قومی زبان

ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے

ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے کسی کی زلف تلے ہر سمے سویرا ہے حکایت لب و رخسار میں گزار دیں وقت جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے بہاؤ گیت برہ کے بہت اندھیرا ہے وہ محتسب ہو کہ شحنہ کہ مفتی و قاضی ہمارا کوئی نہیں ہے ہر ایک تیرا ہے مرے ...

مزید پڑھیے

مانگتا ہوں خیریت لب پر دعا رکھتا ہوں میں

مانگتا ہوں خیریت لب پر دعا رکھتا ہوں میں جانے کب وہ لوٹ آئے در کھلا رکھتا ہوں میں جانتا ہوں اس کی ہر ناراضگی کو میں مگر اپنے حصے کا بھی تو کوئی گلہ رکھتا ہوں میں وصل ہو یا ہجر اس کے اپنے ہوں گے وسوسے اس کا جو بھی فیصلہ ہو بس وفا رکھتا ہوں میں اس کو بھی تو غم بچھڑنے کا یہ ہونا ...

مزید پڑھیے

خواب ٹوٹے سجانا مشکل ہے

خواب ٹوٹے سجانا مشکل ہے پیار پہلا بھلانا مشکل ہے سب کو اس کی تمنا ہے لیکن چاند دھرتی پہ لانا مشکل ہے اس کی آنکھوں میں ہیں کئی ساغر تیر کے پار جانا مشکل ہے ہم نے پتھر لہو سے سینچا ہے پھول اس پر کھلانا مشکل ہے اس کو خود میں تلاش کرتا ہوں راز سب سے چھپانا مشکل ہے دل کی حسرت نکل ...

مزید پڑھیے

کبھی نصیب سے آئے جو تیری بانہوں میں

کبھی نصیب سے آئے جو تیری بانہوں میں ہزاروں پھول کھلے تھے مری نگاہوں میں یوں کسمپرسی کے عالم میں آج سوچتی ہوں بڑے عجیب نشے تھے تری پناہوں میں میں سانس بھی نہیں لیتی کہ دل کو خوف سا ہے ابھی ہے زہر گئی رت کا میری آہوں میں تری تلاش میں در در پھرے مگر اے دوست بھٹک کے رہ گئے ہم زندگی ...

مزید پڑھیے

ضابطے اور ہی مصداق پہ رکھے ہوئے ہیں

ضابطے اور ہی مصداق پہ رکھے ہوئے ہیں آج کل صدق و صفا طاق پہ رکھے ہوئے ہیں وہ جو خود معرکۂ عشق میں اترے بھی نہیں شکوہ پسپائی کا عشاق پہ رکھے ہوئے ہیں باندھ رکھا ہے محبت نے ازل سے ہم کو سو توجہ اسی میثاق پہ رکھے ہوئے ہیں دخل آنکھوں کا الجھنے میں بہت ہے لیکن تہمتیں سب دل مشتاق پہ ...

مزید پڑھیے

محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا

محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا ہوا ساکن رہے تو بادباں سے کچھ نہیں ہوتا چلوں تو مصلحت یہ کہہ کے پاؤں تھام لیتی ہے وہاں جانا بھی کیا حاصل جہاں سے کچھ نہیں ہوتا ضرورت مند ہے صید افگنی مشاق ہاتھوں کی فقط یکجائی تیر و کماں سے کچھ نہیں ہوتا مسلسل بارشیں بھی سبزہ و گل لا نہیں ...

مزید پڑھیے

عکس روشن ترا آئینۂ جاں میں رکھا

عکس روشن ترا آئینۂ جاں میں رکھا ہم نے تصویر کو حیرت کے جہاں میں رکھا کون مایوس تری بزم عنایت سے اٹھا تیرے اکرام نے کس کس کو گماں میں رکھا کوئی مدہوش نہ ہو ساعت گل بوسی میں اس نے یوں پھول کو کانٹوں کی اماں میں رکھا وہ سمجھتا تھا کہ ہیں سچ کے خریدار بہت رہ گیا مال سبھی اس کی دکاں ...

مزید پڑھیے

تری امیدوں کا ساتھ دے گی عنایت برگ و بار کب تک

تری امیدوں کا ساتھ دے گی عنایت برگ و بار کب تک بہار ہے مہربان تجھ پر مگر رہے گی بہار کب تک جلائی تو نے اگر نہ مشعل کوئی چراغ اور ڈھونڈ لیں گے جنہیں ضرورت ہے روشنی کی کریں گے وہ انتظار کب تک خیال توسیع و رفعت بام و در کی خواہش بجا ہے لیکن مکان کا بوجھ سہہ سکے گی بنائے ناپائیدار کب ...

مزید پڑھیے

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے نگاہ یاراں میں پھر بھی وہ شخص معتبر ہے ستم تو یہ ہے ہم ایسے سادہ دلوں کو تجھ سے ملے گی داد خلوص کیسے زمانہ سازی کی خو ترے عہد میں ہنر ہے ستم تو یہ ہے اگر تجھے علم ہی نہ ہوتا تو پھر کبھی ہم گلہ نہ کرتے سکون کیوں چھن گیا ہمارا تجھے خبر ہے ...

مزید پڑھیے

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں بے جہت نسلوں کی آوازیں خلا میں کھو گئیں رنگ و بو کا شوق آشوب ہوا میں لے گیا تتلیاں گھر سے نکل کر ابتلا میں کھو گئیں کون پس منظر میں اجڑے پیکروں کو دیکھتا شہر کی نظریں لباس خوش نما میں کھو گئیں منتظر چوکھٹ پہ تعبیروں کے شہزادے رہے خواب کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4067 سے 6203