہاں سے گزر گیا عمر گریز پا کو کہاں ڈھونڈنے چلیں وہ نقش لوح وقت سے کب کا اتر گیا
تو انگ انگ میں خوشبو سی بن گیا ہوگا میں سوچتا ہوں کہ تجھ سے گریز کیا ہوگا تمام رات مرے دل سے آنچ آتی رہی کہیں قریب کوئی شہر جل رہا ہوگا تو میرے ساتھ بھی رہ کر مرے قریب نہ تھا اب اس سے اور فزوں فاصلہ بھی کیا ہوگا مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں کبھی تو تو بھی مری طرح سوچتا ...
موج صرصر کی طرح دل سے گزر جاؤ گے کس کو معلوم تھا تم دل میں اتر جاؤ گے چار سو وقت کی گردش کی فصیل شب ہے بچ کے اس گردش دوراں سے کدھر جاؤ گے آئینہ خانے سے دامن کو بچا کر گزرو آئینہ ٹوٹا تو ریزوں میں بکھر جاؤ گے اک ذرا اور قریب رگ جاں آؤ تو میرے خوں ناب میں تم ڈھل کے سنور جاؤ گے دیکھو ...
کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے ایک تو ہے بات بھی سنتا نہیں ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے تجھ سے جگ بیتی کی سب باتیں کہیں کچھ سخن نا گفتنی بھی رہ گئے تیری میری چاہتوں کے نام پر لوگ کہنے کو بہت ...
غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں ہماری آنکھ میں ایسے اشارے تو نہیں ہیں ہمارے ہو تو پھر آؤ ہمارا ساتھ بھی دو مسائل زندگی کے سب ہمارے تو نہیں ہیں اداسی کو اداسی کیوں نہیں تسلیم کرتے مری پلکوں پہ آنسو ہیں ستارے تو نہیں ہیں میں باہر خواب سے آ بھی گئی تو کیا کروں گی مری دنیا ...
رنج میں راحت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو جاناں حسرت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو اب تک مجھ پتھر کو تراشا کب ہے تم نے کوئی مورت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو غصے میں بھی ہم کو چپ رہنا پڑتا ہے جان مروت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو دھیان رہے کہ ہم کو تمہاری عادت بھی ہے لیکن عادت کیا ہوتی ہے تم کیا ...