قومی زبان

نیک اعمال کی ترغیب عمل دیتا ہے

نیک اعمال کی ترغیب عمل دیتا ہے علم انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے سب کو محنت کا صلہ اور وہ پھل دیتا ہے یعنی خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتا ہے پاس ہے عقل تمہارے تو یہ پہلے سوچو تم شجر ایسا لگانا کہ جو پھل دیتا ہے سن کے تحریک ملے جس سے زمانے بھر کو تجربہ مجھ کو مرا ایسی غزل دیتا ہے اپنا ...

مزید پڑھیے

ڈرا نہ پائے گا لشکر ترا ذرا مجھ کو

ڈرا نہ پائے گا لشکر ترا ذرا مجھ کو مرے خدا نے وہ بخشا ہے حوصلہ مجھ کو بنا ہے جب سے مرا ہم سفر کوئی جگنو دکھا رہا ہے اندھیرے میں راستہ مجھ کو سراغ ملتا نہیں ہے کہیں سے منزل کا یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا مجھ کو وہ جس کو سمجھا تھا میں نے یہاں حبیب اپنا وہ شخص دینے لگا ان دنوں دغا ...

مزید پڑھیے

میزان فن پہ رکھ کر سانچے میں ڈھالتے ہیں

میزان فن پہ رکھ کر سانچے میں ڈھالتے ہیں چشم غزل سے شاعر کاجل نکالتے ہیں دامن پہ داغ ان کے ہم نے انہیں کے دیکھے کیچڑ جو دوسروں پر اکثر اچھالتے ہیں اپنوں نے تو گرایا ہر بار ہر ڈگر پر احساں ہے دشمنوں کا ہم کو سنبھالتے ہیں بیمار خواہشوں کی تکمیل کے لیے ہی انسان الجھنوں میں کیوں ...

مزید پڑھیے

فسادوں کے لئے راہیں یوں سمجھو کھول دیتا ہے

فسادوں کے لئے راہیں یوں سمجھو کھول دیتا ہے امڈتی بھیڑ سے جانے وہ کیا کچھ بول دیتا ہے نہ سمجھا آج تک کوئی بھی اس کی اس سیاست کو کسی کی جھولی بھرتا ہے کسے کشکول دیتا ہے تم اس کے ظلم کا لوگو لگاؤ اس سے اندازہ وہ رسی کاٹ کر ہاتھوں میں جس دم ڈول دیتا ہے بناتا ہے سدا ہم کو تشدد کا ...

مزید پڑھیے

ہماری محفلوں میں بے حجاب آنے سے کیا ہوگا

ہماری محفلوں میں بے حجاب آنے سے کیا ہوگا نہیں جب ہوش میں ہم جلوہ فرمانے سے کیا ہوگا جنوں کے ساتھ تھوڑی سی فضائے لا مکاں بھی دے مری وحشت کو اس دنیا کے ویرانے سے کیا ہوگا ہے مر جانا کلید فتح سمجھایا تھا رندوں نے مگر ناصح یہ کہتا ہے کہ مر جانے سے کیا ہوگا زہے قسمت اگر حضرت خود اپنا ...

مزید پڑھیے

ناکامی

بند آنکھیں کیے سر ساحل کل سحر دم یہ سوچتا تھا میں نیند کی گود میں زمانہ ہے، بیڑیاں توڑ دوں، نکل جاؤں وادیٔ ہو میں جا کے کھو جاؤں دفعتاً ایک موج نے بڑھ کر اپنا سر میرے پاؤں پر رکھا اور کہا دیکھ چشم دل سے دیکھ نیلگوں بحر کتنا دل کش ہے ہے زمیں کس قدر حسین و جمیل آسماں کتنا خوبصورت ...

مزید پڑھیے

ویرانۂ خیال

دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجوم بے خبر ماحول سے چپ چاپ خود سے ہم کلام چل رہا ہے سر جھکائے اس طرح جس طرح مرگھٹ پہ روحوں کا خرام زرد چہروں پر ہے صدیوں کی تھکن سانس لیتے ہیں کچھ ایسے جیسے ہوتی ہو چبھن ہونٹ پر غمگیں تبسم اور سینے میں بکا ہر قدم پر ہڈیوں کے کڑکڑانے کی صدا ان کی ...

مزید پڑھیے

احساس

میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھن ہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹن کوئی شعلہ نہ کرن سرد ہونے کو ہے دل کی دھڑکن تک رہی ہے مجھے کس حسرت سے میرے بستر کی ہر اک درد سے بھرپور شکن ڈس نہ لے دل کو یہ تنہائی کے احساس کی کالی ناگن اے مرے خواب کی دلکش پریو گنگناتی ہوئی زلفوں کی ...

مزید پڑھیے

آسمانوں سے نہ اترے گا صحیفہ کوئی

آسمانوں سے نہ اترے گا صحیفہ کوئی اے زمیں ڈھونڈ لے اب اپنا مسیحا کوئی پھر در دل پہ کسی یاد نے دستک دی ہے پھر بہا کر مجھے لے جائے گا دریا کوئی یہ تو محفل نہ ہوئی مقتل احساس ہوا آئنہ دے کے مجھے لے گیا چہرہ کوئی کتنے ویران ہیں یادوں کے در و بام نہ پوچھ بھول کر بھی ادھر آیا نہ پرندہ ...

مزید پڑھیے

مٹتی قدروں میں بھی پابند وفا ہیں ہم لوگ

مٹتی قدروں میں بھی پابند وفا ہیں ہم لوگ کسی چلتے ہوئے جوگی کی صدا ہیں ہم لوگ منزلیں پاؤ گے ہم خاک نشینوں کے طفیل ہم نے مانا کہ نشان کف پا ہیں ہم لوگ اہل مے خانہ ہمیں دیکھ کے ہنستے ہیں تو کیا پیر مے خانہ کو معلوم ہے کیا ہیں ہم لوگ زندگی قید کی مدت ہے تو یہ بھی سچ ہے اپنے ناکردہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3789 سے 6203