قومی زبان

ارتکاب جرم شر کی بات ہے

ارتکاب جرم شر کی بات ہے اور بری ہونا ہنر کی بات ہے اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط سوچنے میں دوپہر کی بات ہے آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے ایک شعلہ سا لپک کر رہ گیا یہ حیات مختصر کی بات ہے ناصحا گر ہو سکے منزل پہ مل زندگی تو رہگزر کی بات ہے شادی و غم پر ...

مزید پڑھیے

نہ سر چھپانے کو گھر تھا نہ آب و دانہ تھا

نہ سر چھپانے کو گھر تھا نہ آب و دانہ تھا زمانے بھر کی نگاہوں کا میں نشانہ تھا بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا جو عکس غیر کی تابش میں ڈھونڈتا تھا جلا اس آئینے کو بکھرنا تھا ٹوٹ جانا تھا دریچے ماضی کے کھلنے لگے تو یاد آیا یہیں کہیں کسی ڈالی پہ ...

مزید پڑھیے

ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا

ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا لغو بے بحر خیالات کا مظہر ہوتا اور بڑھ جاتی جو ابہام کی ندرت مجھ میں عہد نو کے کسی فرقے کا پیمبر ہوتا کچھ تو ملتا مجھے دشنام طرازی ہی سہی خوب ہوتا جو میں دشمن کے برابر ہوتا کاہے کو دشت میں چبھنے کے لیے رہ جاتا پھول ہوتا کسی گلشن کا گل تر ...

مزید پڑھیے

عصر جدید آیا بڑی دھوم دھام سے

عصر جدید آیا بڑی دھوم دھام سے لیکن شکست کھا گیا پچھلے نظام سے کرتا ہے کوئی ترک تعلق بھی اس طرح محروم ہو گیا ہوں پیام و سلام سے زردار کے سلام میں سبقت سبھی کی ہے محروم مفلسی ہے جواب سلام سے کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے بے چینیوں میں رات ...

مزید پڑھیے

عشق کی انجمن کی بات کریں

عشق کی انجمن کی بات کریں پھر کسی گل بدن کی بات کریں بھول بھی جائیں تیرگیٔ حیات مسکراتی کرن کی بات کریں اس جہاں سے خزاں کا دور گیا لہلہاتے چمن کی بات کریں کیا ضروری ہے جوئے شیر کی بات کیوں نہ گنگ و جمن کی بات کریں سرخ آنچل میں کسمسائی ہوئی صبح کی اس دلہن کی بات کریں ساتھیو گاؤ ...

مزید پڑھیے

بے سہاروں کا انتظام کرو

بے سہاروں کا انتظام کرو یعنی اک اور قتل عام کرو خیر خواہوں کا مشورہ یہ ہے ٹھوکریں کھاؤ اور سلام کرو دب کے رہنا ہمیں نہیں منظور ظالمو! جاؤ اپنا کام کرو خواہشیں جانے کس طرف لے جائیں خواہشوں کو نہ بے لگام کرو میزبانوں میں ہو جہاں ان بن ایسی بستی میں مت قیام کرو یہ ہنر بھی بڑا ضروری ...

مزید پڑھیے

بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا

بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا تاثیر کے لیے جہاں تحریف کی گئی اک جھول بس وہیں پہ فسانے میں رہ گیا سب مجھ پہ مہر جرم لگاتے چلے گئے میں سب کو اپنے زخم دکھانے میں رہ گیا خود حادثہ بھی موت پہ اس کی تھا دم بخود وہ دوسروں کی جان بچانے میں رہ گیا اب اہل ...

مزید پڑھیے

بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولا

بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولا جب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولا تکو گے یوں ہی ہواؤں کا منہ بھلا کب تک یہ ناخداؤں سے اک روز بادباں بولا چمن میں سب کی زباں پر تھی میری مظلومی مرے خلاف جو بولا تو باغباں بولا یہی بہت ہے کہ زندہ تو ہو میاں صاحب زمانہ سن کے مرے غم کی داستاں بولا حصار ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کرو

کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کرو ہاں مگر ساقی مے خانہ کو رسوا نہ کرو ذکر چھڑ جائے اگر قوم کی بد بختی کا رہنماؤں کی طرف کوئی اشارہ نہ کرو ذہن سنجیدہ مسائل سے ہٹانے کے لیے روز یہ شیخ و برہمن کا تماشا نہ کرو ایک بھی لفظ ہٹانے کی نہیں گنجائش میرے پیغام محبت کا خلاصہ نہ کرو یہ ...

مزید پڑھیے

اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہے

اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہے اس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہے سارا کلیجہ کٹ کٹ کر جب اشکوں میں بہہ جائے ہے تب کوئی فرہاد بنے ہے تب مجنوں کہلائے ہے میں جو تڑپ کر روؤں ہوں تو ظالم یوں فرمائے ہے اتنا گہرا گھاؤ کہاں ہے ناحق شور مچائے ہے تم نے مجھ کو رنج دیا تو اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4007 سے 6203