قومی زبان

ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے (ردیف .. ت)

ہر شخص اپنے آپ میں سہما ہوا سا ہے دیکھو تو شہر سوچو تو ویرانیاں بہت لیٹا ہوا پنگوڑے میں تکتا ہے آسماں لکھی ہوئی ہیں آنکھوں میں حیرانیاں بہت زائیدگان شب کو گوارا نہیں سحر ڈستی ہیں ان کو صبح کی تابانیاں بہت دیں کیسے اس کا ہاتھ زمانے کے ہاتھ میں اب تک تو کی ہیں اس کی نگہبانیاں ...

مزید پڑھیے

رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

رات کاٹی ہے جاگ کر بابا دن گزارا ہے دار پر بابا ہاتھ آیا نہ روشنی کا سراب دور تھا چاند کا نگر بابا اپنے مرکز سے دور ہو کر ہم ہو گئے اور در بدر بابا چوٹ کھا کر سنبھل نہ پائے ہم پھول پھینکا تھا تاک کر بابا ہم فقیروں میں مل کے بیٹھ کبھی تخت طاؤس سے اتر بابا راستوں کے عذاب سے ڈر ...

مزید پڑھیے

شہر طرب میں آج عجب حادثہ ہوا

شہر طرب میں آج عجب حادثہ ہوا ہنستے میں اس کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑا حیران ہو کے سوچ رہا تھا کہ کیا کہوں اک شخص مجھ سے میرا پتہ پوچھنے لگا ہالہ نہیں ہے آتش فرقت کی آنچ ہے تارا نہ تھا تو چاند کا پہلو سلگ اٹھا اب یاد بھی نہیں کہ شکایت تھی ان سے کیا بس اک خیال ذہن کے گوشے میں رہ ...

مزید پڑھیے

گھوم رہے ہیں آنگن آنگن چاند ہوا اور میں

گھوم رہے ہیں آنگن آنگن چاند ہوا اور میں ڈھونڈ رہے ہیں بچھڑا بچپن چاند ہوا اور میں بھولا بسرا افسانہ ہیں آج اس کے نزدیک کل تک تھے جس دل کی دھڑکن چاند ہوا اور میں خوابوں سے بے نام جزیروں میں گھومے سو بار یادوں کا تھامے ہوئے دامن چاند ہوا اور میں اپنے ہی گھر میں ہیں یا صحرا میں ...

مزید پڑھیے

چلو واپس چلیں

تمہیں خواہش کو چھونے کی تمنا ہے خواہشیں تو اڑتی‌ پھرتی تتلیاں ہیں ڈاک کی ناکارہ ٹکٹیں تو نہیں ہیں جنہیں البم میں رکھ کر تم یہ سمجھو کہ یہ نایاب چیزیں اب تمہاری دسترس میں ہیں تمہیں سپنے پکڑنے کی تمنا ہے نہیں یہ غیر ممکن ہے کہ سپنے ان چھوئے لمحوں کے نازک عکس ہیں آرائشی بیلیں ...

مزید پڑھیے

سفر میں ایک جگ تمام ہو گیا

سفر میں ایک جگ تمام ہو گیا اب اپنے گھر کا راستہ بھی کھو گیا پھر اس کے پیرہن کی بو نہ مل سکی وہ میرے خوں میں آستیں ڈبو گیا وہ نیشتر جو اس کے ہاتھ میں نہ تھا گیا تو میری سانس میں پرو گیا اب آنسوؤں کی فصل کاٹتے رہو جدائیوں کے بیج وہ تو بو گیا نہ جانے کس نگر آج شام ہو سحر ہوئی تو جی ...

مزید پڑھیے

تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے

تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے گل کو بھی ہاتھ لگاؤ تو لہو دیتا ہے نیشتر اور سہی کار دگر اور سہی دل صد چاک اگر اذن رفو دیتا ہے تاب فریاد بھی دے لذت بیداد بھی دے دینے والے جو مجھے سوز گلو دیتا ہے ہم تو برباد ہوئے برگ خزاں کی صورت شاخ گل کون تجھے ذوق نمو دیتا ہے منصفو ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

صبح آنکھ کھلتی ہے ایک دن نکلتا ہے

صبح آنکھ کھلتی ہے ایک دن نکلتا ہے پھر یہ ایک دن برسوں ساتھ ساتھ چلتا ہے کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے قافلے تو صحرا میں تھک کے سو بھی جاتے ہیں چاند بادلوں کے ساتھ ساری رات چلتا ہے دل چراغ محفل ہے لیکن اس کے آنے تک بار بار بجھتا ہے بار ...

مزید پڑھیے

پل رہے ہیں کتنے اندیشے دلوں کے درمیاں

پل رہے ہیں کتنے اندیشے دلوں کے درمیاں رات کی پرچھائیاں جیسے دیوں کے درمیاں پھر کسی نے ایک خوں آلود خنجر رکھ دیا خوف کے ظلمت کدے میں دوستوں کے درمیاں کیا سنہری دور تھا ہم زرد پتوں کی طرح در بہ در پھرتے رہے پیلی رتوں کے درمیاں اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ پارساؤں دیوتاؤں ...

مزید پڑھیے

پہلے ہی بار دوش ہیں سر بھی گئے تو کیا

پہلے ہی بار دوش ہیں سر بھی گئے تو کیا جاناں ہم اپنی جاں سے گزر بھی گئے تو کیا جینا متاع خویش نہ مرنا عطائے غیر جیتے رہے تو کیا ہے جو مر بھی گئے تو کیا دل خوں ہے ایک ترک محبت کے داغ سے رسوائیوں کے داغ اتر بھی گئے تو کیا مٹی میں اعتبار نمو ڈھونڈھتا ہوں میں بادل ہوا کے ساتھ بکھر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3971 سے 6203