آنکھوں سے ٹپکے اوس تو جاں میں نمی رہے
آنکھوں سے ٹپکے اوس تو جاں میں نمی رہے مہکے امید درد کی کھیتی ہری رہے یہ کیا کہ آج وصل تو کل صدمۂ فراق تب ہے مزا کہ بزم نگاراں جمی رہے کب پوچھتا ہے کوئی لگاوٹ سے دل کا حال یاروں کا ہے مزاج کہ کچھ دل لگی رہے آفات کے پہاڑ کا دن رات سامنا کس کی پناہ مانگے کہاں آدمی رہے جس نے بھی جانا ...