وقت نے رنگ بہت بدلے کیا کچھ سیلاب نہیں آئے
وقت نے رنگ بہت بدلے کیا کچھ سیلاب نہیں آئے مری آنکھیں کب ویران ہوئیں کب تیرے خواب نہیں آئے دل صحرا کا وہ تشنہ لب ہر بار یہی سوچا جس نے ممکن ہے کہ آگے دریا ہو اور کوئی سراب نہیں آئے ہم لوگ کیوں اتنے پریشاں ہیں کس بات پر آخر نالاں ہیں کیا ساری بہاریں روٹھ گئیں کیا اب کے گلاب نہیں ...