قومی زبان

اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں

اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں آسماں کون و مکاں دیوار و در کچھ بھی نہیں بڑھتا جاتا ہے اندھیرا جیسے جادو ہو کوئی کوئی پڑھ لیجے دعا لیکن اثر کچھ بھی نہیں جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سوار بھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں ہر نیا رستہ نکلتا ہے جو منزل کے ...

مزید پڑھیے

نظروں میں کہاں اس کی وہ پہلا سا رہا میں

نظروں میں کہاں اس کی وہ پہلا سا رہا میں ہنستا ہوں کہ کیا سوچ کے کرتا تھا وفا میں تو کون ہے اے ذہن کی دستک یہ بتا دے ہر بار کی آواز پہ دیتا ہوں صدا میں یاد آتا ہے بچپن میں بھی استاد نے میرے جس راہ سے روکا تھا وہی راہ چلا میں جی خوش ہوا دیکھے سے کہ آزاد فضا ہے بستی سے گزرتا ہوا صحرا ...

مزید پڑھیے

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے جس طرح کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے ڈھونڈا کوئی ساتھی جو کبھی دشت وفا میں اک اپنا ہی سایہ مجھے ہر بار ملا ہے سینے میں ہے محفوظ متاع غم دوراں دیباچئہ ایام مرے دل پہ لکھا ہے آہٹ سی شب غم جو تجھے دی ہے سنائی اے دل وہ ترے اپنے دھڑکنے کی صدا ہے ہو خیر ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں میں وہ انساں ہوں جسے نام و نسب یاد نہیں میں خیالوں کے پری خانوں میں لہرایا ہوں مجھ کو بے چارگیٔ محفل شب یاد نہیں خواہشیں رستہ دکھا دیتی ہیں ورنہ یارو دل وہ ذرہ ہے جسے شہر طلب یاد نہیں گرد سی باقی ہے اب ذہن کے آئینے پر کیسے اجڑا ہے مرا شہر طرب ...

مزید پڑھیے

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے ہوائے شوق ذرا اور بھی نکھار مجھے کبھی زباں نہ کھلی عرض مدعا کے لیے کیا ہے پاس ادب نے بھی شرمسار مجھے پرانے زخم نئے داغ ساتھ ساتھ رہے ملی تو کیسی ملی دعوت بہار مجھے پھر اہل ہوش کے نرغے میں آ گیا ہوں میں خدا کے واسطے اک بار پھر پکار مجھے بکھر رہی ...

مزید پڑھیے

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا دوست بچھڑا ہے ہر اک گام پہ کیسا کیسا دل کا آتش کدہ ویران پڑا تھا کب سے آنکھ سے بہنے لگا آگ کا دریا کیسا اس پہ تو فصل خزاں مار چکی ہے شب خوں موسم گل کے گزر جانے کا کھٹکا کیسا چاند سے چہرے نظر آنے لگے ہیں کتنے کھل گیا میری نگاہوں پہ دریچہ کیسا جس ...

مزید پڑھیے

صحن‌ چمن میں ہر سو پتھر

صحن‌ چمن میں ہر سو پتھر پھول تو پھول ہے خوشبو پتھر آج اک ایک کرن پتھرائی سورج تارے جگنو پتھر پتھرائے پتھرائے چہرے آنکھیں پتھر آنسو پتھر میری جانب ہر جانب سے آئے ہیں بے قابو پتھر راہ وفا پر چلنا مشکل ہر سو کانٹے ہر سو پتھر اہل جفا سے ہاتھ ملاتے ہو گئے میرے بازو پتھر اس ...

مزید پڑھیے

جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں

جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں بڑے دلچسپ افسانے بنے ہیں حقیقت کچھ تو ہوتی ہے یقیناً کہیں جھوٹے بھی افسانے بنے ہیں بہت نازاں تھے جو فرزانگی پر انہیں دیکھا تو دیوانے بنے ہیں کہ انداز نظر کی آذری سے دلوں میں کتنے بت خانے بنے ہیں جو شعلہ شمع کے دل میں ہے روشن اسی شعلے سے پروانے بنے ...

مزید پڑھیے

سورج کے ساتھ ساتھ ابھارے گئے ہیں ہم

سورج کے ساتھ ساتھ ابھارے گئے ہیں ہم تاریکیوں میں پھر بھی اتارے گئے ہیں ہم راس آ سکی نہ ہم کو ہوا تیرے شہر کی یوں تو قدم قدم پہ سنوارے گئے ہیں ہم کچھ قہقہوں کے ابر رواں نے دیا نکھار کچھ غم کی دھوپ سے بھی نکھارے گئے ہیں ہم ساحل سے رابطہ ہیں نہیں ٹوٹتا کبھی کیسے سمندروں میں اتارے ...

مزید پڑھیے

جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح

جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح دل کی تعمیر کہ کل تک تھی شوالوں کی طرح عقل وارفتہ کے بے نور بیابانوں میں ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح ہم کہ اس بزم میں ہیں سایۂ غم کی صورت کون دیکھے گا ہمیں زہرہ جمالوں کی طرح ہاتھ بڑھتا نہیں رندوں کا ہماری جانب ہم خرابات میں ہیں خالی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 324 سے 6203