قومی زبان

دن کے لمحوں میں مرے دل کی صدا ہے کوئی

دن کے لمحوں میں مرے دل کی صدا ہے کوئی شب کی ظلمت میں تبسم کی ضیا ہے کوئی چلئے اچھا ہے مرے پیچھے پڑا ہے کوئی میرے بارے میں تو کچھ سوچ رہا ہے کوئی سانس لینے نہیں دیتی ہے مسائل کی چبھن زندگانی کی سزا کاٹ رہا ہے کوئی کیا تری آنکھ کی گہرائی میں شعلے ہیں نہاں کس طرح جھیل کے پانی سے جلا ...

مزید پڑھیے

قدح لیے ہوئے گل مثل بادہ خوار آیا

قدح لیے ہوئے گل مثل بادہ خوار آیا خزاں چمن سے گئی موسم بہار آیا کسی طریق سے دل میں اگر غبار آیا ہوا یقین یہ مجھ کو وہ شہ سوار آیا تمام عمر یوں ہی ہو گئی بسر اپنی شب فراق گئی روز انتظار آیا گل سوار و پیادہ شکست کھا گئے سب چمن میں جب تن تنہا وہ شہسوار آیا خبر کرے کوئی زاہد کو آئے ...

مزید پڑھیے

ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی

ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی ہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کی وصل کی شب چاندنی دیوار سے جانے نہ پائے منتیں کرتا ہوں ہر خار سر دیوار کی استرا پھرنے سے روئے یار پر ہے دور خط چال اس کم بخت نے سیکھی ہے کیا پرکار کی نشۂ مے کا گماں کرنے لگا وہ بدگماں دیکھ کر سرخی ہمارے دیدۂ ...

مزید پڑھیے

جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں

جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں چاک کرنے کے لیے اے ناصح ہم گریبان سیا کرتے ہیں ساغر چشم سے ہم بادہ پرست مئے دیدار پیا کرتے ہیں زندگی زندہ دلی کا ہے نام مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں سنگ اسود بھی ہے بھاری پتھر لوگ جو چوم لیا کرتے ہیں کل نہ دے گا کوئی مٹی بھی ...

مزید پڑھیے

تلاش میں نے زندگی میں تیری بے شمار کی

تلاش میں نے زندگی میں تیری بے شمار کی جو تو نہیں ملا تو تجھ سی شکل اختیار کی تقاضہ کرنے موت آئی تب مجھے پتہ لگا ابھی تلک میں لے رہا تھا سانس بھی ادھار کی تھی سرد یاد کی ہوا میں دشت میں تھا ماضی کے نہ پوچھئے جناب میں نے کیسے رات پار کی تمام شب گزر گئی بس ایک اس امید میں پلٹ کے آئے ...

مزید پڑھیے

خزاں کے ہوش کسی روز میں اڑاتا ہوا

خزاں کے ہوش کسی روز میں اڑاتا ہوا تمہیں دکھوں گا یقیناً بہار لاتا ہوا تمام وار مری روح پر تھے لیکن میں تمام عمر پھرا جسم کو بچاتا ہوا خوشی سے کرنا روانہ مرے مکاں مجھ کو میں ہار جاؤں اگر وحشتیں ہراتا ہوا بہت اداس اکیلا ہمیشہ لوٹا کیوں فلک پہ جو بھی دکھا مجھ کو جگمگاتا ہوا مجھے ...

مزید پڑھیے

خدا تو اتنی بھی محرومیاں نہ طاری رکھ

خدا تو اتنی بھی محرومیاں نہ طاری رکھ ہمارے جسم میں اک روح تو ہماری رکھ اسی بہانے ہی شاید ترا خیال رکھے تو اپنے آپ پہ دنیا کی کچھ ادھاری رکھ تمام خواب ترے گل نہ جائیں اس میں ہی یوں ہر سمے نہ مرے یار آنکھیں کھاری رکھ لہو سے بیاج چکانا پڑے گا اب تجھ کو دیا یہ مشورہ کس نے کہ جاں ...

مزید پڑھیے

میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا

میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا انجام کہہ رہا ہے خطا میں لگا رہا سارے پرانے زخم نئے زخم نے بھرے بے کار اتنے دن میں دوا میں لگا رہا ایسا نہیں کہ چاند نہ اترا ہو بام پر میں ہی تمام رات حیا میں لگا رہا اے عقل اور ہوگا کوئی اس کی شکل کا دل کیسے مان لے وہ جفا میں لگا رہا گھر کر لیا ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں اور حد یہ ہے کہ کہنا ہے روانی میں ہوں میں زندگی جکڑے ہوئے تھی مرے اندر مجھ کو موت کے بعد لگا جیسے روانی میں ہوں میں میرے ہونے پہ جہاں مجھ کو ہی شک ہوتا تھا آج اس شہر کی نایاب نشانی میں ہوں میں میرا کردار تو بالکل بھی نہیں مجھ جیسا کوئی ...

مزید پڑھیے

آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا

آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا زندگی ہم سے کوئی ٹھور بنایا نہ گیا آسماں مجھ سے میاں حجرے میں لایا نہ گیا شاعری چھوڑ دی مفہوم چرایا نہ گیا نوکری کی، لکھی نظمیں، سکوں پایا نہ گیا شہر دل تجھ کو کسی طور بسایا نہ گیا گھر کی ویرانیاں رسوا ہوئیں بے کار میں ہی مجھ سے بازار میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3788 سے 6203