قومی زبان

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے ایسی منزل سے ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے مرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہے ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں اک آدمی لئے شمع فسانہ آتا ہے ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ...

مزید پڑھیے

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مرے کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو اس کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ میں کوئی سیہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ محفوظ ہوں میں بجھنے والوں میں مرا نام نہیں آ ...

مزید پڑھیے

مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے

مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے زندگی چاکلیٹ کیک ہے تھوڑا تھوڑا سب کا حصہ ہے اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر اس کی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے لوک کہانیوں میں مابعد جدید کی پیش آمد جیسے فکشن کی ری سیل ویلیو میں مذہب کا حصہ ہے کے پی کے افغانستان ...

مزید پڑھیے

دل میں ہے اتفاق سے دشت بھی گھر کے ساتھ ساتھ

دل میں ہے اتفاق سے دشت بھی گھر کے ساتھ ساتھ اس میں قیام بھی کریں آپ سفر کے ساتھ ساتھ درد کا دل کا شام کا بزم کا مے کا جام کا رنگ بدل بدل گیا ایک نظر کے ساتھ ساتھ خواب اڑا دیے گئے پیڑ گرا دیے گئے دونوں بھلا دیے گئے ایک خبر کے ساتھ ساتھ شاخ سے اس کتاب تک خاک سے لے کے خواب تک جائے گا ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں

اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں ہم ستاروں نے یہ سوچا ہے کہ ہجرت کر جائیں دولت خواب ہمارے جو کسی کام نہ آئی اب کسی کو نہیں ملنے کی وصیت کر جائیں دہر سے ہم یوں ہی بیکار چلے جاتے تھے پھر یہ سوچا کہ چلو ایک محبت کر جائیں اک ذرا وقت میسر ہو تو آ کر مرے دوست دل میں کھلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا یار کرایہ دار کو گھر پر قبضہ کرنے مت دینا جاب ضروری ہوتی ہے صاحب مجبوری ہوتی ہے جاب کے گھن چکر میں پڑ کر خواب بکھرنے مت دینا ایسی لہریں ایسی بحریں کب قسمت سے ملتی ہیں اچھے مانجھی اب نیا کو پار اترنے مت دینا ایک دفعہ کا ذکر ہے دونوں اک ...

مزید پڑھیے

گل سخن سے اندھیروں میں تاب کاری کر

گل سخن سے اندھیروں میں تاب کاری کر نئے ستارے کھلا خواب شار جاری کر بس اب فقیر کی دنیا میں اور دخل نہ دے تری بساط ہے دل بھر سو شہر یاری کر میں کاروبار جہاں کو سمیٹ کر آیا بس اتنی دیر تو دل کی نگاہ داری کر یہیں کہیں کسی لمحے میں دل بھی ہے لرزاں توجہ سارے زمانوں پہ باری باری کر وہی ...

مزید پڑھیے

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے فقیر حجرۂ ہفت آسماں اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ جس میں جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہمیں جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم وہ خواب خاک ہوئے اور وہ لوگ سائے ...

مزید پڑھیے

وہ گل وہ خوابشار بھی نہیں رہا

وہ گل وہ خوابشار بھی نہیں رہا سو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہا یہ دل تو اس کے نام کا پڑاؤ ہے جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا پڑا ہے خود سے واسطہ اور اس کے بعد کسی کا اعتبار بھی نہیں رہا یہ رنج اپنی اصل شکل میں ہے دوست کہ میں اسے سنوار بھی نہیں رہا یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے اور میں خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3835 سے 6203