قومی زبان

جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں

جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں یار شاطر نہ بار خاطر ہیں یاد ہے ہم سے پیار سے کہنا تجھ سے ہم سب طرح سے حاضر ہیں دل اٹھاویں گے تجھ سے تا مقدور صبر کرنے پہ گو نہ قادر ہیں یار و عاشق بہم موافق ہوں اتفاق ایسے شاذ و نادر ہیں وصل کی بن نہ آئی کچھ تدبیر ہم سے کم عاشقوں میں بد بر ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو

کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو کیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں تو عشق میں اس کے کہ گزرے ہیں سر و جان سے ہم اپنی کس طور سے ہوتی ہے گزر دیکھیں تو کر کے وہ جور و ستم ہنس کے لگا یہ کہنے آہ و افغاں کا تری ہم بھی اثر دیکھیں تو صبر ہو سکتا ہے کب ہم سے ولے مصلحتاً آزمائش دل بیتاب کی ...

مزید پڑھیے

عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا

عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا خطا سے اس کی نہیں نام کو غبار ملال میں رو رو ڈالا ہے سب دل سے دھو ہوا سو ہوا مری خطا یا جفا تھی تری یہ کیا ہے ذکر ہوا جو چاہیئے پھر تو نہ ہو ہوا سو ہوا ہنسے ہے دل میں یہ نا دردمند سب سن سن تو دکھ کو عشق کے اے دل ...

مزید پڑھیے

ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا

ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا راحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلا دنیا میں یارو یار وفادار ہی نہیں اور جو نہ ہو تو رہنا ہے بے یار ہی بھلا معشوق کا نظارہ میسر ہو یا نہ ہو عاشق ہمیشہ طالب دیدار ہی بھلا زاری پہ میری رحم بھی کر آ خدا کو مان کافر رہے گا ہم سے تو بیزار ہی بھلا اطوار ...

مزید پڑھیے

گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا

گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا ہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتا آفت طلب اپنے جو دل و دیدہ نہ ہوتے طالب میں ترا تو مرا مطلوب نہ ہوتا میری سی طرح عشق سے ہوتا کبھی بیتاب اعجاز نما صبر کا ایوب نہ ہوتا نامے کا مرے یہ تھا جواب اے مہ نو خط یہ قاعدۂ قاصد و مکتوب نہ ہوتا ترغیب وفا ...

مزید پڑھیے

بھرے سفر میں گھڑی بھر کا آشنا نہ ملا

بھرے سفر میں گھڑی بھر کا آشنا نہ ملا شدید پیاس میں صحرا سراب سا نہ ملا گزر گئے تو ہزاروں نشاں تھے پہلے سے پلٹ کے آئے تو اپنا ہی نقش پا نہ ملا کبھی جو دھوپ تو پیکر پگھل گئے سارے کوئی بھی نقش مجھے میرے خواب سا نہ ملا رکے ہوئے سبھی آنسو چھلک گئے لیکن وہ شخص پھر بھی نگاہوں سے بولتا ...

مزید پڑھیے

خزاں خزاں تھا جو موسم گلاب کیا ہوتا

خزاں خزاں تھا جو موسم گلاب کیا ہوتا اس ایک شخص کا میں انتخاب کیا ہوتا جو حرف حرف ہوا اور تیرے آگے ہوا بھلا وہ شخص خود اپنی کتاب کیا ہوتا میں اس کے چہرے کے سب رنگ گر چرا لیتا تو اس گنہ سے زیادہ ثواب کیا ہوتا جو ہجر رنگ ہی گزرے تمہاری قربت میں عجیب لمحے تھے ان کا حساب کیا ہوتا سفر ...

مزید پڑھیے

جل رہا ہے اک دیا آنکھوں میں آدھی رات کا

جل رہا ہے اک دیا آنکھوں میں آدھی رات کا میں امانت دار ہوں اب تک تری سوغات کا عمر گزری موسم گریہ نہیں ٹھہرا کہیں قرض اک باقی رہا مجھ پہ کسی برسات کا دور ہوتے جا رہے تھے ساحلوں پر دو چراغ بادباں نے رکھ لیا تھا عکس بھی اک بات کا دل میں اور آنکھوں میں تجھ سے چھوٹ جانے کا ملال تذکرہ ...

مزید پڑھیے

خواب شب پر کیف کی تعبیر تو دے گا

خواب شب پر کیف کی تعبیر تو دے گا کچھ اور نہیں اپنی وہ تصویر تو دے گا جاتے ہوئے یک بار پلٹ کر مری جانب وہ میری ملاقات کو توقیر تو دے گا انگڑائیوں کے ساتھ وہ گیسو کا نظارہ زلفوں کی مرے پاؤں میں زنجیر تو دے گا مقصود اسے قتل ہے تو دیکھنا اک دن ہاتھوں میں مرے دوست کے شمشیر تو دے ...

مزید پڑھیے

پتھریلی وہ زمین تھی کوئی راستہ نہ تھا

پتھریلی وہ زمین تھی کوئی راستہ نہ تھا گزرا تھا کس مقام سے مجھ کو پتہ نہ تھا وہ بات میرے نام سے منسوب کی گئی جس بات سے تو میرا کوئی واسطہ نہ تھا مشکل گھڑی میں بن کے سہارا وہ آ گیا میری طرف جو مڑ کے کبھی دیکھتا نہ تھا پتھر کہاں سے آیا تھا یہ سوچنا پڑا اس شہر میں تو میرا کوئی آشنا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3887 سے 6203