قومی زبان

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں یہاں رواج ہے زندہ جلا دیے جائیں وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے ہوئے وہ خوش ہیں جیسے کسی باغ سے نکلتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا

دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا یہ شہر کا آخری قصہ گو تھا جو خاک سی دل میں اڑ رہی ہے یاں کوئی غزال ہو نہ ہو تھا اب سے یہ ہمارا گھر نہیں خیر پہلے بھی نہ تھا خیال تو تھا ثابت نہیں کر سکو گے تم لوگ کیا میرا وجود تھا چلو تھا دونوں گھڑیوں پر ہجر کا وقت ہونا نہیں چاہیے تھا سو تھا اس خواب ...

مزید پڑھیے

بھائی خدا کے بندہ جانیں دل کو جیسے رام کیا

بھائی خدا کے بندہ جانیں دل کو جیسے رام کیا اپنی بدھائی ہو دنیا پر چار چھ دن جو کام کیا ایک نشانی سی ساحل پر ساری کہانی چھوڑ گئی ڈوبتی ناؤ پر اس آخری موج نے کیا انعام کیا پیارے دشمن جیون جوگی آخر تم بھی دیکھ ہی لو گے خود کو خیر سے کہتے سنو گے ہم نے مذاق جو عام کیا نام پتا بے شک مت ...

مزید پڑھیے

ایک دن خواب نگر جانا ہے

ایک دن خواب نگر جانا ہے اور یونہی خاک بسر جانا ہے عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی یہ اسی خواب کا ہرجانا ہے گھر سے کس وقت چلے تھے ہم لوگ خیر اب کون سا گھر جانا ہے موت کی پہلی علامت صاحب یہی احساس کا مر جانا ہے کسی تقریب جدائی کے بغیر ٹھیک ہے جاؤ اگر جانا ہے شور کی دھول میں گم گلیوں ...

مزید پڑھیے

اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں (ردیف .. ے)

اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں تیری خاطر جو گلدستہ ڈھونڈ رہا ہے دل کو دھکے کھاتے نکالے جاتے دیکھ کے ساحل اپنا پکا دریا ڈھونڈ رہا ہے تسمہ کھلا جیسے آزاد تلازمہ ہو واہ ایک پہن کے دوسرا جوتا ڈھونڈ رہا ہے اس کے فلیٹ سے باہر کوئی دور کا دوست پاس کے بس اسٹاپ کا رستہ ڈھونڈ رہا ...

مزید پڑھیے

دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو

دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو دہر یہ اپنا خسارا سمجھو یہ بھی ممکن ہے کہ تم دور کے لوگ اس الاؤ کو ستارہ سمجھو یہ بھی اک موج ہے مٹی کی سہی وقت کم ہے تو کنارا سمجھو پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو کسے معلوم خزانہ مل جائے کوئی نقشہ تو دوبارہ سمجھو کھیت رل ...

مزید پڑھیے

دیکھ نہ اس طرح گزار عرصۂ چشم سے مجھے

دیکھ نہ اس طرح گزار عرصۂ چشم سے مجھے فرصت دید ہو نہ ہو مہلت خواب دے مجھے بسکہ گزشتنی ہے وقت بسکہ شکستنی ہے دل خواب کوئی دکھا کہ جو یاد نہ آ سکے مجھے خام ہی رکھ کے پختگی شکل ہے اک شکست کی آتش وصل کی جگہ خاک فراق دے مجھے ہاں اے غبار آشنا میں بھی تھا ہم سفر ترا پی گئیں منزلیں تجھے ...

مزید پڑھیے

یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں

یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں ابھی روشن ہے اک دیا مجھ میں وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا اور اک شور مچ گیا مجھ میں دونوں آدم کے منتقم بیٹے اور ہوا ان کا سامنا مجھ میں میں مدینے کو لوٹ آیا ہوں یعنی جاری ہے کربلا مجھ میں روشنی آنے والے خواب کی ہے دن تو کب کا گزر چکا مجھ میں اس اندھیرے میں ...

مزید پڑھیے

آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک

آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک مت آئے بہ ہر حال اسے عید مبارک ایسا ہو سب انسان ہوں خوش اتنے کہ ہر روز اک دوسرے سے کہتا پھرے عید مبارک ہاں مجھ سے جسے جس سے مجھے جو بھی گلہ ہو آباد رہے شاد رہے عید مبارک تنہائی سی تنہائی کہ دیوار بھی ششدر اب کھل کے کہے یا نہ کہے عید مبارک سرگوشی ...

مزید پڑھیے

مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں

مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں کتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میں تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں ورنہ وہ شہر وہ خیمے وہ سرا ہے مرے دل میں میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل میں دنیا سے گزرنے کو ابھی عمر پڑی ہے یہ خواب تو کچھ دن کو رکا ہے مرے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3836 سے 6203