قومی زبان

یہ تم نے پاؤں کیا رکھا ہوا تھا

یہ تم نے پاؤں کیا رکھا ہوا تھا زمیں نے حوصلہ رکھا ہوا تھا پرندوں سے ہماری دوستی تھی شجر سے واسطہ رکھا ہوا تھا تبھی ہم جی رہے تھے خوش دلی سے کہ تم نے رابطہ رکھا ہوا تھا بظاہر لگ رہی تھی اینٹ لیکن سڑک پر حادثہ رکھا ہوا تھا کسی نے گھر بڑے رکھے ہوئے تھے کسی نے دل بڑا رکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ خواب پریشان کی تسلی ہوئی

نہیں کہ خواب پریشان کی تسلی ہوئی در و دوار سے انسان کی تسلی ہوئی تمام نام ہی ناموں سے ملتے جلتے تھے تمہارے نام سے مجھ کان کی تسلی ہوئی اگرچہ کمروں میں اے سی لگے ہوئے تھے وہاں مگر جو پیڑ سے مہمان کی تسلی ہوئی یہ کب سے میز پہ خالی دھرا ہوا تھا وسیمؔ پھر ایک پھول سے گلدان کی تسلی ...

مزید پڑھیے

بھوکے جسموں کی خواہشوں کے لیے

بھوکے جسموں کی خواہشوں کے لیے ہم ملے تھے ضرورتوں کے لیے جھانک لینا برا نہیں ہوتا اچھا ہوتا ہے کھڑکیوں کے لیے چار حصوں میں بٹ کے رہ جانا کتنا مشکل ہے آنگنوں کے لیے میری ہر نظم لڑکیوں پہ نثار میرا ہر شعر عورتوں کے لیے بھیگ جانا مجھے بھی آتا ہے ایک اعلان بارشوں کے لیے دھوبیوں ...

مزید پڑھیے

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے کسی نے نیند میں آ کر نہیں چھوا ہم کو یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے پہل پہل تو وہ ہونٹوں سے دیکھے جاتے رہے پھر اس کے بعد مری آنکھ ...

مزید پڑھیے

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے دل کسی اور جا اڑا ہوا ہے روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے کیسے کہہ دوں میں حال دل اس سے وہ مرے سامنے بڑی ہوئی ہے جیت جاتی ہے مجھ سے باتوں میں بڑے اسکول کی پڑھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

تمناؤں میں الجھے رہ گئے ہیں

تمناؤں میں الجھے رہ گئے ہیں ہمارے بچے بوڑھے رہ گئے ہیں وہ آنکھیں کتنا آگے جا چکی ہیں سمندر کتنا پیچھے رہ گئے ہیں ابھی تنہا وہ گزری ہے یہاں سے ہزاروں دل دھڑکتے رہ گئے ہیں جنہیں بانہوں میں بھر کر سو رہی ہو بہت اچھے وہ تکیے رہ گئے ہیں بظاہر اک نیا پن آ چکا ہے مگر یہ دل پرانے رہ ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا سمے بتا رہے ہیں

اپنا اپنا سمے بتا رہے ہیں ہم تعلق کہاں نبھا رہے ہیں وہ بھی سب آپ کا دیا ہوا تھا یہ بھی ہے آپ کا جو کھا رہے ہیں سو رہے ہیں کسی کے پہلو میں اور ترا خواب گنگنا رہے ہیں اس کے چہرے سے صبح اٹھائی ہے اس کی آنکھوں سے شب چرا رہے ہیں داد وہ دے نہیں رہے ہیں مگر میرے شعروں سے حظ اٹھا رہے ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ کر جاتا ہے

لمحوں کے ریزوں کی ہلکی بارش میں سب کتنے خوش خوش پھرتے ہیں ان خوش خوش پھرنے والوں کو یہ کون بتائے کیسے نظر نہ آنے والے ریزے لمحوں کے جب جڑ جاتے ہیں ایک پہاڑ سا بھاری لمحہ بن جاتے ہیں جو چپکے سے اپنی لمبی اور چمکیلی دم لہراتا آ جاتا ہے سر پر دھم سے آ گرتا ہے ریزہ ریزہ کر جاتا ہے!!

مزید پڑھیے

بے کراں وسعتوں میں تنہا

سفر میں ہوں اور رکا کھڑا ہوں میں چاروں سمتوں میں چل رہا ہوں مگر کہاں ہوں وہیں جہاں سرخ روشنائی کا ایک قطرہ کسی قلم کی کثیف نب سے ٹپک پڑا ہے میں خود بھی شاید کسی قلم سے گرا ہوا ایک سرخ قطرہ ہوں زندگی کی سجل جبیں پر چمکتی بندیا سی بن گیا ہوں مگر میں بندیا نہیں ہوں شاید کہ وہ تو تقدیس ...

مزید پڑھیے

اک بے انت وجود

اک بے انت وجود ہے اس کا گہرے کالے مخمل ایسا جس پر لاکھوں اربوں آنکھیں نقش ہوئی ہیں ان آنکھوں میں میں اک ایسی آنکھ ہوں جس نے ایک ہی پل میں سارا منظر اور منظر کے پیچھے کا سب خالی منظر دیکھ لیا ہے تکنا اس نے سیکھ لیا ہے پر وہ گہرا کالا مخمل اس کو اس سے غرض نہیں ہے کون سی آنکھ کو بینائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 398 سے 6203