قومی زبان

آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر

آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر دل پر خوں و چشم نم لے کر ساغر مے کہاں ہے اے گردوں کیا کریں تیرا جام جم لے کر وعدہ اقسام کر چکا تو خلاف اب کے چھوڑوں گا میں قسم لے کر اس کی محفل سے کب اٹھے گا رقیب یہ سعادت بھرے قدم لے کر تر و خشک جہاں پہ قانع رہ دست دوراں سے بیش و کم لے کر سر سے مارا ...

مزید پڑھیے

بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کو

بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کو بس ہے تیری یہ آرزو مجھ کو گردش چرخ سے نہیں پردا سر پہ چہیے وہ خاک کو مجھ کو زاہدا ہے مری نماز نیاز خون دل رونا ہے وضو مجھ کو ناصحا جا کہ ذکر عشق سوا خوش نہیں آتی گفتگو مجھ کو بن رہا ہوں میں عشق کا مظلوم نہ ستا اے رقیب تو مجھ کو تجھ سے چاہوں ہوں ناز ...

مزید پڑھیے

میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی

میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی اس سراپا عجب سے آنکھ لگی عشق میں خواب کا خیال کسے نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی خواب میں بھی نہ دیکھا ہم نے لطف کس سراپا غضب سے آنکھ لگی جتنے خوش چشم ہیں زمانے میں رہتی ہے میری سب سے آنکھ لگی رات ہمسایوں کی نہ صبح تلک میری افغان شب سے آنکھ لگی یار آتا ...

مزید پڑھیے

یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشد

یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشد وہ ولی نعمت دیدار سلامت باشد نیک و بد سے ہے مری خاطر ناشاد آزاد غم گسار اپنا غم یار سلامت باشد نہ رکھی دل میں ہمارے طمع خام وصال رشک اغیار کا آزار سلامت باشد گر نہ دے شربت عناب مجھے وہ لب لعل عشوۂ نرگس بیمار سلامت باشد خاکساروں کا کوئی گو نہ ...

مزید پڑھیے

ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں

ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں ماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیں یوں تو اٹھتے ہے مرے دل سے ہزاروں نالہ لیکن ان خانہ خرابوں میں اثر ہے کہ نہیں حال میرا تجھے بے درد نہیں گر باور دیکھ لے آ کے کہ اب نوع دگر ہے کہ نہیں میرے گھر کیونکہ تو آوے کہ گلی کوچوں میں تیرے مشتاق کہاں اور ...

مزید پڑھیے

راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل

راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل کم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے مل دل تڑپتا ہے پڑا اس سینۂ صد چاک میں کھول کر بند قبا تو اے سمن بر ہم سے مل بے نیاز اس حسن کو اور ناز کو برپا رکھے بے تکلف ہو کے تو اے ناز پرور ہم سے مل پہنچنا تم تک میاں اپنا تو اک اشکال ہے ہووے تا ملنا ترا ...

مزید پڑھیے

حسن کو اس کے خط کا داغ لگا

حسن کو اس کے خط کا داغ لگا پر ہمیں تو بہار و باغ لگا گھر سے جوں ماہ بے حجاب نکل اب تو اے شمع رو چراغ لگا بادشاہوں کی بزم عشرت سے اپنا مت گوشۂ فراغ لگا آتشیں اشک ایک دم جو تھما خانۂ دیدہ بے چراغ لگا لے خبر اب تو ساقیٔ سر دست خشک ہونے مرا دماغ لگا کس کو یہ خون دل ملی دولت اس کے ...

مزید پڑھیے

ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقف

ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقف نہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقف تلقین کرے عرض تمنا ہمیں اس سے محرم نہیں ہے اس بت خودکام سے واقف وہ دور وصال آہ کدھر ہے کہ ہم اور وہ دنیا میں نہ تھے نامہ و پیغام سے واقف کیا پوچھو ہو ہم روش باغ و چمن کو ہم تو رہے کنج قفس و دام سے واقف شیرینیٔ ...

مزید پڑھیے

وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتش

وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتش بھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتش چمن میں جوش جنوں کے ہیں اشک اور داغ دروں سے اپنے کروں شگفتہ گل اور لالے ز آب اول دوم بہ آتش ہمارے اشک اور آہ کی موجیں باندھ دیتی ہیں سب جو دوری بنے ہیں ماہ فلک پہ ہالے ز آب اول دوم بہ آتش جہاں ...

مزید پڑھیے

سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے

سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے نہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نے عہد کیا کر کے ترے در سے اٹھے تھے قسمت پھر دکھایا تجھے روئے خجل اپنا ہم نے میری آلودگیوں سے نہ کر اکراہ اے شیخ کچھ بنایا تو نہیں آب و گل اپنا ہم نے سخت کافر کا دل افسوس نہ شرمایا کبھی پوجا جوں بت تو بہت سنگ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3886 سے 6203