قومی زبان

چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھا

چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھا آنکھیں جب پھوٹ گئیں تب یہ تماشا دیکھا دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے تمہیں کیسا چاہا پوچھنا یہ ہے کہ تم نے ہمیں کیسا دیکھا پھر جلاؤ گے کبھی طالب دیدار کا خط سیکڑوں آنکھوں سے اس نے تمہیں دیکھا دیکھا کان وہ کان ہے جس نے تری آواز سنی آنکھ وہ آنکھ ہے جس نے ...

مزید پڑھیے

مل گیا دل نکل گیا مطلب

مل گیا دل نکل گیا مطلب آپ کو اب کسی سے کیا مطلب حسن کا رعب ضبط کی گرمی دل میں گھٹ گھٹ کے رہ گیا مطلب نہ سہی عشق دکھ سہی ناصح تجھ کو کیا کام تجھ کو کیا مطلب مژدہ اے دل کہ نیم جاں ہوں میں اب تو پورا ہوا ترا مطلب اپنے مطلب کے آشنا ہو تم سچ ہے تم کو کسی سے کیا مطلب آتش شوق اور بھڑکی ...

مزید پڑھیے

کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا

کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا تو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا وہ اپنی ضد کے پورے ہٹ کے پورے آن کے پورے فقط اتنی کمی ہے قول پورا ہو نہیں سکتا کہاں کی چارہ فرمائی عیادت تک نہیں کرتے مسیحائی پہ مرتے ہیں اور اتنا ہو نہیں سکتا سر طور ان کے جلوے نے پکارا خود نما ہو ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے

وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے میں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہے میں آؤں وعظ میں سو بار جب یہ دل بھی آنے دے کروں کیا واعظو رندوں کی صحبت ہی کچھ ایسی ہے میں کس گنتی میں ہوں اور اک مرے دل کی حقیقت کیا ہزاروں جان دیتے ہیں وہ صورت ہی کچھ ایسی ہے کوئی آئے یہ آتی ...

مزید پڑھیے

چشم ساقی کا جو ایما ہو گیا

چشم ساقی کا جو ایما ہو گیا رند میکش شیخ صنعا ہو گیا مر گیا میں اب تو ہٹ پوری ہوئی لو مری جاں اب تو کہنا ہو گیا ہر گراں جاں کو ہی شوق جنس درد کس قدر سستا یہ سودا ہو گیا آفت جاں تیری قہر آلودہ چشم راحت جاں تیرا ہنسنا ہو گیا کچھ نہ دیکھی ہم نے تاثیر فغاں روتے روتے اک زمانہ ہو گیا آ ...

مزید پڑھیے

قطرۂ اشک کا مژگاں پہ مرے یہ عالم

قطرۂ اشک کا مژگاں پہ مرے یہ عالم صبح دم گھاس کی پتی پہ ہو جیسے شبنم حسرتیں دل کی نکل جاتیں ذرا تو اے کاش ایک ہی رات کو مل بیٹھتے ہم تم باہم سر میں انسان کی منصوبے بھرے تھے کیا کیا ہائے پر موت نے سب کر دئے درہم برہم بے نیازی نے کیا خون تمنا کا مری سینہ میں دل کے تڑپنے سے ہے برپا ...

مزید پڑھیے

روئے زیبا نظر نہیں آتا

روئے زیبا نظر نہیں آتا اپنا جینا نظر نہیں آتا لاف الفت بہت زمانے میں مرنے والا نظر نہیں آتا درد دل کی دوا ہے جس کی نظر وہ مسیحا نظر نہیں آتا گل و گلشن سے کیا تسلی ہو گل رعنا نظر نہیں آتا پھول بوٹے بہت ہیں گلشن میں سرو بالا نظر نہیں آتا طبع مواج کے مقابل ہو ایسا دریا نظر نہیں ...

مزید پڑھیے

خوشا وہ باغ مہکتی ہو جس میں بو تیری

خوشا وہ باغ مہکتی ہو جس میں بو تیری خوشا وہ دشت کہ ہو جس میں جستجو تیری خموش ہے مگر اک عالم تکلم ہے لبوں پہ غنچہ کے گویا ہے گفتگو تیری جگر بھی چاک ہوا دل بھی پارہ پارہ ہوا لگی ہوئی ہے مگر دل سے آرزو تیری مقابل رخ زیبا نہ ہونا اے گل تر کہیں نہ خاک میں مل جائے آبرو تیری اسیر صحن ...

مزید پڑھیے

کس کو معلوم کہ وہ لوگ کہاں رہتے ہیں

کس کو معلوم کہ وہ لوگ کہاں رہتے ہیں تیری دھن میں جو شب و روز رواں رہتے ہیں جو فسانے سبق آموز جہاں رہتے ہیں تا دم مرگ وہی ورد زباں رہتے ہیں تلخئ غم ہی سہی تلخیٔ ایام سہی گامزن ہم بہ رہ زندہ دلاں رہتے ہیں بے زبانی پہ نہ جا اپنی کہ مجذوب سہی خود فراموش حقیقت نگراں رہتے ہیں تیری ...

مزید پڑھیے

خال رخسار کو داغ مہ کامل باندھا

خال رخسار کو داغ مہ کامل باندھا چشم مخمور کو کونین کا حاصل باندھا ہم نے اس شہر ستم گر کے ہر اک ذرہ کو ذوق سجدہ کی قسم سجدہ گہہ دل باندھا ہم نے ہر وادیٔ پر خار کو زینت بخشی سر پہ ہر خار کے اک طرۂ منزل باندھا کوئی دیکھے تو سہی حوصلہ مندی اپنی ہم نے طوفان کی ہر اک موج کو ساحل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3936 سے 6203