جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں
جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں یار شاطر نہ بار خاطر ہیں یاد ہے ہم سے پیار سے کہنا تجھ سے ہم سب طرح سے حاضر ہیں دل اٹھاویں گے تجھ سے تا مقدور صبر کرنے پہ گو نہ قادر ہیں یار و عاشق بہم موافق ہوں اتفاق ایسے شاذ و نادر ہیں وصل کی بن نہ آئی کچھ تدبیر ہم سے کم عاشقوں میں بد بر ہیں کچھ ...