ہے یہ مر مٹنے کا انعام تمہیں کیا معلوم
ہے یہ مر مٹنے کا انعام تمہیں کیا معلوم لذت دشنئہ بد نام تمہیں کیا معلوم تم نے دیکھی ہے فقط میری پریشاں حالی مجھ پہ کیا کیا ہوئے اکرام تمہیں کیا معلوم حیرتی ہو کے اٹھائے ہوئے دل پھرتے ہیں اس کے لگ جانے کا انجام تمہیں کیا معلوم جذبۂ خواہش و احساس کی اس بازی میں کون ہو جائے گا ...