قومی زبان

حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہو

حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہو سچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہو ہائے دشمن دیکھیں ان کے اٹھتے جوبن کی بہار ہائے میں کوئی نہ ہوں میری نظر کوئی نہ ہو اس تمنا پر کٹے مرتے ہیں مشتاقان قتل یار پر قربان ہم سے پیشتر کوئی نہ ہو وہ قیامت کی گھڑی ہے طالب دیدار پر جب اٹھے پردا تو ...

مزید پڑھیے

کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہے

کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہے کچھ یہ بے چپن طبیعت بھی بری ہوتی ہے جیتے جی میرے نہ آئے تو نہ آئے اب آؤ کیا شہیدوں کی زیارت بھی بری ہوتی ہے آپ کی ضد نے مجھے اور پلائی حضرت شیخ جی اتنی نصیحت بھی بری ہوتی ہے اس نے دل مانگا تو انکار کا پہلو نہ ملا خانہ برباد مروت بھی بری ہوتی ...

مزید پڑھیے

حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا

حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا عشق اپنے مجرموں کو پا بجولاں لے چلا خون ناحق کی حیا بولی ذرا منہ ڈھانک لو ناز جب ان کو سر خاک شہیداں لے چلا خاک عاشق روکنے کو دور تک لپٹی گئی جب سمند ناز کو وہ گرم جولاں لے چلا جب چلی مقتل سے قاتل کی سواری رات کو آگے آگے مشعلیں خون شہیداں لے ...

مزید پڑھیے

تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے

تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے اور یہ خانماں خراب بھی ہے وہ بھی ہیں ساغر شراب بھی ہے چاند کے پاس آفتاب بھی ہے بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر ارے کمبخت کچھ حساب بھی ہے پوچھتے جاتے ہیں یہ ہم سب سے مجلس وعظ میں شراب بھی ہے دیکھ آؤ مریض فرقت کو رسم دنیا بھی ہے ثواب بھی ہے

مزید پڑھیے

ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا

ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا دیکھ دیکھا نہیں دیکھا جاتا قتل کرنے کی وہ جلدی تھی تمہیں اب تڑپنا نہیں دیکھا جاتا چشم خوں بار خدا رحم کرے تیرا رونا نہیں دیکھا جاتا الفت ان کی نہیں چھوڑی جاتی حال دل کا نہیں دیکھا جاتا دیکھنے ہی کے لئے ہیں آنکھیں ان سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا پر ...

مزید پڑھیے

ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیں

ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیں مردے جیتے ہیں زندے مرتے ہیں دیکھ کر مجھ کو بولے دشمن سے ایک دلبر پہ یہ بھی مرتے ہیں جو جواب سلام ان سے دلائے ہم اسے سو سلام کرتے ہیں

مزید پڑھیے

کئے تو نے دور آسماں کیسے کیسے

کئے تو نے دور آسماں کیسے کیسے زمیں کو دکھائے سماں کیسے کیسے ادھر دل ہے مضطر ادھر چشم حیراں ہمارے بھی ہیں راز داں کیسے کیسے اٹھائے ہیں دیدار لیلیٰ کی خاطر شتر غمزۂ سارباں کیسے کیسے کدھر ہیں کیانی و رومی و مغلی جہاں سے اٹھے خانداں کیسے کیسے بس اک حسرت آلودہ طرز نگہ میں سخن ...

مزید پڑھیے

زندگی گر دے خدا عالم نیا پیدا کروں

زندگی گر دے خدا عالم نیا پیدا کروں روز ہو ہو کر فنا رنگ بقا پیدا کروں جلوہ گاہ ناز میں کیوں کر رہوں ثابت قدم ہر جفا کا ہے تقاضا اک وفا پیدا کروں حاصل صد زندگانی اک متاع درد ہے حضرت ناصح کو یہ ضد ہے دوا پیدا کروں یاں تو اظہار تمنا واں خموشی کی ادا مدعا یہ ہے دل بے مدعا پیدا ...

مزید پڑھیے

ہر اک سو مسلط ہیں غم کے دھندلکے

ہر اک سو مسلط ہیں غم کے دھندلکے تو پھر کیوں نہ رہ جائیں آنسو نکل کے ہم آئینۂ دہر میں دیکھتے ہیں وہ رنگیں زمانہ یہ خونیں تہلکے کسی کی جفائیں ارے توبہ توبہ لگے دل پہ نشتر مگر ہلکے ہلکے محبت کی منزل بہت پر خطر ہے اٹھانا قدم اس جگہ تو سنبھل کے خدا کی قسم ہیں بہت پر معانی یہ اشعار ...

مزید پڑھیے

شام غم آنکھوں سے آنسو آستیں پر گر پڑے

شام غم آنکھوں سے آنسو آستیں پر گر پڑے یا کہ تھے دامن میں کچھ موتی زمیں پر گر پڑے پی کے ہم بیرون مے خانہ زمیں پر گر پڑے ہم کو گرنا تھا کہیں اور ہم کہیں پر گر پڑے سوئے منزل تیز گامی تھی کہ تھا وحشت کا جوش کیا خبر ہم کب بڑھے اور کب زمیں پر گر پڑے کوئی کیا جانے کہ یہ حسن خرد ہے یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3935 سے 6203