قومی زبان

رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیں

رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیں چھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیں غیر ہو کوئی تو اس سے کھل کے باتیں کیجئے دوستوں کا دوستوں سے ہی گلہ اچھا نہیں اتفاقاً مل گیا تو پوچھ لو موسم کا حال کیوں نہیں ملتا وہ اس سے پوچھنا اچھا نہیں چوم کر جس کو خدا کے ہاتھ سونپا تھا نسیمؔ اس کے بارے ...

مزید پڑھیے

ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک

ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک یہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تک میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک گئے ہوؤں نے پلٹ کر صدا نہ دی مجھ کو میں کتنی بار گیا غار کے دہانے تک تجھے تو اپنے پروں پر ہی اعتبار نہیں تو کیسے آئے گا اڑ کر مرے زمانے تک کیا ...

مزید پڑھیے

سرائے چھوڑ کے وہ پھر کبھی نہیں آیا

سرائے چھوڑ کے وہ پھر کبھی نہیں آیا چلا گیا جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک شے مرے گھر میں اسی کے ذوق کی ہے جو میرے گھر میں بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکاں ہوں جس میں کوئی بھی مکیں نہیں رہتا شجر ہوں جس پہ کہ طائر کبھی نہیں ...

مزید پڑھیے

چاند پھر تاروں کی اجلی ریز گاری دے گیا

چاند پھر تاروں کی اجلی ریز گاری دے گیا رات کو یہ بھیک کیسی خود بھکاری دے گیا ٹانکتی پھرتی ہیں کرنیں بادلوں کی شال پر وہ ہوا کے ہاتھ میں گوٹا کناری دے گیا کر گیا ہے دل کو ہر اک واہمے سے بے نیاز روح کو لیکن عجب سی بے قراری دے گیا شور کرتے ہیں پرندے پیڑ کٹتا دیکھ کر شہر کے دست ہوس ...

مزید پڑھیے

سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیا

سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیا تجھ سے ملے ہوئے مجھے یہ بھی برس گیا بہتی رہی ندی مرے گھر کے قریب سے پانی کو دیکھنے کے لیے میں ترس گیا ملنے کی خواہشیں سبھی دم توڑتی گئیں دل میں کچھ ایسے خوف بچھڑنے کا بس گیا دیوار و در جھلستے رہے تیز دھوپ میں بادل تمام شہر سے باہر برس گیا تلووں ...

مزید پڑھیے

نام بھی جس کا زباں پر تھا دعاؤں کی طرح

نام بھی جس کا زباں پر تھا دعاؤں کی طرح وہ مجھے ملتا رہا نا آشناؤں کی طرح آ کہ تیرے منتظر ہیں آج بھی دیوار و در گونجتا ہے گھر میں سناٹا صداؤں کی طرح وہ شجر جلتا رہا خود کس کڑکتی دھوپ میں جس کا سایہ تھا مرے سر پر گھٹاؤں کی طرح جھک رہے تھے باغ کے سب پھول اس کے سامنے گھاس پر بیٹھا ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف جو شخص بھول گیا اس کو یاد ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھی

تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھی دیکھ لے اس چاند کو کچھ دور بادل ہے ابھی آنکھ تو خود کو نئے چہروں میں کھو کر رہ گئی دل مگر اس شخص کے جانے سے بوجھل ہے ابھی اب تلک چہرے پہ ہیں طوفاں گزرنے کے نشاں تہہ میں پتھر جا چکا پانی پہ ہلچل ہے ابھی تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تیرے نہ ...

مزید پڑھیے

وہ ملا مجھ کو نہ جانے خول کیسا اوڑھ کر

وہ ملا مجھ کو نہ جانے خول کیسا اوڑھ کر روشنی گم ہو گئی اپنا ہی سایا اوڑھ کر نیند سے بوجھ ہیں پتے اونگھتے سے پیڑ ہیں شہر سویا ہے خموشی کا لبادہ اوڑھ کر ڈھونڈھتا پھرتا تھا میں ہر شخص کے اصلی نقوش لوگ ملتے تھے مجھے چہرے پہ چہرا اوڑھ کر منجمد سا ہو گیا ہوں خنکیٔ احساس سے دھوپ بھی ...

مزید پڑھیے

لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کو

لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کو بچا گیا ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو میں گھوم پھر کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے ترے گھر کی رہ گزر مجھ کو جھلس رہا ہے بدن زیر سایۂ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو میں سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں میں ہنس رہا ہوں تو مل کے اداس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3810 سے 6203