قومی زبان

مرے جنوں کو ہے تجھ سے ثبات پھر ملنا

مرے جنوں کو ہے تجھ سے ثبات پھر ملنا مری نظر کی حسیں کائنات پھر ملنا کبھی جو دن کے اجالے میں آ نہ پائے اگر تو شوق دید میں جاگے گی رات پھر ملنا بس ایک تو ہی بہانہ ہوا ہے جینے کا وگرنہ درد ہے ساری حیات پھر ملنا ہزار رنگ ہیں تیرے کہ مجھ سے لپٹے ہیں جلو میں لے کے دھنک کی برات پھر ...

مزید پڑھیے

تمہارے وصل کا بس انتظار باقی ہے

تمہارے وصل کا بس انتظار باقی ہے میں رنگ رنگ ہوں لیکن سنگھار باقی ہے ہوائیں تھم گئیں گرد و غبار بیٹھ گیا اک اپنی ذات کا بس انتشار باقی ہے تمام عمر پلایا ہے جس کو اپنا لہو اس ایک پھول پہ اب تک نکھار باقی ہے تمہارے نام کی خوشبو سے رچ گئی ہے فضا صدا کی گونج میں پیہم پکار باقی ہے جو ...

مزید پڑھیے

ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیں

ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیں دریچے بند رہنے دو، ہوائیں شور کرتی ہیں یہی تو فکر کے جلتے پروں پہ تازیانہ ہے کہ ہر تاریک کمرے میں دعائیں شور کرتی ہیں کہا نا تھا حصار اسم اعظم کھینچنے والے یہاں آسیب رہتے ہیں بلائیں شور کرتی ہیں ہمیں بھی تجربہ ہے بے گھری کا چھت نہ ہونے ...

مزید پڑھیے

تیرے الطاف کا لطف اٹھاتے رہے

تیرے الطاف کا لطف اٹھاتے رہے نور برسا کیا ہم نہاتے رہے کون تھا وہ خدایا خدا کا جمال من ہی من میں پہیلی بجھاتے رہے یہ سمجھ کر فقیری ہی میں ہے خدا گن ہمیشہ فقیروں کے گاتے رہے راز حق آشنا کا کھلا جب کبھی بادشہ تک حضوری میں آتے رہے ہم نے صحرا میں تنہا جلایا دیا پھر سدا آندھیوں سے ...

مزید پڑھیے

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ تارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھ کتنا آسان سا تعلق تھا کتنا مشکل ہوا ہے عمر کے ساتھ پھر سفر نام ہے اذیت کا راستہ ہانپتا ہے عمر کے ساتھ کس کی آنکھوں کو نیند چبھتی ہے کون جاگا رہا ہے عمر کے ساتھ جانے آرام آئے گا کب تک درد بڑھنے لگا ہے عمر کے ساتھ اک گنہ ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی میں اپنے آپ سے رخصت ہوئی تھی پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا ذرا سا مجھے خود پر بڑی حیرت ہوئی تھی اچانک آ گئی تھی اپنے آگے اچانک بات کی جرأت ہوئی تھی خود اپنا ساتھ بھی چبھنے لگا تھا عجب تنہائی کی عادت ہوئی تھی مرے اندر بھنور اٹھنے لگے تھے سمندر سے بڑی وحشت ...

مزید پڑھیے

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ جو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھ کبھی سر میں سودا سما کوئی کبھی ریگزار میں رقص کر کبھی زخم باندھ کے پاؤں میں کہیں سرخ سرخ دھمال رکھ جو چرائی ہے شب تار سے کئی رتجگوں کو گزار کے وہی کاجلوں کی لکیر ہے اپنی آنکھ میں ڈال ...

مزید پڑھیے

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ بات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھ ایک کافر کی مسیحائی کے دست فیض سے مل رہے ہیں زخم کے دونوں کنارے کچھ نہ کچھ رنگ ہر دیمک زدہ تصویر میں بھرتے رہے اک تسلی کے لیے ہجراں کے مارے کچھ نہ کچھ اک پرانا خط کئی پھولوں کی سوکھی پتیاں اس بیاض ...

مزید پڑھیے

لمس تشنہ لبی سے گزری ہے

لمس تشنہ لبی سے گزری ہے رات کس جاں کنی سے گزری ہے اس مرصع نگار خانے میں آنکھ بے منظری سے گزری ہے ایک سایہ سا پھڑپھڑاتا ہے کوئی شے روشنی سے گزری ہے لوٹنے والے ساتھ ساتھ رہے زندگی سادگی سے گزری ہے کچھ دکھائی نہیں دیا شاید عمر اندھی گلی سے گزری ہے شام آتی تھی دن گزرنے پر کیا ہوا ...

مزید پڑھیے

خواب حقیقت

پانی عورت اور غلاظت اکثر خوابوں میں آتے ہیں مجھ کو پریشاں کر جاتے ہیں عورت ایک ہیولیٰ صورت کبھی اجنتا کی وہ مورت کبھی کبھی جاپانی گڑیا کبھی وہ اک ساگر شہزادی آب رواں کے دوش پہ لیٹی موجوں کے ہلکورے کھاتی سانپ کی آنکھوں میں انگارا اس کی ہر پھنکار میں وحشت اپنے ہر انداز میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 328 سے 6203