قومی زبان

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی کیوں کمی تیری محسوس ہوگی مجھے ساتھ میرے کہاں تو رہا ہے کبھی مجھ سے پہلے بھی تو ہوں گے ناقص یہاں شور اتنا مگر کیا مچا ہے کبھی ہو کے آزاد بھی میں تو ہوں قید میں پر کٹا کر پرندہ اڑا ہے کبھی تو کیا جانے بکھرنے میں کیا لطف ...

مزید پڑھیے

امن کے دعوے اپیلیں اشتہار اپنی جگہ

امن کے دعوے اپیلیں اشتہار اپنی جگہ حسب سابق شہر بھر میں انتشار اپنی جگہ دن بہ دن حالات کا رخ بد سے بد تر کی طرف روز و شب اچھے دنوں کا انتظار اپنی جگہ کار بنگلہ کارخانے محفلیں ہوٹل شراب گھر کے اندر کی فضا ناخوش گوار اپنی جگہ میں صداقت کا علمبردار تو باطل پرست جیت میری طے شدہ ہے ...

مزید پڑھیے

دعوائے امن کریں ہاتھ میں چاقو رکھیں

دعوائے امن کریں ہاتھ میں چاقو رکھیں اور ہمیں درس کہ جذبات پہ قابو رکھیں اتنی پہچان ہی کافی ہے ریاکاروں کی غم کا اظہار کریں آنکھ میں آنسو رکھیں عدل کا خون کریں پھر بھی بہ زعم انصاف اپنے ہاتھوں میں وہی لوگ ترازو رکھیں مفلسی لاکھ سہی پھول سے بچے پھر بھی میرے ہوتے ہوئے کیوں آنکھ ...

مزید پڑھیے

جو بڑا ہے اسے چھوٹے نہیں اچھے لگتے

جو بڑا ہے اسے چھوٹے نہیں اچھے لگتے جس طرح پیڑ کو پودے نہیں اچھے لگتے منتشر ہوتا ہے شیرازۂ ملت جن سے ان کتابوں کے حوالے نہیں اچھے لگتے اختلافات تو گھر گھر میں ہیں موجود مگر گھر کی ہر بات کے چرچے نہیں اچھے لگتے سر میں بیٹی کے بہت پھیل چکی ہے چاندی پھر بھی ماں باپ کو رشتے نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنے روشن مستقبل کی باتیں کرتے ہیں

اپنے روشن مستقبل کی باتیں کرتے ہیں شاعر بھی دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہیں دنیا داری صاف جھلکتی ہے کرداروں سے ہم مسجد کی حد تک دینی باتیں کرتے ہیں کاش عمل بھی اپنے ہو جائیں بالکل ویسے تقریروں میں جتنی اچھی باتیں کرتے ہیں کیا تہذیب تنزل کی منزل تک آ پہنچی شرفا بازاروں میں گھر کی ...

مزید پڑھیے

میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا

میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا شاید ابھی تلک مرا پندار مجھ میں تھا وہ کج ادا سہی مری پہچان بھی تھا وہ اپنے نشے میں مست جو فن کار مجھ میں تھا میں خود کو بھولتا بھی تو کس طرح بھولتا اک شخص تھا کہ آئنہ بردار مجھ میں تھا شاید اسی سبب سے توازن سا مجھ میں ہے اک محتسب لئے ...

مزید پڑھیے

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے یہ شہر سجدہ گزاراں دیار کم نظراں یتیم خانۂ ادراک کے سوا کیا ہے تمام گنبد و مینار و منبر و محراب فقیہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے کھلے سروں کا مقدر بہ فیض جہل خرد فریب سایۂ افلاک کے سوا کیا ہے تمام عمر کا حاصل بہ ...

مزید پڑھیے

جو کچھ بھی گزرتا ہے مرے دل پہ گزر جائے

جو کچھ بھی گزرتا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے اک شہر صدا سینے میں آباد ہے لیکن اک عالم خاموش ہے جس سمت نظر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے جب سانپ ہی ڈسوانے کی عادت ہے تو یارو جو زہر زباں پر ہے وہ دل میں ...

مزید پڑھیے

اس شہر خفتگاں میں کوئی تو اذان دے

اس شہر خفتگاں میں کوئی تو اذان دے ایسا نہ ہو زمیں کا جواب آسمان دے پڑھنا ہے تو نوشتۂ بین السطور پڑھ تحریر بے حروف کے معنی پہ دھیان دے سورج تو کیا بجھے گا مگر اے ہوائے مہر تپتی زمیں پہ ابر کی چادر ہی تان دے اب دھوپ سے گریز کرو گے تو ایک دن ممکن ہے سایہ بھی نہ کوئی سائبان دے میں ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3852 سے 6203