قومی زبان

یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں

یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں ہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیں پہروں چپ رہتے ہیں ہم اور اگر بولتے ہیں وہی پھر پھر کے الٹتی ہیں تمہاری باتیں غیر ہر دم مجھے باتیں جو سنا جاتے ہیں جانتا ہوں یہ میں اے جان تمہاری باتیں یاد آتا ہے ترا کیا کے عوض کا کہنا ہائے پھر کب میں سنوں گا ...

مزید پڑھیے

ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ

ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ ہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ سو رمز کی کرتا ہے اشارے میں وہ باتیں ہے لطف خموشی میں تکلم سے زیادہ جز صبر دلا چارہ نہیں عشق بتاں میں کرتے ہیں یہ ظلم اور تظلم سے زیادہ مے خانے میں سو مرتبہ میں مر کے جیا ہوں ہے قلقل مینا مجھے قم قم سے ...

مزید پڑھیے

آؤ کچھ گردش تقدیر کا شکوہ کر لیں

آؤ کچھ گردش تقدیر کا شکوہ کر لیں جس سے محروم رہے اس کی تمنا کر لیں جس طرف دیکھیے آئینے ہی آئینے ہیں اپنی صورت کا بصد رنگ تماشا کر لیں حسن مجبور ہے خود جلوہ نمائی پہ مگر مصلحت یہ ہے کہ کچھ ہم بھی تقاضا کر لیں نونہالان چمن تشنہ نہ ہو جائیں کہیں آؤ کچھ خون جگر اور مہیا کر لیں جیب و ...

مزید پڑھیے

پڑ گئی دل پر میرے افتاد کیا

پڑ گئی دل پر میرے افتاد کیا عشق کافر کر گیا برباد کیا جس کو پہروں ہوش تک آنا نہ ہو اس میں ہوگی طاقت فریاد کیا تجھ میں جرأت ہے تو کچھ خطرہ نہیں کر سکے گی چرخ کی بیداد کیا دل ہی جب اپنا ہوا ایذا‌ طلب چاہیں اس کے ظلم کی ہم داد کیا خواب میں بھی آپ جب آتے نہیں رہ سکوں گا پھر بھلا میں ...

مزید پڑھیے

آدمی اور آبرو کے بغیر

آدمی اور آبرو کے بغیر پھول ہو جیسے رنگ و بو کے بغیر میں فدا تجھ پہ اے نگاہ کرم چل گیا کام گفتگو کے بغیر کیا اسی کا ہے نام مے خانہ لوگ بیٹھے ہیں ہا و ہو کے بغیر تھا رگ جاں سے تو قریب مگر پا سکے ہم نہ جستجو کے بغیر کیا مجھے تم خدا سمجھتے ہو بات کرتے نہیں جو تو کے بغیر فرض کر لو کہ ...

مزید پڑھیے

حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں

حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں جانئے عشق کو ایک مجرم معذور میاں قرب گر اور نہ بڑھ جائے تو میرا ذمہ کھینچ کر دیکھیے اپنے کو ذرا دور میاں مل رہی ہے ہمیں قسمت سے وہ صہبا کہ جسے پی کے ہوتا نہیں کوئی بھی مخمور میاں اپنی راتوں کو جو بیدار رکھا کرتے ہیں ان کی بیداری کو درکار ہے اک ...

مزید پڑھیے

پہروں بیٹھا یہ سوچتا ہوں

پہروں بیٹھا یہ سوچتا ہوں میں بھی کسی درد کی دوا ہوں سیماب نہیں مگر ہوں مضطر محشر نہیں پھر بھی میں بپا ہوں سوئی ہوئی قوم کا ہوں رہبر سوتے میں اذان دے رہا ہوں پہلے گزرا ہے مجھ سے فرہاد یوں کہہ دو مجھے کہ دوسرا ہوں رستہ سنسان ہو نہ جائے میں اس لئے کانٹے بو رہا ہوں جگ بیت چکے مگر ...

مزید پڑھیے

پھر آس پاس سے دل ہو چلا ہے میرا اداس

پھر آس پاس سے دل ہو چلا ہے میرا اداس پھر ایک جام کہ برجا ہوں جس سے ہوش حواس ہزار رنگ سہی پر نہیں ذرا بو باس ہوائے صحن چمن ہم کو آئے کیسے راس ستارے اب بھی چمکتے ہیں آسماں پہ مگر نہیں ہیں شومئ قسمت سے ہم ستارہ شناس کھلے ہیں پھول ہزاروں چمن کے دامن پر نوا گران چمن کو مگر نہیں ...

مزید پڑھیے

کون گلشن میں رہے نرگس حیراں کی طرح

کون گلشن میں رہے نرگس حیراں کی طرح آؤ چمکا دیں اسے مہر درخشاں کی طرح عمر بھر راہ نوردی کا رہا ہم کو جنوں خار زاروں سے بھی گزرے ہیں گلستاں کی طرح تار باقی ہیں جو دو چار گریباں میں مرے ٹوٹ جائیں نہ کہیں تار رگ جاں کی طرح لوگ کہتے ہیں کہ ہو باغ میں لیکن ہم کو یاں کہ ہر شے نظر آتی ہے ...

مزید پڑھیے

دن کے لمحوں میں مرے دل کی صدا ہے کوئی

دن کے لمحوں میں مرے دل کی صدا ہے کوئی شب کی ظلمت میں تبسم کی ضیا ہے کوئی چلئے اچھا ہے مرے پیچھے پڑا ہے کوئی میرے بارے میں تو کچھ سوچ رہا ہے کوئی سانس لینے نہیں دیتی ہے مسائل کی چبھن زندگانی کی سزا کاٹ رہا ہے کوئی کیا تری آنکھ کی گہرائی میں شعلے ہیں نہاں کس طرح جھیل کے پانی سے جلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3787 سے 6203