کبھی اپنوں کی یورش تھی کبھی غیروں کا ریلا تھا
کبھی اپنوں کی یورش تھی کبھی غیروں کا ریلا تھا ترے ملنے کی خاطر ہم نے کیا کیا دکھ نہ جھیلا تھا مرے احباب کیا بے وقت میرے پاس آ بیٹھے گھٹا گھنگھور تھی وہ اپنے کمرے میں اکیلا تھا ہمارا شام تنہائی میں پرساں ہی نہ تھا کوئی وہ جس محفل میں جاتے تھے وہیں یاروں کا میلا تھا محبت کی جنوں ...