قومی زبان

ہوا کم نہ جس کا اثر زندگی بھر

ہوا کم نہ جس کا اثر زندگی بھر نظر میں رہی وہ نظر زندگی بھر ہم ان کے تصور میں کھوئے ہوئے ہیں نہ ہو ان کو شاید خبر زندگی بھر ہمارے تصور میں تھا جس کا نقشا نہ پایا ہمیں وہ ہی گھر زندگی بھر نہ آئے گا وہ لوٹ کر یہ خبر تھی رہا منتظر میں مگر زندگی بھر کہیں بے ہنر ہم اسے کس ہنر سے نہ آیا ...

مزید پڑھیے

گفتار بدل کر کبھی کردار بدل کر

گفتار بدل کر کبھی کردار بدل کر تقدیر میں یوں جیت لکھی ہار بدل کر اب میرؔ کے غالبؔ کے وہ اسلوب کہاں ہیں اشعار کہے جاتے ہیں معیار بدل کر سر دردی کے عنوان سبھی میں ہیں بہ کثرت ہم نے تو یہی پایا ہے اخبار بدل کر ہوتی ہے ہر اک جنگ میں کیوں ہار ہماری دیکھو تو کبھی قافلہ سالار بدل ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ سے اکثر نظارے چھوٹ جاتے ہیں

ہماری آنکھ سے اکثر نظارے چھوٹ جاتے ہیں سفر میں ہم سفر بن کر ہمارے چھوٹ جاتے ہمارے ہاتھ سے خوشیاں نکل جائیں تو غم کیسا فلک کے ہاتھ سے بھی تو ستارے چھوٹ جاتے ہیں کبھی کشتی مری خود چھوڑ دیتی ہے کناروں کو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کنارے چھوٹ جاتے ہیں ندامت کے کبھی دو چار آنسو بھی ...

مزید پڑھیے

فکر و تخیلات کے پر زندہ ہیں ابھی

فکر و تخیلات کے پر زندہ ہیں ابھی بوڑھے ضرور ہیں یہ مگر زندہ ہیں ابھی سائے میں زندگی کو بتانے کے واسطے راہ حیات کے وہ شجر زندہ ہیں ابھی اس کو لگا کی چاہنے والے نہیں میرے لیکن اسے ملی یہ خبر زندہ ہیں ابھی مایوس و نا امید نہ ہوں گے کبھی بھی ہم امید کے یہ شمس و قمر زندہ ہیں ابھی ہم ...

مزید پڑھیے

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ اتنی اچھی نہیں وفا مرے ساتھ یار جو مجھ پہ جان وارتے تھے کیا کوئی واقعی مرا مرے ساتھ میں تو کمزور تھا میں کیا لڑتا وہ مگر پھر بھی لڑ پڑا مرے ساتھ میں پریشان تو نہیں مرے دوست اتنی ہمدردی مت جتا مرے ساتھ اے خدا تو تو جانتا ہے مجھے تو نے اچھا نہیں کیا ...

مزید پڑھیے

سو جاؤں پر کیسے سویا جا سکتا ہے

سو جاؤں پر کیسے سویا جا سکتا ہے اس کو بند آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے پانی پر تصویر بنائی جا سکتی ہے اس کا نام ہوا پر لکھا جا سکتا ہے اب میں جتنی چاہوں خاک اڑا سکتا ہوں جتنا چاہوں اتنا رویا جا سکتا ہے سادہ دل دیہاتی تھا سو مان گیا میں حالانکہ اس گھر تک رکشا جا سکتا ہے کیا ہم پہلے ...

مزید پڑھیے

آوازۂ خیال کہیں گونجتا ہوا

آوازۂ خیال کہیں گونجتا ہوا اور اس پہ سارا صحن سخن جاگتا ہوا دست دعا بلند ہوا تھا یہیں کہیں اپنے لیے خدا سے تجھے مانگتا ہوا آخر میں تھک کے بیٹھ گیا خشک گھاس پر پھولوں کے درمیان تجھے ڈھونڈھتا ہوا حیرت ہماری آنکھ کو للکارتی ہوئی منظر درون خواب کوئی دوڑتا ہوا لوگوں کے ساتھ صف ...

مزید پڑھیے

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں ہم ایسوں کو اچھا خاصا رونا آتا ہے سب اس شخص سے مل کر بالکل تازہ دم ہو جاتے ہیں پھر اس دن تصویر میں سب کا چہرہ اچھا آتا ہے باغ سے پھول چرانے والی لڑکی کو یہ کیا معلوم اس کے قدموں کی ہر چاپ پہ پھول کو کھلنا آتا ہے ہم یہ بات بڑے بوڑھوں ...

مزید پڑھیے

اچھا لگ جائے کیا برا لگ جائے

اچھا لگ جائے کیا برا لگ جائے اس کی قربت میں خوف سا لگ جائے بس وہ اک سرسری نظر ڈالے اور بیمار کو شفا لگ جائے اس کا انکار ایسے لگتا ہے جیسے پاؤں میں کانٹا لگ جائے دھند میں ہاتھ چھوڑنے والے تجھ کو موسم کی بد دعا لگ جائے کیسے اس کا وجود ثابت ہو ملحدوں کو اگر خدا لگ جائے روز اک باغ ...

مزید پڑھیے

اس قدر افسردگی محسوس کی

اس قدر افسردگی محسوس کی میں نے جب اس کی کمی محسوس کی رات میں سویا تھا دریا کے قریب خواب میں اک جل پری محسوس کی اس کے آنے کا یقیں بڑھنے لگا فرش دل پر گھاس اگی محسوس کی آج پھر وہ در کھلا تھا دھیان میں اور اک دیوار سی محسوس کی وقت کا کرنے لگے ہم احترام ہر محبت آخری محسوس کی موت جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 397 سے 6203