قومی زبان

حبیب جالبؔ

وہ ایک لمحہ جو سچ بولنے سے ڈرتا ہے جو ظلم سہتا ہے جبر اختیار کرتا ہے وہ لمحہ موت کی وادی میں جا اترتا ہے مگر جو بار صداقت اٹھا کے زندہ ہے ستم گروں کے ستم آزما کے زندہ ہے وہ لمحہ اپنے لہو میں نہا کے زندہ ہے وہ ایک لمحہ کہ تاریخ جس سے روشن ہے متاع خاک اسی کے لہو کا خرمن ہے دوام فصل ...

مزید پڑھیے

ایک جھوٹی کہانی

جب دریا میں آگ لگی مچھلی نے اک جست لگائی جا بیٹھی دیوار پر کچھوے کو اڑنا آتا تھا اڑ کے بیٹھا تار پر مینڈک کو آگے جانا تھا وہ تو بھاگا کار پر جب دریا میں آگ لگی تار پہ بلی ناچ رہی تھی کچھوے سے یہ بولی آؤ بادل میں چھپ جائیں کھیلیں آنکھ‌ مچولی مچھلی بیٹھی اونگھ رہی تھی وہ بھی پیچھے ہو ...

مزید پڑھیے

میرے بستے میں کیا ہے

اسکول کا لڑکا ہوں میں ننھا سا بنجارہ ہوں میں جو چیز ہے وہ خاص ہے بستے میں میرے پاس ہے کچھ ٹافیاں کچھ گولیاں کچھ بیر کچھ نمکولیاں کڑوی کسیلی چھالیہ کچھ بچ گئیں کچھ کھا لیا پرکار پنسل اور ربر رنگین کاغذ اور کلر یہ مور کے پر دیکھیے لعل و جواہر دیکھیے ماچس کے لیبل دیکھیے کاغذ کی بلبل ...

مزید پڑھیے

جرم الفت کی مجھے خوب سزا دیتا ہے

جرم الفت کی مجھے خوب سزا دیتا ہے خط کو پڑھتا بھی نہیں اور جلا دیتا ہے ٹوٹ جاتے ہیں سبھی آئنہ خانے میرے جب تخیل تری تصویر بنا دیتا ہے میرے حاکم کو بہت بار گراں گزرے گا کوئی ظالم ہے جو زنجیر ہلا دیتا ہے اس کے آنے کی مجھے جھوٹی تسلی مت دو یہ دلاسہ تو مرا درد بڑھا دیتا ہے میرے ...

مزید پڑھیے

رات کا وہ پہر بھی آئے گا

رات کا وہ پہر بھی آئے گا جھومے گی لو چراغ گائے گا عشق جب ہم کو آزمائے گا اپنی تاریخ بھول جائے گا جھوٹ کو سچ سمجھنے والوں پر آئنہ قہقہے لگائے گا سوچتا ہوں تو خوف آتا ہے تو بھی رستے میں چھوڑ جائے گا وہ تو ناداں ہے کوئی روکو اسے وہ زمانے سے ہار جائے گا ہم نے پل پل کو آزمایا ہے اب ...

مزید پڑھیے

جس نے رکھا ہے ہمیشہ نفرتوں کے درمیاں

جس نے رکھا ہے ہمیشہ نفرتوں کے درمیاں وہ دھڑکتا پھر رہا ہے دھڑکنوں کے درمیاں زندگی کو غور سے دیکھا تو مجھ کو یوں لگا ایک طوائف جس طرح ہو منچلوں کے درمیاں اس حریم ناز سے شکوہ کیا تھا ایک دن منزلیں بکھری پڑی ہیں راستوں کے درمیاں بے بسی سی بے بسی ہے کیا کہیں کس سے کہیں میں تو پیاسا ...

مزید پڑھیے

محبت ابتدا میں ہے جفائیں نا مناسب ہیں

محبت ابتدا میں ہے جفائیں نا مناسب ہیں تمہارے روٹھنے کی یہ ادائیں نا مناسب ہیں یہ شاید عمر ایسی تھی محبت ہو گئی مجھ کو مگر اس عمر میں اتنی سزائیں نا مناسب ہیں تمہارے شہر سے جانا مقدر تھا سو جھیلا ہے مگر اس میں رقیبوں کی دعائیں نا مناسب ہیں ابھی سے ہجر کی تلخی میں مر جاؤں گا جان ...

مزید پڑھیے

سینے میں راز عشق چھپایا نہ جائے گا

سینے میں راز عشق چھپایا نہ جائے گا یہ آگ وہ ہے جس کو دبایا نہ جائے گا سن لیجیے کہ ہے ابھی آغاز عاشقی پھر ہم سے اپنا حال سنایا نہ جائے گا اب صلح و آشتی کے زمانے گزر گئے اب دوستی کا ہاتھ بڑھایا نہ جائے گا ہم آہ تک بھی لا نہ سکیں گے زبان پر وہ روٹھ جائیں گے تو منایا نہ جائے گا وہ دور ...

مزید پڑھیے

آ کے وہ مجھ خستہ جاں پر یوں کرم فرما گیا

آ کے وہ مجھ خستہ جاں پر یوں کرم فرما گیا کوئی دم بیٹھا دل ناشاد کو بہلا گیا کون لا سکتا ہے تاب اس کے رخ پر نور کی جس طرف سے ہو کے گزرا برق سی لہرا گیا آنکھ بھر کر دیکھ لینا کچھ خطا ایسی نہ تھی کیا خبر کیوں ان کو مجھ پر اتنا غصہ آ گیا پھر گئی اک اور ہی دنیا نظر کے سامنے بیٹھے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

کل شام لب بام جو وہ جلوہ نما تھا

کل شام لب بام جو وہ جلوہ نما تھا کس شوق سے میں دور کھڑا دیکھ رہا تھا جب دوست بھی دشمن کا طرف دار ہوا تھا ٹھنکا تھا اسی دن سر محفل مرا ماتھا گونجا ہوا اک نغمہ سر ارض و سما تھا نغمہ تھا کہ بیتی ہوئی صدیوں کی صدا تھا بھولی نہیں اجڑے ہوئے گلشن کی بہاریں ہاں یاد ہیں وہ دن کہ ہمارا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3972 سے 6203