قومی زبان

کیا شباب نے برباد روزگار مجھے

کیا شباب نے برباد روزگار مجھے پیام مرگ ہوئی دعوت بہار مجھے اگر کہوں کہ نہ آئے کبھی قرار مجھے اب اس قدر بھی نہیں دل پہ اختیار مجھے نشاط دہر ابھی درد سے بدل جائے ملا ہے ضبط محبت کا اختیار مجھے اگر ہے معنیٔ دیدار خاک ہو جانا بنا دے اپنی تجلی کی یادگار مجھے رہے گا عہد گزشتہ سے اک ...

مزید پڑھیے

عالم کی مشکلات کو آساں بنائیے

عالم کی مشکلات کو آساں بنائیے اب درد دل کو مایۂ ایماں بنائیے یا کیجئے نہ شکوۂ بے لطفیٔ خلش یا دل کے لخت لخت کو پیکاں بنائیے یا آرزوئے لطف و کرم ترک کیجئے یا حال درد قابل درماں بنائیے یا منہ نہ موڑیئے کبھی آلام دہر سے یا زندگی کو بے سر و ساماں بنائیے آنے ہی کو ہے منزل مقصود ...

مزید پڑھیے

کہو کس طرح ہوں قائل سکون قلب مضطر کے

کہو کس طرح ہوں قائل سکون قلب مضطر کے ذرا جنبش ہوئی پیدا ہوئے آثار محشر کے پھری ہیں آ کہ سحر آفریں نظریں یہ کیا کر کے ابھی تو جان سی آئی تھی امیدوں میں مرمر کے فلک نے جس قدر پیدا کئے انداز محشر کے کرشمے ہیں وہ سب تیری ادائے فتنہ پرور کے تبسم میں بھی دل غم کی جھلک پہچان لیتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیے

سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیے صفحۂ ہستی پہ اک نقش وفا ہو جائیے پائے خود رفتہ بھی حاصل ذوق بے حد بھی نصیب رہنما کیوں ڈھونڈئیے خود رہنما ہو جائیے شمع صورت ایک دن جلنا ہے اپنی آگ میں لذت‌ سوز دروں سے آشنا ہو جائیے بندش رنج و الم فکر اجل قید حیات درس الفت لیجئے سب سے رہا ہو ...

مزید پڑھیے

کچھ اس بلا کا ترا ربط آشنا ہونا

کچھ اس بلا کا ترا ربط آشنا ہونا کہ ہر جفا کا بہ اندازۂ وفا ہونا ستم شعار تری آرزو پہ کیا موقوف کسی خلش کا گوارہ نہیں جدا ہونا جہاں میں پھر نہ کہیں وجہ رشک ہو جائے ترے کرم سے مرا مورد جفا ہونا گداز عشق سے معمور کر دیا مجھ کو محال ہے ترے احسان سے ادا ہونا وہ شوق میں ترے اظہار ناز ...

مزید پڑھیے

یوں پا رہا ہوں اس کا تصور خیال میں

یوں پا رہا ہوں اس کا تصور خیال میں اک شان ہے کہ محو ہے اپنے جمال میں مجھ کو بھی کاش اس پہ کوئی اختیار ہو حاصل ہے جس کو دخل مرے ہر خیال میں مجھ کو تشفی ابدی کس نے بخش دی ڈوبا ہوا تھا میں عرق انفعال میں حرماںؔ کو موت آئے شب ہجر تو کہے کیونکر گزارتا ہے امید وصال میں

مزید پڑھیے

دھول بھری آندھی میں سب کو چہرہ روشن رکھنا ہے

دھول بھری آندھی میں سب کو چہرہ روشن رکھنا ہے بستی پیچھے رہ جائے گی آگے آگے صحرا ہے ایک ذرا سی بات پہ اس نے دل کا رشتہ توڑ دیا ہم نے جس کا تنہائی میں برسوں رستہ دیکھا ہے پیار محبت آہ و زاری لفظوں کی تصویریں ہیں کس کے پیچھے بھاگ رہے ہو دریا بہتا رہتا ہے پھول پرندے خوشبو بادل سب اس ...

مزید پڑھیے

طوفاں کوئی نظر میں نہ دریا ابال پر

طوفاں کوئی نظر میں نہ دریا ابال پر وہ کون تھے جو بہہ گئے پربت کی ڈھال پر کرنے چلی تھی عقل جنوں سے مباحثے پتھر کے بت میں ڈھل گئی پہلے سوال پر میرا خیال ہے کہ اسے بھی نہیں ثبات جاں دے رہا ہے سارا جہاں جس جمال پر لے چل کہیں بھی آرزو لیکن زبان دے ہرگز نہ خون روئے گی اپنے مآل پر ایسے ...

مزید پڑھیے

شام چھت پر اتر گئی ہوگی

شام چھت پر اتر گئی ہوگی درد سینے میں بھر گئی ہوگی خواب آنکھوں میں اب نئے ہوں گے زندگی بھی سنور گئی ہوگی میں تو کب سے اداس بیٹھا ہوں زندگی کس کے گھر گئی ہوگی ایک خوشبو تھی ساتھ میں اپنے کون ڈھونڈے کدھر گئی ہوگی اس کا چہرہ اداس ہے ماجدؔ آئینے پر نظر گئی ہوگی

مزید پڑھیے

لوگوں نے آکاش سے اونچا جا کر تمغے پائے

لوگوں نے آکاش سے اونچا جا کر تمغے پائے ہم نے اپنا انتر کھوجا دیوانے کہلائے کیسے سپنے کس کی آشا کب سے ہیں مہمان بنے تنہائی کے سونے آنگن میں یادوں کے سائے آنکھوں میں جو آج کسی کے بدلی بن کے جھوم اٹھی ہے کیا اچھا ہو ایسی برسے سب جل تھل ہو جائے دھول بنے یہ بات الگ ہے ورنہ اک دن ہوتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3841 سے 6203