قومی زبان

سرسوں کے کھیتوں میں اپنے کاغذ دھانی کرتے کرتے

سرسوں کے کھیتوں میں اپنے کاغذ دھانی کرتے کرتے غزلیں ساری لکھی ہم نے خوں کو پانی کرتے کرتے مجبوری کے چاول بھونے لاچاری دو مٹھی ڈالی ہم نے کھایا غم کو اپنے پھر گڑ دھانی کرتے کرتے اس دنیا میں جو بھی بھایا اس کو ہم نے خود سا سمجھا اک عرصہ بیتا ہے ہم کو یہ نادانی کرتے کرتے کیوں دریا ...

مزید پڑھیے

پرندوں کا شجر کو چھوڑ کر جانا ضروری تھا

پرندوں کا شجر کو چھوڑ کر جانا ضروری تھا کہ طائر کو خزاں کا خوف بھی کھانا ضروری تھا کہانی میں سناتی روز اک اس کو رہائی کی قفس میں قید دل کو خواب دکھلانا ضروری تھا جو ہوتی عطر میں تو بس ہی جاتی جسم میں تیرے میں تھی تلسی مرا آنگن کو مہکانا ضروری تھا ہزاروں حسرتیں ہیں خواہشیں ہیں ...

مزید پڑھیے

نصف کھلی آنکھوں سے دیکھا سب مبہم مبہم لاگے

نصف کھلی آنکھوں سے دیکھا سب مبہم مبہم لاگے دہشت اوڑھی دھرتی کو اب آہو بھی ضیغم لاگے گام رکھوں کس کے سر پر اب پوچھے مجھ سے اک وامن اک پگ میں جگ ناپ لیا پھر سر میرا بھی کم لاگے بھیگی آنکھیں دیکھ مری وہ ہنس کر مجھ سے کہتا تھا گل رو تیرے چہرے پر تو آنسو بھی شبنم لاگے سندر ون سے آئی ...

مزید پڑھیے

زمانہ ایک وہ بھی تھا سہارے تھے تمہارے ہم

زمانہ ایک وہ بھی تھا سہارے تھے تمہارے ہم کھڑے ہیں اب ذرا دیکھو دواروں کے سہارے ہم بتا کر ایک مصرع میں ندی سا حسن وہ تیرا ملے پھر دوسرے مصرعے اسی دریا کنارے ہم کسی سے جو نہیں ہارا وہ اپنوں سے تو ہارا ہے تمہارے سامنے جیسے محبت پھر سے ہارے ہم تمہی ہر روز مجھ کو خود سے تھوڑا دور ...

مزید پڑھیے

دریچے ہی دریچے تھے کوئی بھی در نہیں آیا

دریچے ہی دریچے تھے کوئی بھی در نہیں آیا صداؤں کی کمی تھی کیا جو تو باہر نہیں آیا اگر ہے دولتوں میں دم خریدو تم مرا سایہ میں وہ بیجو جو اکبر کے بلانے پر نہیں آیا بہت میٹھا سا لگتا ہے تری آنکھوں کا پانی کیوں تری آنکھوں کے حصے کیا کبھی ساگر نہیں آیا ہزاروں لوگ بس یہ جسم چھو کر لوٹ ...

مزید پڑھیے

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر فرش بچھایا جاتا ہے قالینوں کی خاطر کتنی بے ترتیبی پھیلی کیا کچھ ٹوٹ گیا سجے سجائے گھر تھے انہی مکینوں کی خاطر ٹھہر گئے ہیں عین سفر میں بن سوچے سمجھے ہم سفری کے کچھ بے نام قرینوں کی خاطر جل بجھتے ہیں لوگ کسی کو فیض پہنچنے پر گر جاتے ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

ہوا کی تیز گامیوں کا انکشاف کیا کریں

ہوا کی تیز گامیوں کا انکشاف کیا کریں جو دوش پر لیے ہو اس کے بر خلاف کیا کریں یقین اور گماں کی جنگ سے گریز تھا نہیں جو فیصلہ کیا ہے اس سے انحراف کیا کریں وہ دوسروں کی آنکھ کا غبار تو لیے رہے تو اپنے گرد گرد آئینے کو صاف کیا کریں جو منزلیں دکھائی تھیں وہ ممکنات میں سے تھیں پر اپنی ...

مزید پڑھیے

فصیل شہر کی اتنی بلند و سخت ہوئی

فصیل شہر کی اتنی بلند و سخت ہوئی کہ کل سپاہ مضامین تاج و تخت ہوئی بجھا چراغ تھی میں حاسدوں کی آنکھوں میں دعا کے شہر میں آئی تو سبز بخت ہوئی وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھے میں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی کسی نے سبز جزیرے پہ مجھ کو روک لیا سفر کے عزم کی ناؤ بھی لخت لخت ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنا

ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنا محبت میں اسے آتا نہیں گنجائشیں کرنا مری بیٹی نے مجھ کو دیکھ کر سیکھا ہے برسوں میں پرانا آئینہ رکھ کر نئی آرائشیں کرنا مری المایوں میں قیمتی سامان کافی تھا مگر اچھا لگا اس سے کئی فرمائشیں کرنا مجھے بچوں کی آنکھوں میں وہ سارے رنگ ملتے ...

مزید پڑھیے

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے اک ان جانے خوف سے واقف ہر پل رکھتا ہے وہ جو بظاہر ہر ذرہ ہے تیز ہواؤں میں اپنے ہونے کا احساس مکمل رکھتا ہے ترک تعلق نے میری بھی سوچ کو بدلا نہیں وہ بھی شکایت اپنے ساتھ مسلسل رکھتا ہے ریگستان کا پودا ہوں میں اور بہت سیراب اپنا روپ رویہ مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3873 سے 6203