حبیب جالبؔ
وہ ایک لمحہ جو سچ بولنے سے ڈرتا ہے جو ظلم سہتا ہے جبر اختیار کرتا ہے وہ لمحہ موت کی وادی میں جا اترتا ہے مگر جو بار صداقت اٹھا کے زندہ ہے ستم گروں کے ستم آزما کے زندہ ہے وہ لمحہ اپنے لہو میں نہا کے زندہ ہے وہ ایک لمحہ کہ تاریخ جس سے روشن ہے متاع خاک اسی کے لہو کا خرمن ہے دوام فصل ...