قومی زبان

جینا مجھے کٹھن ہو کہ مرنا محال ہو

جینا مجھے کٹھن ہو کہ مرنا محال ہو احساس و آگہی کا مگر کیوں ملال ہو ہر روز سوچتا ہوں نئے طور سے تمہیں میرے لئے تم ایک انوکھا سوال ہو تھا درد تو دلوں میں سمایا ہوا تھا میں ہوں پاس ہی تو اب کسے میرا خیال ہو راحت غموں کی آنچ ہو غم راحتوں کی روح یہ زیست ہو تو میرے لئے کیوں وبال ہو وہ ...

مزید پڑھیے

کن خیالوں میں تو دلبر پڑا ہے

کن خیالوں میں تو دلبر پڑا ہے ایک سے ایک یہاں پر پڑا ہے میں وہ درویش ہوں جس کا زمانے سطح افلاک پہ بستر پڑا ہے آسماں کی یہ بلندی نہیں کچھ آسماں تو مرے سر پر پڑا ہے ایک ناداں سے صنم کی گلی میں ایک استاد ہنر ور پڑا ہے میرؔ کہتے تھے جسے سنگ گراں میرے دل پر وہی پتھر پڑا ہے دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

آپ کے در سے کدھر جائیں گے

آپ کے در سے کدھر جائیں گے خاک ہو جائیں گے مر جائیں گے مت نگاہوں سے گرانا ہم کو ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے یا پگھل جائیں گے گرمی سے آہ یا تو سردی سے ٹھٹھر جائیں گے موٹی موٹی سی دکھا کر آنکھیں وہ سمجھتے ہیں کہ ڈر جائیں گے عشق نے اور بگاڑا یارو ورنہ سمجھے تھے سدھر جائیں گے میرے ...

مزید پڑھیے

تیرے یہ جاں نثار و طلبگار دیکھ کر

تیرے یہ جاں نثار و طلبگار دیکھ کر حیراں ہوں ایک انار سو بیمار دیکھ کر گل پھول آب آب ہوئے کل چمن کے بیچ گل کے ہمارے آتشیں رخسار دیکھ کر سدرہ سرو صنوبر و طوبیٰ کھڑے کھڑے سرگشتہ ہیں چمن میں قد یار دیکھ کر پیروں میں دل زدوں کے نہ چبھ جائیں استخواں اس راہ سے گزر ہو تو سرکار دیکھ ...

مزید پڑھیے

گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا

گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا کوچہ میں اس کے نالہ میرا بے کسانہ تھا اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا جب کوئی زلف میں بھی نہ کچھ دخل شانہ تھا سودائی تھا مزاج میرا عاشقانہ تھا بلبل کو اپنا نالہ موزوں ترانہ تھا ہر گل بھی مائل غزل ...

مزید پڑھیے

پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس

پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس اللہ پھر ان آنکھوں کو دکھلائے بنارس روتا ہوں بنارس کے تصور میں شب و روز اے ہندؤو دیکھو یہ ہے دریاۓ بنارس میری یہ وصیت سے کہ مر جاؤں اگر میں تو باد صبا خاک کو پہنچائے بنارس ہے کعبہ مقصود فقط کوچۂ دل‌‌ دار کافر ہوں جو مجھ کو ہو تمناۓ ...

مزید پڑھیے

کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل

کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل میرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصل جیب کے پرزے اڑے پھٹ گئی محرم شب وصل میرے ان کے رہا کچھ اور ہی عالم شب وصل جی میں ہے کہئے موذن سے یہ ہمدم شب وصل یوں نہ چیخا کرو اے قبلۂ عالم شب وصل وہ نہ سوئے ہوں جدا یا نہ لڑے ہوں ہم سے اس طرح کی ہوئی صحبت ...

مزید پڑھیے

ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں

ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں بنے گی موج بھی میرے لیے زنار پانی میں غبار دیدہ تر سے تکدر دل کا ظاہر ہے تماشہ ہے اٹھی مٹی کی اک دیوار پانی میں تن بے جاں میں جاں آئی ہے ابرو کے اشارہ سے بجھی تھی چشمۂ حیواں کی یہ تلوار پانی میں یہی رونا ہے فرقت میں تو جاں آنکھوں سے نکلے ...

مزید پڑھیے

اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا

اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا اس پیچ سے دل اپنا نکل جائے تو اچھا شطرنج میں جی ان کا بہل جائے تو اچھا اے مہرؔ یہ چال اچھی ہے چل جائے تو اچھا اس زیست سے اب موت بدل جائے تو اچھا بے چین ہے دل جان نکل جائے تو اچھا محروم ہوں اس دور میں ساقی فقط اک میں اے کاش خم بادہ ابل جائے تو ...

مزید پڑھیے

اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا

اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا تڑکا ہو جائے گا سحر کا اللہ رے طول بل بے الجھاؤ ہے زلف کا قصہ رات بھر کا مخفی کی بیاض بھی تو دیکھیں مضمون تو ڈھونڈیئے کمر کا بنتا تو ہے خاک سے بھی سونا محتاج نہیں فقیر زر کا دل میں ہے خیال چہرۂ یار ہمسایہ ہوں آئنہ کے گھر کا میٹھا تیرے لب کا کیا ہے مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3892 سے 6203