قومی زبان

آنکھوں سے ٹپکے اوس تو جاں میں نمی رہے

آنکھوں سے ٹپکے اوس تو جاں میں نمی رہے مہکے امید درد کی کھیتی ہری رہے یہ کیا کہ آج وصل تو کل صدمۂ فراق تب ہے مزا کہ بزم نگاراں جمی رہے کب پوچھتا ہے کوئی لگاوٹ سے دل کا حال یاروں کا ہے مزاج کہ کچھ دل لگی رہے آفات کے پہاڑ کا دن رات سامنا کس کی پناہ مانگے کہاں آدمی رہے جس نے بھی جانا ...

مزید پڑھیے

یاد کا پھول سر شام کھلا تو ہوگا

یاد کا پھول سر شام کھلا تو ہوگا جسم مانوس سی خوشبو میں بسا تو ہوگا قطرۂ مے سے دبا رات نہ طوفان طلب مجھ پہ جو بیت گئی رات سنا تو ہوگا کوئی موسم ہو یہی سوچ کے جی لیتے ہیں اک نہ اک روز شجر غم کا ہرا تو ہوگا یہ بھی تسلیم کہ تو مجھ سے بچھڑ کے خوش ہے تیرے آنچل کا کوئی تار ہنسا تو ...

مزید پڑھیے

مجھ کو کوئی بھی صلہ ملنے میں دشواری نہ تھی

مجھ کو کوئی بھی صلہ ملنے میں دشواری نہ تھی سب ہنر آتے تھے لیکن عقل سے یاری نہ تھی جن دنوں اخلاص میں تھوڑی سی عیاری نہ تھی حسن کے دربار میں ثابت وفاداری نہ تھی سرکشی کے عہد ناموں کی حفاظت کے لیے میرے قلب و جاں سے بہتر کوئی الماری نہ تھی جن اصولوں کے لیے جینا بہت مشکل ہوا ان کی ...

مزید پڑھیے

وہ کج نگاہ نہ وہ کج شعار ہے تنہا

وہ کج نگاہ نہ وہ کج شعار ہے تنہا بس اک پیمبر جنت نثار ہے تنہا نہ بلبلوں کی اذاں ہے نہ تتلیوں کا طواف ابھی چمن میں گل نو بہار ہے تنہا اٹھائے منت صرصر کہ ناز باد نسیم ہر ایک حال میں صحرا شکار ہے تنہا فلک نجوم سے روشن زمیں چراغوں سے ہجوم نور میں اک شام تار ہے تنہا جمی ہے بزم مسرت ...

مزید پڑھیے

بسر ہو یوں کہ ہر اک درد حادثہ نہ لگے

بسر ہو یوں کہ ہر اک درد حادثہ نہ لگے گزر بھی جائے کوئی غم تو واقعہ نہ لگے کبھی نہ پھول سے چہرے پہ گرد یاس جمے خدا کرے کہ اسے عشق کی ہوا نہ لگے نظر نہ آئے مجھے حسن کے سوا کچھ بھی وہ بے وفا بھی اگر ہے تو بے وفا نہ لگے یہی دعا ہے وہ جب ہو جمال سے آگاہ لباس ناز بھی پہنے تو دوسرا نہ ...

مزید پڑھیے

قلب و جاں میں حسن کی گہرائیاں رہ جائیں گی

قلب و جاں میں حسن کی گہرائیاں رہ جائیں گی تو وہ سورج ہے تری پرچھائیاں رہ جائیں گی اہل دل کو یاد صدیوں آئے گا میرا جنوں شہرتیں ہوں گی فنا رسوائیاں رہ جائیں گی گفتگو تجھ سے کریں گی میری غزلیں صبح و شام تیری خلوت میں مری تنہائیاں رہ جائیں گی میں نکل جاؤں گا اپنی جستجو میں ایک ...

مزید پڑھیے

کریں نہ یاد شب حادثہ ہوا سو ہوا

کریں نہ یاد شب حادثہ ہوا سو ہوا بھلا دیں آؤ ہر اک واقعہ ہوا سو ہوا برا ہوا کہ لڑے جاں نثار آپس میں برا ہے اور بھی یہ تذکرہ ہوا سو ہوا غضب ہوا کہ نئے لوگ آ بسے دل میں بچھڑنا ان سے الگ سانحہ ہوا سو ہوا کہاں کہاں سے نہ آفت کی آندھیاں آئیں دیار قلب میں جو زلزلے ہوا سو ہوا بہت سے ...

مزید پڑھیے

اسی خوش نوا میں ہیں سب ہنر مجھے پہلے تھا نہ قیاس بھی

اسی خوش نوا میں ہیں سب ہنر مجھے پہلے تھا نہ قیاس بھی اسی خوش نوا پہ سجا ہے کیا مری شاعری کا لباس بھی وہ غزل کا روپ لیے ہوئے مجھے ہر مقام پہ لے گیا کبھی دشت یار کے درمیاں کبھی شہر فکر کے پاس بھی جسے اتنا اوج نظر ملا اسے کیوں نہ درد زمیں ملے کسی فلسفے کا نزول ہے ترے لب پہ کلمۂ یاس ...

مزید پڑھیے

میں کس ورق کو چھپاؤں دکھاؤں کون سا باب

میں کس ورق کو چھپاؤں دکھاؤں کون سا باب کسی حبیب نے مانگی ہے زندگی کی کتاب ہمیں نہ بھولنا آلام صد زماں کہ یہاں ہمیں ہیں مسکن‌ حرماں ہمیں ہیں بیت عذاب انہی سے شب میں اجالا انہی سے نور خیال مرے لیے تو بہت کچھ ہیں دیدۂ بے خواب گیا تھا دشت سے اٹھ کر سمندروں کی طرف وہاں بھی تشنہ ...

مزید پڑھیے

حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے

حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے عشق کی زندہ روایات سے جی ڈرتا ہے میں نے مانا کہ مجھے ان سے محبت نہ رہی ہم نشیں پھر بھی ملاقات سے جی ڈرتا ہے سچ تو یہ کہ ابھی دل کو سکوں ہے لیکن اپنے آوارہ خیالات سے جی ڈرتا ہے اتنا رویا ہوں غم دوست ذرا سا ہنس کر مسکراتے ہوئے لمحات سے جی ڈرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3925 سے 6203