قومی زبان

ذہن سے دل کا بار اترا ہے

ذہن سے دل کا بار اترا ہے پیرہن تار تار اترا ہے ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ کون ایسے میں پار اترا ہے ترک مے کر کے بھی بہت پچھتائے مدتوں میں خمار اترا ہے دیکھ کر میرا دشت تنہائی رنگ روئے بہار اترا ہے پچھلی شب چاند میرے ساغر میں پے بہ پے بار بار اترا ہے

مزید پڑھیے

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی دور سے دوستی نہیں ہوتی جب دلوں میں غبار ہوتا ہے ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی چاند کا حسن بھی زمین سے ہے چاند پر چاندنی نہیں ہوتی جو نہ گزرے پری وشوں میں کبھی کام کی زندگی نہیں ہوتی دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے شام کو واپسی نہیں ہوتی آدمی کیوں ہے وحشتوں کا ...

مزید پڑھیے

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں چاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیں تنہائی سی تنہائی ہے کیسے کہیں کیسے سمجھائیں چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں اف یہ تلاش حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں صحن چمن میں پھول کھلے ہیں صحرا میں دیوانے ہیں ہم کو ...

مزید پڑھیے

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ میرے دشمن ہی کہلاؤ دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے کھیلو توڑو جی بہلاؤ کل اغیار میں بیٹھے تھے تم ہاں ہاں کوئی بات بناؤ کون ہے ہم سا چاہنے والا اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ حسن تھا جب مستور حیا میں عشق تھا خون دل کا رچاؤ حسن بنا جب بہتی گنگا عشق ہوا کاغذ کی ناؤ شب ...

مزید پڑھیے

پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیا

پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیا پھر دعا میں اثر نہیں آیا چین آئے گا کیسے آج کی شب تارے نکلے، قمر نہیں آیا لکھتے دیکھا تھا خواب میں ان کو اب تلک نامہ بر نہیں آیا میرے مرنے پہ آیا سارا جہاں جو تھا اک با خبر نہیں آیا چل بسی ماں لئے کھلی آنکھیں اس کا، نور نظر نہیں آیا یوں تو پتھر بہت سے ...

مزید پڑھیے

ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے

ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے پھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں نیند میری خواب سارے آپ کے ہم سے شاید معتبر ٹھہری صبا جس نے یہ گیسو سنوارے آپ کے آپ کی نظر کرم کے منتظر کب سے بیٹھے ہیں دوارے آپ کے کوئی اس کی آنکھ کو بھائے گا کیوں جس نے دیکھے ہوں نظارے آپ کے بن ...

مزید پڑھیے

وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھا

وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھا حسین ایسا کہ فخر گلاب لگتا تھا حلیم ایسا کہ دیوانی ایک دنیا تھی کہ اس سے ہاتھ ملانا ثواب لگتا تھا نبھانا رشتوں کا نازک کٹھن عمل نکلا جو دیکھنے میں تو سیدھا حساب لگتا تھا صراحی دار تھی گردن نشہ بھرے عارض سراپا اس کا مجسم شراب لگتا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

غلط فہمی کی سرحد پار کر کے

غلط فہمی کی سرحد پار کر کے مٹا دو فاصلے ایثار کر کے یہ کاروبار بھی کب راس آیا خسارے میں رہے ہم پیار کر کے لگیں صدیاں بنانے میں جو رشتے وہ اک پل میں چلے مسمار کر کے گلے مل کر ہی دوری دور ہوگی ملے گا کیا ہمیں تکرار کر کے سگے بھائی بھی اب اک چھت کے نیچے وہ رہتے ہیں مگر دیوار کر ...

مزید پڑھیے

دل وہی اشک بار رہتا ہے

دل وہی اشک بار رہتا ہے غم سے جو ہمکنار رہتا ہے میں نے دیکھا خرد کے کاندھوں پر اک جنوں سا سوار رہتا ہے لب تبسم میں ہو گئے مشاق دل مگر سوگوار رہتا ہے ایک لمحے بھی سوچ لوں ان کو مدتوں اک خمار رہتا ہے دل رہے بے کلی کے گھیرے میں ذہن پہ تو سوار رہتا ہے تیرے خوابوں کی لت لگی جب سے رات ...

مزید پڑھیے

نفرتیں نہ عداوتیں باقی ہیں (ردیف .. ی)

نفرتیں نہ عداوتیں باقی ہیں گر رہیں گی تو الفتیں باقی رہ ہی جاتے ہیں سب فسانے یہاں ہیں جو باقی محبتیں باقی ٹمٹماتا دیا ہے بجھنے کو رہ گئیں کچھ ہی ساعتیں باقی ختم ہوں گی نہ یہ ملاقاتیں یار زندہ تو صحبتیں باقی جن پہ نازاں تھے یہ زمین و فلک اب کہاں ہیں وہ صورتیں باقی آج بھی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3820 سے 6203