قومی زبان

تعلق کی نئی اک رسم اب ایجاد کرنا ہے

تعلق کی نئی اک رسم اب ایجاد کرنا ہے نہ اس کو بھولنا ہے اور نہ اس کو یاد کرنا ہے زبانیں کٹ گئیں تو کیا سلامت انگلیاں تو ہیں در و دیوار پہ لکھ دو تمہیں فریاد کرنا ہے ستارہ خوش گمانی کا سجایا ہے ہتھیلی پر کسی صورت ہمیں تو اپنے دل کو شاد کرنا ہے بنا کر ایک گھر دل کی زمیں پر اس کی ...

مزید پڑھیے

پھوار

ہم نے عمر کے اتنے سال گزارے اپنے ساتھ خوش بے رونق افسردہ حیراں ناراض عجیب لیکن تیرے ساتھ گزرنے والا یہ پل ایک مکمل لمحہ ہے جس میں محسوسات کے ان سارے رنگوں کی بارش ایک ہی پھوار میں ہم پر برس گئی ہے

مزید پڑھیے

تجزیہ

کیا یہ ضروری ہے ہم ساری منفی باتیں یاد کریں اس نے ہم سے کب کس موڑ پہ کیا چاہا تھا ہم نے خود غرضی کے تھال میں کیا کیا اس کو نذر کیا تھا کس نے جھوٹ سے تھوڑا سا سچ قرض لیا تھا کس کا جذبہ وہم کی اون میں الجھ گیا تھا کب تک اس لا حاصل دکھ میں خود کو ہم برباد کریں کیا یہ ضروری ہے ہم ساری منفی ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی شخص جو وہم و گماں کی زد میں رہا

کوئی بھی شخص جو وہم و گماں کی زد میں رہا وہ تا حیات عذاب قبول و رد میں رہا خدا کی ذات میں ضم ہو گیا جہاں درویش وہاں نہ فرق کوئی کار‌ نیک و بد میں رہا وہ محترم ہے جو تسخیر ذات کی خاطر تمام عمر لڑا اور اپنی حد میں رہا مرے ہی دم سے کہانی میں معنویت تھی مرا شمار مگر حرف‌ مسترد میں ...

مزید پڑھیے

وہ میرے شیشۂ دل دل پر خراش چھوڑ گیا

وہ میرے شیشۂ دل دل پر خراش چھوڑ گیا دیار روح میں اک ارتعاش چھوڑ گیا قدم قدم پہ ہوا جب منافقت کا شکار تو اپنے شہر کی وہ بود و باش چھوڑ گیا وہاں سے منزل عرفان ذات دور نہ تھی وہ جس مقام پہ اس کی تلاش چھوڑ گیا وہ شخص آپ ہی قاتل تھا آپ ہی مقتول جہاں جہاں بھی گیا اپنی لاش چھوڑ گیا کمال ...

مزید پڑھیے

پہلے تو خواب ذہن میں تشکیل ہو گیا

پہلے تو خواب ذہن میں تشکیل ہو گیا پھر سیل وقت میں کہیں تحلیل ہو گیا بے نور راستوں میں جو بھٹکے ہوئے تھے لوگ جگنو بھی ان کے واسطے قندیل ہو گیا کنکر ملامتوں کے گراتا ہے مثل سنگ مجھ میں کوئی پرند ابابیل ہو گیا وقت طلوع آیا گہن آفتاب پر دن چڑھ رہا تھا رات میں تبدیل ہو گیا تھا جس ...

مزید پڑھیے

کوئی مونس نہیں میرا کوئی غم خوار نہیں

کوئی مونس نہیں میرا کوئی غم خوار نہیں کیا میں اتنی سی مروت کا بھی حق دار نہیں میرے ہی دم سے جنہیں عظمت کردار ملی وہی کہتے ہیں کہ میں صاحب کردار نہیں اہتمام رسن و دار ہے اب کس کے لیے میں خطا‌ وار نہیں آپ خطا‌ وار نہیں منصف شہر کو دے کون سوالوں کے جواب اب کسی شخص میں بھی جرأت ...

مزید پڑھیے

جسے ملیں وہی تنہا دکھائی دیتا ہے

جسے ملیں وہی تنہا دکھائی دیتا ہے حصار ذات میں سمٹا دکھائی دیتا ہے کسی کے سر پہ کوئی سائباں نہیں ہر شخص خود اپنی چھاؤں میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے وہ دور تیشہ گری ہے کہ آدمی کا وجود ہر ایک سمت سے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے سزائے دار ابھی تک ہے اہل حق کے لیے ابھی صلیب پہ عیسیٰ دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

یہ جو ہر شے میں تری جلوہ گری ہے اے دوست

یہ جو ہر شے میں تری جلوہ گری ہے اے دوست یہ بھی میری وسیع النظری ہے اے دوست خندۂ گل ہے جو زخم جگری ہے اے دوست موج غم موج نسیم سحری ہے اے دوست تیری فردوس خیالی ہو مبارک تجھ کو میری جنت مرے دامن کی تری ہے اے دوست کیا سمائے غم انساں نگہ انساں میں عرش پیمائی بھی فہم بشری ہے اے ...

مزید پڑھیے

کسی بھی شخص پر کب مہرباں تھے ہم

کسی بھی شخص پر کب مہرباں تھے ہم یہ تھا الزام کے کچھ بد گماں تھے ہم نہ لکھی ہی گئی آہیں نہ کام دل تبھی جانا کے کتنے بے کساں تھے ہم تمہیں بھی راہ سے بھٹکا دیا ہم نے اجی چھوڑو کبھی تو راہ داں تھے ہم وہ چلتا ساتھ بھی تو کب تلک چلتا وہ قصہ اور لمبی داستاں تھے ہم گو مژگاں میں رہے اٹکے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3872 سے 6203