قومی زبان

بھاگ سنوارا جا سکتا تھا

بھاگ سنوارا جا سکتا تھا ہم کو مارا جا سکتا تھا اک بوڑھے دریا تک چل کر آج کنارا جا سکتا تھا ان سے ملنے کی خاطر تو سب کچھ وارا جا سکتا تھا چھوڑ کے جانے والے تیرا نام پکارا جا سکتا تھا جو رشتہ مرنے والا تھا جلدی مارا جا سکتا تھا اس کی آنکھیں پڑھ کر بھی تو وقت گزارا جا سکتا تھا لا ...

مزید پڑھیے

جانتی ہوں شہر میں اک گھر بنانا مسئلہ ہے

جانتی ہوں شہر میں اک گھر بنانا مسئلہ ہے گاؤں کو اپنے بلکتا چھوڑ آنا مسئلہ ہے زندگی کی لاش کب سے ہی پڑی ہے در پہ میرے کون مرگھٹ لے کے جائے یاں تو شانا مسئلہ ہے نوچ کر سب پنکھ ان کے اڑ گئے ہیں پیر والے ان پرندوں کا زمیں پر پنکھ پانا مسئلہ ہے ناپ لوں گی عرش میں بھی صبر بس مجھ کو ہے ...

مزید پڑھیے

قفس کھولا تھا میں نے آج جب پنچھی اڑانے کو

قفس کھولا تھا میں نے آج جب پنچھی اڑانے کو پرندہ رک گیا اک جیل کے قصہ سنانے کو یہ تنہائی گھٹن اور بے بسی کمرے میں پھیلی ہے رکھی تھی چھت پہ آنکھیں دو کبھی ہم نے سکھانے کو درختوں کی وہ پرچھائی وہ آنگن کا کھلا ہونا کہاں آتی ہے اب چڑیا گھروں میں چہچہانے کو مرے پیروں کی یہ زنجیر اس پل ...

مزید پڑھیے

کسی بھی رائیگانی سے بڑا ہے

کسی بھی رائیگانی سے بڑا ہے یہ دکھ تو زندگانی سے بڑا ہے نہ ہم سے عشق کا مفہوم پوچھو یہ لفظ اپنے معانی سے بڑا ہے ہماری آنکھ کا یہ ایک آنسو تمہاری راجدھانی سے بڑا ہے گزر جائے گی ساری رات اس میں مرا قصہ کہانی سے بڑا ہے ترا خاموش سا اظہار راحتؔ کسی کی لن ترانی سے بڑا ہے

مزید پڑھیے

میں آب عشق میں حل ہو گئی ہوں

میں آب عشق میں حل ہو گئی ہوں ادھوری تھی مکمل ہو گئی ہوں پلٹ کر پھر نہیں آتا کبھی جو میں وہ گزرا ہوا کل ہو گئی ہوں بہت تاخیر سے پایا ہے خود کو میں اپنے صبر کا پھل ہو گئی ہوں ملی ہے عشق کی سوغات جب سے اداسی تیرا آنچل ہو گئی ہوں سلجھنے سے الجھتی جا رہی ہوں میں اپنی زلف کا بل ہو گئی ...

مزید پڑھیے

ہر ایک خواب کی تعبیر تھوڑی ہوتی ہے

ہر ایک خواب کی تعبیر تھوڑی ہوتی ہے محبتوں کی یہ تقدیر تھوڑی ہوتی ہے کبھی کبھی تو جدا بے سبب بھی ہوتے ہیں سدا زمانے کی تقصیر تھوڑی ہوتی ہے پلک پہ ٹھہرے ہوئے اشک سے کہا میں نے ہر ایک درد کی تشہیر تھوڑی ہوتی ہے سفر یہ کرتے ہیں اک دل سے دوسرے دل تک دکھوں کے پاؤں میں زنجیر تھوڑی ہوتی ...

مزید پڑھیے

کہانی کو مکمل جو کرے وہ باب اٹھا لائی

کہانی کو مکمل جو کرے وہ باب اٹھا لائی میں اس کی آنکھ کے ساحل سے اپنے خواب اٹھا لائی خوشی میری گوارہ تھی نہ قسمت کو نہ دنیا کو سو میں کچھ غم برائے خاطر احباب اٹھا لائی ہمیشہ کی طرح سر کو جھکایا اس کی خواہش پر اندھیرا خود لیا اس کے لیے مہتاب اٹھا لائی سمیٹے اس کے آنسو اپنے آنچل ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ساتھ یہ کیسا معاملہ ہوا ہے

ہوا کے ساتھ یہ کیسا معاملہ ہوا ہے بجھا چکی تھی جسے وہ دیا جلا ہوا ہے حضور آپ کوئی فیصلہ کریں تو سہی ہیں سر جھکے ہوئے دربار بھی لگا ہوا ہے کھڑے ہیں سامنے کب سے مگر نہیں پڑھتے وہ ایک لفظ جو دیوار پر لکھا ہوا ہے ہے کس کا عکس جو دیکھا ہے آئینے سے الگ یہ کیسا نقش ہے جو روح پر بنا ہوا ...

مزید پڑھیے

فسانہ اب کوئی انجام پانا چاہتا ہے

فسانہ اب کوئی انجام پانا چاہتا ہے تعلق ٹوٹنے کو اک بہانہ چاہتا ہے جہاں اک شخص بھی ملتا نہیں ہے چاہنے سے وہاں یہ دل ہتھیلی پر زمانہ چاہتا ہے مجھے سمجھا رہی ہے آنکھ کی تحریر اس کی وہ آدھے راستے سے لوٹ جانا چاہتا ہے یہ لازم ہے کہ آنکھیں دان کر دے عشق کو وہ جو اپنے خواب کی تعبیر ...

مزید پڑھیے

بارش کے قطرے کے دکھ سے ناواقف ہو

بارش کے قطرے کے دکھ سے ناواقف ہو تم ہنستے چہرے کے دکھ سے ناواقف ہو تم نے صرف بچھڑ جانے کا کرب سہا ہے پا کر کھو دینے کے دکھ سے ناواقف ہو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں ہم لیکن تم میرے لہجے کے دکھ سے ناواقف ہو ساتھ کسی کے رہ کر جو تنہا کٹتا ہے تم ایسے لمحے کے دکھ سے ناواقف ہو ہاتھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3871 سے 6203