قومی زبان

وقت نے رنگ بہت بدلے کیا کچھ سیلاب نہیں آئے

وقت نے رنگ بہت بدلے کیا کچھ سیلاب نہیں آئے مری آنکھیں کب ویران ہوئیں کب تیرے خواب نہیں آئے دل صحرا کا وہ تشنہ لب ہر بار یہی سوچا جس نے ممکن ہے کہ آگے دریا ہو اور کوئی سراب نہیں آئے ہم لوگ کیوں اتنے پریشاں ہیں کس بات پر آخر نالاں ہیں کیا ساری بہاریں روٹھ گئیں کیا اب کے گلاب نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں وہ خواب نہیں بستے پہلا سا وہ حال نہیں ہوتا

آنکھوں میں وہ خواب نہیں بستے پہلا سا وہ حال نہیں ہوتا اب فصل بہار نہیں آتی اور رنج و ملال نہیں ہوتا اس عقل کی ماری نگری میں کبھی پانی آگ نہیں بنتا یہاں عشق بھی لوگ نہیں کرتے یہاں کوئی کمال نہیں ہوتا ہم آج بہت ہی پریشاں ہیں اس وقت کے پھیر سے حیراں ہیں ہمیں لے کے چلو کسی ایسی طرف ...

مزید پڑھیے

تھی عجب ہی داستاں جب تمام ہو گئی

تھی عجب ہی داستاں جب تمام ہو گئی اک مثال بن گئی اک پیام ہو گئی رات جب جواں ہوئی جب دیوں کے سر اٹھے تب ہوا بھی اور کچھ تیز گام ہو گئی ایک بس نظر پڑی اس کے بعد یوں ہوا میں نے جو غزل لکھی تیرے نام ہو گئی مٹ رہی تھی تشنگی بڑھ رہی تھی دوستی پھر انا کی تیغ کیوں بے نیام ہو گئی فلسفے کو ...

مزید پڑھیے

وہی ہوا کہ خود بھی جس کا خوف تھا مجھے

وہی ہوا کہ خود بھی جس کا خوف تھا مجھے چراغ کو جلا کے بس دھواں ملا مجھے کبھی مٹا سکا نہ کوئی دوسرا مجھے شکست دے گئی مگر مری انا مجھے جواب اس سوال کا بھی دے ذرا مجھے اڑا کے لائی ہے یہاں پہ کیوں ہوا مجھے ہری بھری سی شاخ پر کھلا ہوا گلاب نہ جانے ایک خار کیوں چبھا گیا مجھے اس اجنبی ...

مزید پڑھیے

کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری

کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری مجھ کو ہر شے سے زیادہ ہے ضرورت تیری اتنی عجلت میں نہ کر عمر کے وعدے مجھ سے دو گھڑی بیٹھ کہ میں دیکھ لوں صورت تیری چاہے جتنا بھی تو چھپ جائے مری نظروں سے میں نے ہر ایک میں دیکھی ہے شباہت تیری اے محبت نہ ملا مجھ کو صلہ تجھ سے کوئی فرض کر لی ہے مگر خود ...

مزید پڑھیے

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے ایک کہانی چھپی نقطے نقطے میں ہے جب سے ہاتھوں میں میں نے اٹھایا قلم تذکرہ بس ترا پنے پنے میں ہے یہ ملن کی گھڑی یوں ہوئی مختصر سمٹی جیسے صدی لمحے لمحے میں ہے جب سے ہم راز تجھ کو ہے میں نے کیا عام قصہ مرا کوچہ کوچہ میں ہے کھڑکیاں تو کئی ان مکانوں میں ...

مزید پڑھیے

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں ترے یہ جھوٹے دلاسے مجھے قبول نہیں نہ تو مداری ہے نہ میں ترا جمورا ہوں یہ آئے دن کے تماشے مجھے قبول نہیں بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے اگر یہی ہیں سہارے مجھے قبول نہیں کسی کے ذہن کی جو کھڑکیاں نہ کھول سکیں تو ایسے علم کے دعوے مجھے قبول ...

مزید پڑھیے

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا دل کا ارمان دل میں دبا رہ گیا عمر بھر اس کی جانب میں چلتی رہی پھر بھی میلوں کا یہ فاصلہ رہ گیا یوں تو دنیا میں سب کچھ ہے مجھ کو ملا صرف تو ہی تو مجھ سے جدا رہ گیا اپنی کہتا رہا میری اک نا سنی وہ خفا تھا خفا کا خفا رہ گیا آ گیا لوٹ کر وہ مرے پاس ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شب کے گزرنے پہ مسکراتی ہے

ہر ایک شب کے گزرنے پہ مسکراتی ہے یہ زندگی یوں مجھے حوصلہ دلاتی ہے تمہارے ہاتھوں نے تھاما ہے جب سے ہاتھ مرا ہر ایک سمت سے ٹھنڈی ہوا ہی آتی ہے جدھر بھی جاؤں کسی سمت بھی چلوں چاہے ہے جو بھی راہ مجھے تم سے ہی ملاتی ہے سنیں گے تجھ کو بھی گر مل گئی ہمیں فرصت تو اتنا شور کیوں اے زندگی ...

مزید پڑھیے

راحتوں کا مری پتا ہے علی

راحتوں کا مری پتا ہے علی مشکلوں کا مری کشا ہے علی ساتھ میرا سبھی نے چھوڑ دیا کون میرا ترے سوا ہے علی چاند تارے بھی اس کا نام جپے ذرے ذرے میں یوں بسا ہے علی علم کا راستہ جو پوچھا گیا تری جانب چلی حناؔ ہے علی

مزید پڑھیے
صفحہ 3853 سے 6203