قومی زبان

اب کسی کو دیکھ کر اک سمت مڑ جاتے ہیں ہم

اب کسی کو دیکھ کر اک سمت مڑ جاتے ہیں ہم جس سے ملنا چاہتے ہیں اس سے کتراتے ہیں ہم لوگ تجھ کو بے وفا کہتے ہیں ان سے کیا گلہ رنگ دنیا دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں ہم یہ نمی آنکھوں کی سینے کی جلن جاتی نہیں تیری محفل میں بھی تنہائی سے گھبراتے ہیں ہم مڑ کے دیکھا تھا تو سارا شہر پتھر ہو ...

مزید پڑھیے

مٹی موسم اور رنگ

تم جو مٹی موسم اور رنگ پہچانتے ہو اپنے تلووں کو کھرچ کر دیکھو تو ان گنت صدیوں پرانی مٹی کا لمس پا کر خوش ہو گے تم جو مٹی ہو اور ذرا غور سے دیکھو تو تمہارے جسم کی بیرونی سطحوں پر بے شمار موسموں کے نشاں تمہیں صاف دکھائی دیں گے تم جو موسم تو نہیں ہو لیکن موسموں ہی سے جنمے ہو اور موسموں ...

مزید پڑھیے

نہ میرا نام میرا ہے

نہ میرا نام میرا ہے نہ اس کا روپ اس کا ہے نہ میری شخصیت میری نہ اس کا غم فقط اس کا یہاں جو ہے فقط سایہ ہے نقطہ ہے کوئی پھیلا ہوا سایہ کوئی سمٹا ہوا نقطہ نقابوں سے ملو لوگو نقابوں ہی کو جتنے نام دے سکتے ہو دے ڈالو نقابیں راستے منزل پھیلتے سائے دیواریں نقابیں نام چہرے شخصیت احساس کی ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ اکائیاں

ریزہ ریزہ اکائیاں وہ ایک شے جس سے اپنا رشتہ جڑا ہوا ہے وہ ایک شے جو ہماری اس کی ہر ایک کی ہڈیوں میں پنہاں لہو لہو میں بسی ہوئی ہے وہ شے ازل سے جو اپنی مجلس میں جی سکی ہے نہ ٹوٹتی ہے نہ مر رہی ہے وہ ایک شے بے پناہ سی ہے وہ تنگ و تاریک سی گپھائیں ابھی ابھی ایک لمحہ میں جو سونی سونی سی ہو ...

مزید پڑھیے

لیڈر

ہزاروں ہاتھوں کو اپنی جانب بلند پا کر وہ سمجھا سب اسے سلام کر رہے ہیں اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں وہ خوش ہوا اور آگے بڑھ گیا ان بے شمار آنکھوں میں جھانکے بغیر جن میں گھور ترسکار بھرا تھا

مزید پڑھیے

قلم

اس کی گردن میری انگلیوں میں دبی تھی زبان باہر نکل آئی تھی پھر وہی ہوا جو ہونا تھا یعنی اس نے وہی اگلا جو میں چاہتا تھا

مزید پڑھیے

مجھ سے پوچھو

میں ہر دور میں جنما باتیں ہر یگ کی دہرا سکتا ہوں مجھ سے پوچھو میں سقراط کے ہونٹوں پر تھا زہر کا پیالہ میں نے پیا تھا اور سقراط مرا کب تھا رام نے کب بن باس لیا تھا وہ تو میں تھا چودہ سال تو میں نے کاٹے جنگل جنگل صحرا صحرا میں بھٹکا تھا اور لنکا تک تم کو تو معلوم نہیں ہے میں بھی نوح ...

مزید پڑھیے

آتی جاتی سانس کیسے تیرے غم سے من گئی

آتی جاتی سانس کیسے تیرے غم سے من گئی کیا بتائیں زندگی خود رفتگی کیوں بن گئی بات بھی سہہ لیں کسی کی اب کہاں اتنا دماغ تم سے روٹھے تھے لڑائی دوسروں سے ٹھن گئی کاغذوں سے میں ترا عریاں بدن ڈھکنے لگا جو بچا رکھی تھی اب تک وہ متاع‌ فن گئی ریزہ ریزہ چاند پلکوں کی چٹانوں پر ملا رات ...

مزید پڑھیے

کس نے دیا ہے کس کا سات

کس نے دیا ہے کس کا سات جانے بھی دو چھوڑو ہات میں نے دن میں بھی دیکھی دیواروں پر چسپاں رات بھیگ گیا میں ڈوب گیا اک آنسو ایسی برسات دیکھو اس سے مت کرنا کوئی ایسی ویسی بات اب کیوں اس کا نام لیا لو اب جاگو ساری رات دنیا سے جھگڑا کیا تھا دنیا سے بھی کھائی مات کمرہ ہے اندر سے ...

مزید پڑھیے

کاٹی ہے کیسے صبح کہاں شام بھول جائیں

کاٹی ہے کیسے صبح کہاں شام بھول جائیں ٹھہریں کہیں یہ گردش بے نام بھول جائیں پلکوں پہ آ سجا لیں سبھی خار پاؤں کے کیوں چلتے چلتے ہونے لگی شام بھول جائیں بہتی ہواؤں پہ نئے نوحے لکھا کریں اس گھومتی زمین کا انجام بھول جائیں کھل جائیں پانیوں میں جزیروں کی کھڑکیاں تجھ سے ملیں تو روح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2491 سے 6203