قومی زبان

بے سبب ہو کے بے قرار آیا

بے سبب ہو کے بے قرار آیا میرے پیچھے مرا غبار آیا چند یادوں کا شور تھا مجھ میں میں اسے قبر میں اتار آیا اس کو دیکھا اور اس کے بعد مجھے اپنی حیرت پہ اعتبار آیا بھول بیٹھا ہے رنگ گل مرا دل پرتو گل پہ اتنا پیار آیا ایک دنیا کو چاہتا تھا وہ ایک دنیا میں اس پہ وار آیا سانس لیتی تھی ...

مزید پڑھیے

یقین کی سلطنت تھی اور سلطانی ہماری

یقیں کی سلطنت تھی اور سلطانی ہماری دمکتی تھی دعا کی لو سے پیشانی ہماری مہکتا تھا گھنے پیڑوں سے ویرانہ ہمارا جہان آب و گل پر تھی نگہبانی ہماری ہمارے جسم کے ٹکڑے ہوئے روندے گئے ہم مگر زندہ رہی آنکھوں میں حیرانی ہماری ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے ترے منظر میں آ جائے نہ ...

مزید پڑھیے

بھلا دیا بھی اگر جائے سرسری کیا جائے

بھلا دیا بھی اگر جائے سرسری کیا جائے مطالعہ مری وحشت کا لازمی کیا جائے ہم ایسے لوگ جو آئندہ و گزشتہ ہیں ہمارے عہد کو موجود سے تہی کیا جائے خبر ملی ہے کہ اس خوش خبر کی آمد ہے سو اہتمام سخن آج ملتوی کیا جائے ہمیں اب اپنے نئے راستے بنانے ہیں جو کام کل ہمیں کرنا ہے وہ ابھی کیا ...

مزید پڑھیے

سفر

آوازیں رات کی خاموشی میں اوجھل ہونے کا سندیسہ لائی ہیں چاند کے آدھے ٹکڑے پر کچھ خوابوں کی تدفین ہوئی ہے گھڑے کا پانی قطرہ قطرہ ڈول رہا ہے دیواروں کی مٹی میں برسوں سے گوندھی کچھ پوروں کا لمس اچانک قلب کدے میں چیخ پڑا ہے رات کے کالے توے پر وحشت کی روٹی پکنے کو تیار پڑی ہے گھڑی کی ...

مزید پڑھیے

''دیوانوں کا نام ابد تک ہوتا ہے''

سنا ہے اس نے پڑھتے پڑھتے آنکھوں کو حیران کیا ہے پشت سے لپٹے آئینوں کے زنگاروں کا دھیان کیا ہے صدیوں پر پھیلی، ان دیکھی روشنیوں کا گیان کیا ہے پل دو پل وشرام کیا تھا سنا ہے اس نے لکھتے لکھتے دفتر میں اپنے جیون کے دن کاٹے تو راتوں کا وردان دیا ہے گہری فکر کے موٹے موٹے شیشے پہن ...

مزید پڑھیے

دو دھاری تلوار

خواہش کی تسکیں کی خاطر اپنے لا یعنی جذبوں کو لوح دل پر آنک رہے ہیں دیش بدیش کی خاک چھان کے گرتے پڑتے پھانک رہے ہیں اپنی دید سے غافل رہ کر نا دیدہ کو جھانک رہے ہیں

مزید پڑھیے

تخلیق بے ثبات کا ذرہ نظیر ہوں

تخلیق بے ثبات کا ذرہ نظیر ہوں ساحل کی ریت پر کوئی لکھی لکیر ہوں گردش ہے زندگی مری منزل رسا نہیں مصروف کار کوہ کن اک جوئے شیر ہوں مال و متاع و ثروت جاں کچھ مرا نہیں ہاں گردش زماں نے دکھایا فقیر ہوں زندان دہر ہے مجھے اک قصر دلفریب اپنی ہی خواہشات کا ایسا اسیر ہوں جتنا نکلنا چاہا ...

مزید پڑھیے

اب کس کی جستجو ہو تری جستجو کے بعد

اب کس کی جستجو ہو تری جستجو کے بعد جچتا نہیں ہے کوئی تری آرزو کے بعد ترک وفا کے بعد ہے تجدید التفات مثل لباس کہنہ جو پہنا رفو کے بعد کرتے ہیں بہکی بہکی سی باتیں جناب شیخ آتے ہیں آپ ہوش میں صرف سبو کے بعد لازم نہیں کہ جنگ و جدل سے ہی کام لیں ہو جائے مسئلوں کا جو حل گفتگو کے بعد دل ...

مزید پڑھیے

ہے اک غم جہاں تو غم یار کم نہیں

ہے اک غم جہاں تو غم یار کم نہیں اس مختصر سی عمر میں آزار کم نہیں پہلے کی طرح اب وہ کہاں نکہت چمن گرچہ کہ رنگ غنچہ گلزار کم نہیں عنقا ہے اب خلوص کہ ناپید ہے وفا دنیا میں گو کہ حسن کے بازار کم نہیں قیمت تو اپنی جنس وفا کی لگا کے دیکھ ہم بھی دکھائیں ظرف خریدار کم نہیں اک بار درد دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3959 سے 6203