قومی زبان

لو دل بے زبان ٹوٹ گیا

لو دل بے زبان ٹوٹ گیا کانچ کا تھا مکان ٹوٹ گیا دل یہ شاید کھلونے جیسا تھا کھیل کے درمیان ٹوٹ گیا چھوڑ کر ماں کو کیا ملے جنت پہلا ہی پائیدان ٹوٹ گیا ایسے مارے گئے جواں فوجی جیسے ہندوستان ٹوٹ گیا گودیاں ماں کی ہو گئیں سونی مامتا کا جہان ٹوٹ گیا دیکھ پلواما قلب مضطر پر یوں لگا ...

مزید پڑھیے

اس دور جہل میں یہ سیاست فساد ہے

اس دور جہل میں یہ سیاست فساد ہے ہر سو ہے اختلاف کہاں اتحاد ہے پوجا ہو یا نماز ہو سب ہیں عبادتیں ہم سب ہیں بھائی بھائی نہ ہرگز تضاد ہو ہرگز نہ تم جہاد کہو مار کاٹ کو لڑ جانا اپنے نفس سے اصلی جہاد ہے شانے سے شانہ جوڑ ملا کر چلو قدم حیدرؔ سنو اسی میں ہمارا مفاد ہے

مزید پڑھیے

وحشتیں پھیلی ہیں ہر سو دو جہاں خاموش ہے

وحشتیں پھیلی ہیں ہر سو دو جہاں خاموش ہے ہے زمیں گریہ کناں اور آسماں خاموش ہے بیٹیوں کے مان ہونا چاہیے اپمان ہے دیکھ کر سب کچھ بھی یہ ہندوستاں خاموش ہے ظلمتوں کی آنچ سے جھلسے غریبوں کے ہی گھر آگ بڑھتی جا رہی ہے اور دھواں خاموش ہے تھا چمن گلزار پہلے اب ہے اجڑی وادیاں ہو گیا ...

مزید پڑھیے

ہر دریچہ دھواں اگلتا ہے

ہر دریچہ دھواں اگلتا ہے بند کمرے میں کون جلتا ہے چیونٹیوں کے بھی پر نکل آئے کون پیدل زمیں پہ چلتا ہے آسماں چھو نہیں سکے گا کبھی روز دیا مگر اچھلتا ہے رینگتی ہے تمہاری منی خوب میرا منا بھی پاؤں چلتا ہے بیت جاتی ہے ہر گھڑی مومنؔ وقت ٹالے بغیر ٹلتا ہے

مزید پڑھیے

جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے

جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے اگر ہے دم تو ہماری دعا کے پر باندھے اٹھائے ہاتھ عذاب و بلا کے پر باندھے یہ کس دعا نے کسی بد دعا کے پر باندھے ہوئی نہ آج بھی توبہ کے ٹوٹنے کی سبیل خدا نے آج بھی کالی گھٹا کے پر باندھے کوئی تو ہو جو اسے روک لے تباہی سے کوئی تو ہو جو دل مبتلا کے پر ...

مزید پڑھیے

تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہا

تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہا میں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہا جوان میری ہمتیں بلند میرے حوصلے حصار توڑتا رہا کمند ڈالتا رہا بہت ہی تلخ تجربہ تمہاری بزم میں ہوا ہر آدمی مری انا کے بل نکالتا رہا ہیں التوا کی گود کے پلے سب اس کے مسئلے کسی کو حل نہیں کیا ہمیشہ ٹالتا رہا ترے ...

مزید پڑھیے

دار و رسن نے کس کو چنا دیکھتے چلیں

دار و رسن نے کس کو چنا دیکھتے چلیں یہ کون سر بلند ہوا دیکھتے چلیں آئے گا پھر چمن پہ تصرف کا وقت بھی پہلے قفس کی آب و ہوا دیکھتے چلیں جاتے تھے ہم تو پھیر کے منہ جلوہ گاہ سے لیکن دل و نظر نے کہا دیکھتے چلیں ہاں اک نظر حفیظؔ پہ عبرت کے واسطے کیا رہ گئی ہے قدر وفا دیکھتے چلیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4006 سے 6203