قومی زبان

دیار جبر میں بھی سرنگوں نہیں ہوتی

دیار جبر میں بھی سرنگوں نہیں ہوتی خلوص ہو تو محبت زبوں نہیں ہوتی کبھی کبھی تو شب غم کے سرد لمحوں میں تمہاری یاد بھی وجہ سکوں نہیں ہوتی متاع ظرف نے جھکنا ہمیں سکھایا ہے کہ بے شراب صراحی نگوں نہیں ہوتی فریب دیتا ہے جس طرح زندگی کا جمال تری نگاہ بھی یوں پر فسوں نہیں ہوتی فضا کے ...

مزید پڑھیے

ذکر تحریم حرم یا جام صہبا کچھ تو ہو

ذکر تحریم حرم یا جام صہبا کچھ تو ہو روح کی شعلہ مزاجی کا مداوا کچھ تو ہو داغ دل زخم نظر سوز جگر فکر حیات ہم تہی دامن سہی نذر تمنا کچھ تو ہو رہ گزر ویران ہے ہر حادثہ خاموش ہے اے دل ایذا طلب بحر تماشا کچھ تو ہو زندگی پھر اپنے مستقبل سے غافل کیوں ہوئی ساغر امروز میں صہبائے فردا کچھ ...

مزید پڑھیے

کتنی مضطر تھی شب ستاروں میں

کتنی مضطر تھی شب ستاروں میں اوس ڈھلتی رہی شراروں میں پتے پتے کی روح جل اٹھی کیسی سوزش تھی شاخساروں میں آؤ جشن خزاں منائیں ہم اجنبیت سی ہے بہاروں میں چشم ماضی کے خشک آنسو ہیں ذرے اڑتے ہیں جو غباروں میں کیف غم سے جو ہو گئے واقف تھے فسردہ وہ غمگساروں میں ناؤ شاید کسی کی ڈوب ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں ہے سحر کا عالم وہیں وہیں روشنی نہیں ہے

جہاں جہاں ہے سحر کا عالم وہیں وہیں روشنی نہیں ہے ہزار شمعیں ہوئیں ہیں روشن مگر کہیں روشنی نہیں ہے نہ مجھ کو بہکاؤ ان اجالوں کی مہر افروز رنگتوں سے فریب ہے یہ کسی کرن کا نہیں نہیں روشنی نہیں ہے ہمارا ذوق نگاہ اب تک ہے گمرہی کی نقاب اوڑھے عجب تماشا ہے تیرے جلووں میں مہ جبیں روشنی ...

مزید پڑھیے

وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیب

وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیب دل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیب کھائیں گے رحم آپ اگر دل بگڑ گیا ہو جائے گا ملاپ اگر لڑ گیا نصیب شب بھر جمال یار ہو آنکھوں کے روبرو جاگیں نصیب جس کو ہو یہ رتجگا نصیب پہرا دیا ہے دولت بیدار حسن کا سوئے جو وہ بغل میں تو جاگا مرا نصیب پہنچا کے ...

مزید پڑھیے

دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتاب

دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتاب سر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتاب وہ حسن خود فروش اگر بے نقاب ہو مہتاب مشتری ہو خریدار آفتاب پوشیدہ گیسوؤں میں ہوا روئے پر ضیا ہے آج میہمان شب تار آفتاب اس کی تجلیوں سے کرے کون ہم سری ہو جس کے نقش پا سے نمودار آفتاب احباب کو حسنؔ وہ چمکتی غزل سنا ہر ...

مزید پڑھیے

مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہے

مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہے تمہاری دل لگی کو محفل اغیار کیسی ہے ہمارے گھر سے جانا مسکرا کر پھر یہ فرمانا تمہیں میری قسم دیکھو مری رفتار کیسی ہے وہ مجھ سے پوچھتے ہیں غیر سے اور تم سے کیوں بگڑی ذرا ہم بھی سنیں آپس میں یہ تکرار کیسی ہے معاذ اللہ برق حسن کس کی آنکھیں ...

مزید پڑھیے

آئینہ تمہارے نقش پا کا

آئینہ تمہارے نقش پا کا خورشید کو دے سبق جلا کا او وصل میں منہ چھپانے والے یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا جب آنکھ کھلی تو بے خودوں سے پردہ تھا جمال خود نما کا دل اور وہ بت زہے مقدر ظلم اور یہ دل غضب خدا کا جا بیٹھے ہیں مجھ سے دور اٹھ کر کیا پاس کیا ہے التجا کا بولے وہ حسنؔ کا خون مل ...

مزید پڑھیے

راز دل لاتے ہیں زباں تک ہم

راز دل لاتے ہیں زباں تک ہم دکھ بھریں اے خدا کہاں تک ہم اور وہ ہم سے کھنچتے جاتے ہیں منتیں کرتے ہیں جہاں تک ہم نہ اڑا باغباں کہ گلشن دل اور ہیں آمد خزاں تک ہم آپ کے لطف نے تو قہر کیا خوب تھے جور آسماں تک ہم آسماں تک گیا ہے سیل سرشک دل کو رویا کریں کہاں تک ہم ان کا آنا بھی اب نہیں ...

مزید پڑھیے

کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا

کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا سنتا ہوں آج تو نے مرا ماجرا سنا ایسے سے دل کا حال کہیں بھی تو کیا کہیں جو بے کہے کہے کہ چلو بس سنا سنا وصل عدو کا حال سنانے سے فائدہ اللہ رحم کیجئے بس بس سنا سنا قاصد ترے سکوت سے دل بے قرار ہے کیا اس جفا شعار نے تجھ سے کہا سنا آخر حسنؔ وہ روٹھ گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3934 سے 6203