قومی زبان

الٹ پلٹ

ہم ننھے ننھے اس دنیا کے بچوں کی جو فطرت ہے وہ ایک سی ہے معصوم سی ہے گر لڑتے اور جھگڑتے ہیں پل میں یکجا ہو جاتے ہیں ہم میں نہ تو کچھ بھید بھاؤ ہے اور نہ دل میں ہم سب کے دل میں بستے ہیں مل کر سب روتے ہنستے ہیں پھر بھی اس دور ترقی میں ان بڑے بڑوں کی بستی میں اتنی لمبی دوری کیوں ہے اور ...

مزید پڑھیے

ریل گاڑی

بھک بھک کرتی چھک چھک کرتی دیکھو ممی ہم بچوں کی ریل ہے آئی ہم انجن ہیں باقی ڈبے انگلی تھامے کپڑا پکڑے دیکھو ممی ہم بچوں کی ریل ہے ٹھہری سیٹی بجاتی شور مچاتی دھک دھک کرتی بھک بھک کرتی دیکھو ممی ہم بچوں کی ریل یہ چل دی

مزید پڑھیے

دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا

دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا اور مستی مل چکے گیسو میں شانہ ہو چکا ناوک مژگاں کا اپنا دل نشانہ ہو چکا مر چکے ہم موت آنے کا بہانہ ہو چکا عہد پیری ہے جوانی کا زمانہ ہو چکا ختم اب مضمون شعر عاشقانہ ہو چکا اب خزاں ہے موسم گل کا زمانہ ہو چکا ہو چکی گلبانگ بلبل کا ترانہ ہو چکا شیر ...

مزید پڑھیے

پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا

پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا اے مہرؔ چمک جائے گا اقبال ہمارا سودے میں تری زلف کے لکھتے ہیں جو اشعار ہوتا ہے سیہ نامۂ اعمال ہمارا ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عید اے جان یہی ہے مہ شوال ہمارا ہر بار دکھاتا ہے جنوں خانۂ زنجیر اس گھر میں گزارا ہوا ہر سال ہمارا آتے ہی وہ کہتے ...

مزید پڑھیے

پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا

پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا شب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیا دیکھا نہ کہیں کفر نہ ایماں نظر آیا ہندو کوئی پایا نہ مسلماں نظر آیا ملبوس سیہ میں رخ جاناں نظر آیا ظلمات میں یاں چشمۂ حیواں نظر آیا بالوں میں چھپا چہرۂ جاناں نظر آیا پردہ میں یہاں کفر کے ایماں نظر آیا پھر جوش ...

مزید پڑھیے

سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہ

سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہ ہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہ کرہ‌ نار ہے مرا سینہ شیشۂ دل ہے آتشی شیشہ دل میں رکھا تھا اس کو دل بھی گیا اڑ گئی لے کے اک پری شیشہ دختر رز پہ زور عالم ہے اس پری سے ہوا پری شیشہ خون روتا ہے قہقہے کے ساتھ خوب ہنستا ہے یہ ہنسی شیشہ زخم دل کا جو پھٹ گیا ...

مزید پڑھیے

غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں

غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں میں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوں جوش وحشت کا ہوا موسم گل آ پہنچا کچھ دنوں ہوش میں رہتا ہوں سنبھل جاتا ہوں اپنی رخصت ہے بتوں سے بھی اب انشا اللہ دیر سے سوئے حرم آج ہی کل جاتا ہوں کوچۂ قاتل بے رحم جسے کہتے ہیں میں وہاں دوڑ کے مشتاق اجل ...

مزید پڑھیے

کوئی لے کر خبر نہیں آتا

کوئی لے کر خبر نہیں آتا جو گیا نامہ بر نہیں آتا چاند کس جا نظر نہیں آتا یار کیوں میرے گھر نہیں آتا دم محبت کا بھر نہیں آتا راز افشا تو کر نہیں آتا عشق کیا جانے زاہد بے مغز ڈھنگ یہ عمر بھر نہیں آتا پنڈتو پترے میں دیکھو تو کیوں مرا نامہ بر نہیں آتا لالہ ہر سال رنگ لاتا ہے رنگ داغ ...

مزید پڑھیے

عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اور

عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اور یار نے آئینے میں اپنا سا دیکھا ایک اور مرنے والوں میں رہا جاتا ہے جیتا ایک اور نیم بسمل ہوں میں قاتل ہاتھ پورا ایک اور رفتہ رفتہ دل کو دل سے راہ ہو جائے کہیں ان سے ملنے کا رہے پوشیدہ رستہ ایک اور ایک تو مسی کا نقشہ جم رہا ہے شام سے پان کی لالی ...

مزید پڑھیے

آفتاب اب نہیں نکلنے کا

آفتاب اب نہیں نکلنے کا دور آیا شراب ڈھلنے کا سانپ کہتے ہیں زلف کو شاعر کام کرتے ہیں منہ کچلنے کا لاکھ ہم چکنی چپڑی بات کریں ان کا دل اب نہیں پھسلنے کا صفت لب میں شعر کہتے ہیں اب ارادہ ہے لعل اگلنے کا کوٹتے ہیں جو اپنا ہم سینہ ہے عوض چھاتیاں مسلنے کا کیوں نہ ہر طرز میں ہو بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3891 سے 6203