قومی زبان

سدرۃ الوصل کے سائے کا طلب گار ہوں میں

سدرۃ الوصل کے سائے کا طلب گار ہوں میں تپش ہجر میں برسوں سے گرفتار ہوں میں جا کسی اور کو جا دھمکیاں دے مارنے کی جب سے میں پیدا ہوا تب سے سر دار ہوں میں میرا پیغام بھلا تیغ کہاں روکے گی حاکم وقت کو بتلاؤ قلمکار ہوں میں میں نے تو رب کو بھی پوجا ہے اور اس یار کو بھی واعظا تو ہی بتا کس ...

مزید پڑھیے

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ یہ میرا صبر ہے یہ مجھ پسے ہوئے کا صبر خدائے قہر تو آ قہر آزما کر دیکھ غرور وار دیا میں نے فی‌ سبیل العشق اے عشق تو بھی تو اب تھوڑا حوصلہ کر دیکھ میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گستاخ تو ایک بار مجھے سینے سے ...

مزید پڑھیے

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے جو تجھ کو سینے لگاتا ہے وہ ترا نہیں ہے وہاں پہ ہم بھی ہیں موجود ڈھونڈنے والی سو تیرے دل میں اکیلا ترا خدا نہیں ہے تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لئے ہوئے ہو ذلیل تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے ہیں بد دماغ مری طرح میرے سارے دوست کوئی بھی دنیا کے بارے ...

مزید پڑھیے

وہ ذمہ داری کتنی خوشی سے نبھائی تھی

وہ ذمہ داری کتنی خوشی سے نبھائی تھی اس کو سرائی کی زباں میں نے سکھائی تھی میں نے جہاں پہ پیاس کو سیراب کر دیا دریا کی ایک لہر مرے ہاتھ آئی تھی جنگ عرب میں چھوڑ گئے جب حمایتی کوفہ کے اک جواں نے مری جاں بچائی تھی عورت سے بحث کرنا سمجھتا تھا بس ہتک اور نظریاتی لڑکی بھی دل میں بسائی ...

مزید پڑھیے

من کی مے ہو تو پیالے نہیں دیکھے جاتے

من کی مے ہو تو پیالے نہیں دیکھے جاتے عشق ہو جائے تو چہرے نہیں دیکھے جاتے میں بگڑتے ہوئے بچوں کو بھی کب ڈانٹتا ہوں مجھ سے روتے ہوئے بچے نہیں دیکھے جاتے حملہ آور کو میں اب خود ہی ریاست دے دوں اپنے لوگوں پہ یہ حملے نہیں دیکھے جاتے تیرنا آتا ہے تو چھوڑ مجھے تو تو نکل موقع ایسا ہو تو ...

مزید پڑھیے

زخم کھاتے ہیں جی جلاتے ہیں

زخم کھاتے ہیں جی جلاتے ہیں ہم کہاں ایسے باز آتے ہیں زندگی روز گھٹتی جاتی ہے مسئلے روز بڑھتے جاتے ہیں اب کہاں بھوت اور بلائیں رہیں آدمی آدمی کو کھاتے ہیں ایک وہ ہم سے دور رہ کے بھی خوش ایک ہم اپنا دل جلاتے ہیں خاک سے خاک بھی نہیں ملتی روز ہم خاک چھان آتے ہیں موسم نارسائی آیا ...

مزید پڑھیے

بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی

بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی کچھ اور مانگ جان سے پیاروں کے بعد بھی کیا سوچ روشنی سے زیادہ ہے تیز رو ہم بند رہ سکے نہ فصیلوں کے بعد بھی تصویر سے زیادہ تصور کی عمر ہے کچھ خواب زندہ رہتے ہیں آنکھوں کے بعد بھی پھر خوف سے بے فکر ہی کرنا پڑا اسے بدلی نہ میری قوم عذابوں کے بعد ...

مزید پڑھیے

جو تجھے اور مجھے ایک کر سکا نہیں

جو تجھے اور مجھے ایک کر سکا نہیں وہ ترا خدا نہیں وہ مرا خدا نہیں زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں میں جو اس دیار میں اب تلک نہیں مرا کیا مرا کوئی عزیز اب یہاں بچا نہیں جس کے احترام میں سر کٹا دیا گیا اس کو تو خبر نہیں اس کو تو پتا نہیں خود سے دور ہو ...

مزید پڑھیے

یہ مانتا ہوں کہ سو بار جھوٹ کہتا ہے

یہ مانتا ہوں کہ سو بار جھوٹ کہتا ہے مگر یہ سچ ہے وہ تم سے ہی پیار کرتا ہے ارے وہ ہوگا منافق تمہارا یار نہیں ہر ایک بات پہ جو ہاں میں ہاں ملاتا ہے کہوں میں اچھا برا یا کروں کوئی بکواس مرا خدا ہی تو ہر بات میری سنتا ہے معاشرے کا بڑا ایک المیہ یہ ہے یہاں پہ جرم زیادہ فروغ پاتا ...

مزید پڑھیے

ڈر رہا ہوں نہ خوف کھا رہا ہوں

ڈر رہا ہوں نہ خوف کھا رہا ہوں بے سبب بات کو بڑھا رہا ہوں اس کی خوشبو پہن رہا ہوں کبھی کبھی آواز میں نہا رہا ہوں پھول تک اس کو دے نہیں سکتا پھر ہرے باغ کیوں دکھا رہا ہوں کر رہا ہوں میں بات ایک سے اور دوسرے شخص کو سنا رہا ہوں بے تحاشا دکھائی دے وہ مجھے ہر طرف آئنے لگا رہا ہوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 396 سے 6203