اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں
اک خلا سا ہے جدھر دیکھو ادھر کچھ بھی نہیں آسماں کون و مکاں دیوار و در کچھ بھی نہیں بڑھتا جاتا ہے اندھیرا جیسے جادو ہو کوئی کوئی پڑھ لیجے دعا لیکن اثر کچھ بھی نہیں جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سوار بھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں ہر نیا رستہ نکلتا ہے جو منزل کے ...