قومی زبان

ہے یہ مر مٹنے کا انعام تمہیں کیا معلوم

ہے یہ مر مٹنے کا انعام تمہیں کیا معلوم لذت دشنئہ بد نام تمہیں کیا معلوم تم نے دیکھی ہے فقط میری پریشاں حالی مجھ پہ کیا کیا ہوئے اکرام تمہیں کیا معلوم حیرتی ہو کے اٹھائے ہوئے دل پھرتے ہیں اس کے لگ جانے کا انجام تمہیں کیا معلوم جذبۂ خواہش و احساس کی اس بازی میں کون ہو جائے گا ...

مزید پڑھیے

رحمتوں میں تری آغوش کی پالے گئے ہم

رحمتوں میں تری آغوش کی پالے گئے ہم ایسے مردود ہوئے پھر کہ نکالے گئے ہم آسمانوں کو سنبھالے رہی قدرت تیری اتنے سرکش تھے کہ تجھ سے نہ سنبھالے گئے ہم عشق کی بو تھی تجسس کا نشہ شوق کا رنگ ساغر گل میں ترے واسطے ڈھالے گئے ہم تجربات اپنے مقدر میں لیے مرحلہ وار تیرے بازار تماشا میں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب جو طبیعت کبھی گھبرائی ہے

ہجر کی شب جو طبیعت کبھی گھبرائی ہے تو نہ آیا تو تیری یاد بہت آئی ہے پر خطر کتنی یہ ماحول کی تنہائی ہے دل سے اک بات نہ نکلی تھی کہ اک آئی ہے دست الفت دل بے کل کی طرف یوں لائے کوئی سمجھے یہ ترا ناز ہے انگڑائی ہے حادثے ہیں ابھی کتنے اسی خطرے کے تحت اس میں رسوائی ہے اس میں تری رسوائی ...

مزید پڑھیے

اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالو

اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالو نگاہیں تھک چکیں جن سے وہ نظارے بدل ڈالو زمانہ تشنہ کام امن ہے تسکیں کا بھوکا ہے چلو ظلم و تشدد خیز گہوارے بدل ڈالو تمہارے ہاتھ میں آنے کو ہے پھر گردش دوراں عزائم اپنے بھی کچھ اے مرے پیارے بدل ڈالو یہاں تو سب کو جینا ہے سبھی کو جینے دینا ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میں

ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میں اب اپنے آپ کو رہ رہ کے ڈھونڈھتا ہوں میں ہجوم شورش جلوہ سے آشنا ہوں میں اک اجنبی سا الگ دور جا کھڑا ہوں میں حریم ناز میں بے وقت آ گیا یہ بجا حضور سوچیں تو کیا کوئی دوسرا ہوں میں شب فراق میں اک آس لے کے وعدوں کی چراغ اشک لئے راہ پر کھڑا ہوں ...

مزید پڑھیے

اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے انسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہے اپنے لہو کا رنگ بھی پہچانتی نہیں انسان کے نصیب میں اندھوں کی نسل ہے منصف تو فیصلوں کی تجارت میں لگ گئے اب جانے کس سے ہم کو تقاضائے عدل ہے دشمن کا حوصلہ کبھی اتنا قوی نہ تھا میرے تباہ ہونے میں تیرا بھی دخل ...

مزید پڑھیے

یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے

یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے ہو جدائی تو ملاقات سمجھ میں آئے روح کی پیاس پھواروں سے کہیں بجھتی ہے ٹوٹ کے برسے تو برسات سمجھ میں آئے جاگتے لب مرے اور اس کی جھپکتی آنکھیں نیند آئے تو کہاں بات سمجھ میں آئے لی تھی موہوم تحفظ کے گھروندے میں پناہ ریت جب بکھری تو حالات سمجھ میں ...

مزید پڑھیے

حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئے

حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئے کہ موڑ ہوتے ہیں ہر راہ ہر گلی کے لئے نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے بس ایک لفظ ندامت ہوں زندگی کے لئے وہ تتلیوں کی طرح مجھ سے اور دور ہوا بڑھایا جس کی طرف ہاتھ دوستی کے لئے یہ عضو عضو مرا پیاس سے سلگتا ہے مجھے لہو کی ضرورت ہے تشنگی کے لئے اب ...

مزید پڑھیے

اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا

اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا چھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیا آج اس کی بے زبانی نے مجھے سمجھا دیا کس لئے فطرت نے گل کو بے زباں رہنے دیا زندگی تو کیا اثاثہ تک نہیں باقی بچا قاتلوں نے اب کے بس خالی مکاں رہنے دیا خوف رسوائی سے میں نے خط جلا ڈالا مگر جانے کیوں اس چاند سے ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دل (ردیف .. ن)

کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دل کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں اس بے وفا پہ بس نہیں چلتا تو کیا ہوا اڑتی رہیں گی اپنے گریباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3819 سے 6203