قومی زبان

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے نغمہ گرو یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا عجیب حال تھا اس دشت کا میں آیا تو نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا ...

مزید پڑھیے

کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحب

کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحب ہم بھی نکلے ہیں تجھے دیکھنے صحرا صاحب یہ کچھ آثار ہیں اک خواب شدہ بستی کے یہیں بہتا تھا وہ دل نام کا دریا صاحب تھا یہی حال ہمارا بھی مگر جاگتے ہیں کیا عجب خواب سنایا ہے دوبارہ صاحب سہل مت جان کہ تجھ رخ پہ خدا ہوتے ہوئے دل ہوا جاتا ہے گرد رہ ...

مزید پڑھیے

دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر

دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر ہم سو گئے خواب سے لپٹ کر اب دل میں وہ سب کہاں ہے دیکھو بغداد کہانیوں سے ہٹ کر شاید یہ شجر وہی ہو جس پر دیکھو تو ذرا ورق الٹ کر اک خوف زدہ سا شخص گھر تک پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر کاغذ پہ وہ نظم کھل اٹھی ہے اگ آیا ہے پھر درخت کٹ کر بابرؔ یہ پرند تھک گئے ...

مزید پڑھیے

اور وحشت ہے ارادہ میرا

اور وحشت ہے ارادہ میرا حق ہے صحرا پہ زیادہ میرا تو یہی کچھ ہے وہ دنیا یعنی ایک متروک ارادہ میرا رات نے دل کی طرف ہاتھ بڑھائے یہ ستارا بھی ہے آدھا میرا آب جو میں تو چلا جلدی ہے اک سمندر سے ہے وعدہ میرا دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ ملتا جلتا تھا لبادہ میرا

مزید پڑھیے

دل کوئی آئینہ نہیں ٹوٹ کے رہ گیا تو پھر

دل کوئی آئینہ نہیں ٹوٹ کے رہ گیا تو پھر ٹھیک ہی کہہ رہے ہو تم ٹھیک نہ ہو سکا تو پھر اس کو بھلانے لگ گئے اس میں زمانے لگ گئے بعد میں یاد آ گیا وہ کوئی اور تھا تو پھر پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر راستے اجنبی سے تھے پیڑ تھے سو کسی کے ...

مزید پڑھیے

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں کشتی پہ تھے کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں آئینے کا یہ کون سا سیزن ہے ہمیں کیا دیوار کو تکتے ...

مزید پڑھیے

عندلیبوں سے کبھی گل سے کبھی لیتا ہوں

عندلیبوں سے کبھی گل سے کبھی لیتا ہوں عزم برداشت دم تشنہ لبی لیتا ہوں طنز کی سرد ہوائیں جو ستاتی ہیں مجھے شدت گرمیٔ احساس کو پی لیتا ہوں زندگی باقی بھی اپنوں میں گزر جائے گی اس لیے تلخئ حالات کو پی لیتا ہوں مجھ پہ سب لوگ گنہ ڈال دیا کرتے ہیں کس لیے کس کے لیے دریا دلی لیتا ...

مزید پڑھیے

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں رستہ دیکھنے والی آنکھوں کے انہونے خواب پیاس میں بھی دریاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں ایک ذرا سی جوت کے بل پر اندھیاروں ...

مزید پڑھیے

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں نہ جانے خلق خدا کون سے عذاب میں ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے میں کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں یہی ہے ...

مزید پڑھیے

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں کوئی فغاں کوئی نالہ کوئی بکا کوئی بین کھلے گا باب مقفل دعا کیے جائیں یہ اضطراب یہ لمبا سفر یہ تنہائی یہ رات اور یہ جنگل دعا کیے جائیں بحال ہو کے رہے گی فضائے خطۂ خیر یہ حبس ہوگا معطل دعا کیے جائیں گزشتگان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3834 سے 6203