سرسوں کے کھیتوں میں اپنے کاغذ دھانی کرتے کرتے
سرسوں کے کھیتوں میں اپنے کاغذ دھانی کرتے کرتے غزلیں ساری لکھی ہم نے خوں کو پانی کرتے کرتے مجبوری کے چاول بھونے لاچاری دو مٹھی ڈالی ہم نے کھایا غم کو اپنے پھر گڑ دھانی کرتے کرتے اس دنیا میں جو بھی بھایا اس کو ہم نے خود سا سمجھا اک عرصہ بیتا ہے ہم کو یہ نادانی کرتے کرتے کیوں دریا ...