قومی زبان

کبھی اپنوں کی یورش تھی کبھی غیروں کا ریلا تھا

کبھی اپنوں کی یورش تھی کبھی غیروں کا ریلا تھا ترے ملنے کی خاطر ہم نے کیا کیا دکھ نہ جھیلا تھا مرے احباب کیا بے وقت میرے پاس آ بیٹھے گھٹا گھنگھور تھی وہ اپنے کمرے میں اکیلا تھا ہمارا شام تنہائی میں پرساں ہی نہ تھا کوئی وہ جس محفل میں جاتے تھے وہیں یاروں کا میلا تھا محبت کی جنوں ...

مزید پڑھیے

کیسا غضب یہ اے دل پر جوش کر دیا

کیسا غضب یہ اے دل پر جوش کر دیا تیری روش نے ان کو جفا کوش کر دیا اس چشم پر خمار کی سر مستیاں نہ پوچھ سب کو بہ قدر حوصلہ مے نوش کر دیا مجبور ہو چکی تھی زباں عرض حال پر لیکن تری نگاہ نے خاموش کر دیا ان کی جفاؤں پر بھی وفا کا ہوا گماں اپنی وفاؤں کو بھی فراموش کر دیا قربان اس نگاہ کے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

تئیس برس سے وہ گھر سے باہر نہیں نکلا سب دروازے بند پڑے ہیں باہر کا خوف اسے سونے نہیں دیتا اندر گہری رات چیخ رہی ہے اور باہر سرخ آندھی ایک پاگل کتا اپنی لمبی سوکھتی جیبھ لٹکائے شہر کی سڑکوں پر تئیس برس سے گھوم رہا ہے اسے ڈھونڈ رہا ہے

مزید پڑھیے

شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں

شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں فصل گل ایسی کہ ارزاں ہو گئے کاغذ کے پھول اب کوئی گل پیرہن زریں قبا ملتا نہیں آشنا چہروں سے رنگ آشنائی اڑ گیا ہم زباں اب خشک پتوں کے سوا ملتا نہیں ایک سناٹا ہے شبنم سے شعاع نور تک اب کوئی آنچل پس موج ...

مزید پڑھیے

ہم تیرگی میں شمع جلائے ہوئے تو ہیں

ہم تیرگی میں شمع جلائے ہوئے تو ہیں ہاتھوں میں سرخ جام اٹھائے ہوئے تو ہیں اس جان انجمن کے لیے بے قرار دل آنکھوں میں انتظار سجائے ہوئے تو ہیں میلاد ہو کہ مجلس غم مبتلا ترے آنگن میں دل کے فرش بچھائے ہوئے تو ہیں حزب حرم نے شوق جنوں کو بڑھا دیا سینے سے ہم بتوں کو لگائے ہوئے تو ...

مزید پڑھیے

اب یہی سایۂ دیوار مرا گھر ٹھہرا

اب یہی سایۂ دیوار مرا گھر ٹھہرا اسے چھوڑوں بھی تو کیسے مرا پیکر ٹھہرا اب کسی اور جزیرے کا سفر کیوں کیجے میں بھی انسان ہوں آشوب کا خوگر ٹھہرا وقت کا اپنا سفر ابر کی اپنی منزل ایک پل کے لئے سایہ مرے در پر ٹھہرا پھر اسے پیاس کے صحرا سے پکارا میں نے میں کہ مواج سمندر کا شناور ...

مزید پڑھیے

کون دیکھے میری شاخوں کے ثمر ٹوٹے ہوئے

کون دیکھے میری شاخوں کے ثمر ٹوٹے ہوئے گھر سے باہر راستوں میں ہیں شجر ٹوٹے ہوئے لٹ گیا دن کا اثاثہ اور باقی رہ گئے شام کی دہلیز پر لعل و گہر ٹوٹے ہوئے یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے رات ہے اور آتی جاتی ساعتیں آنکھوں میں ہیں جیسے آئینے ...

مزید پڑھیے

امید کا باب لکھ رہا ہوں

امید کا باب لکھ رہا ہوں پتھر پہ گلاب لکھ رہا ہوں وہ شہر تو خواب ہو چکا ہے جس شہر کے خواب لکھ رہا ہوں اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں وہ چہرہ تو آئینہ نما ہے میں جس کو حجاب لکھ رہا ہوں صحرا میں وفور تشنگی سے سائے کو سحاب لکھ رہا ہوں لمحوں کے سوال سے ...

مزید پڑھیے

دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا

دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا افق درد سے سینے میں اجالا اترا رات آئی تو اندھیرے کا سمندر امڈا چاند نکلا تو سمندر میں سفینہ اترا پہلے اک یاد سی آئی خلش جاں بن کر پھر یہ نشتر رگ احساس میں گہرا اترا جل چکے خواب تو سر نامہ تعبیر کھلا بجھ گئی آنکھ تو پلکوں پہ ستارا اترا سب ...

مزید پڑھیے

عشق سے اجتناب کر لینا

عشق سے اجتناب کر لینا اپنی مٹی خراب کر لینا ہم نے دنیا کو خوب جھیلا ہے ہم سے کچھ اکتساب کر لینا بے بسی سے نجات مل جائے پھر سوال و جواب کر لینا چھوڑ عزت مآب لوگوں کو خود کو عالی جناب کر لینا کل تجھے کچھ گناہ کرنے ہیں آج کار ثواب کر لینا اس کو بھر لینا اپنی آنکھوں میں اک حقیقت کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3973 سے 6203