قومی زبان

چشم و گوش پہ پہرے ہیں

چشم و گوش پہ پہرے ہیں اندھے ہیں سب بہرے ہیں دکھ کی آنکھیں نیلی ہیں دکھ کے بال سنہرے ہیں نقش ابھی ہے خال ترا رنگ بھی تیرے گہرے ہیں میرا کوئی نام نہیں جانے کتنے چہرے ہیں معنی پر کوئی قید نہیں لفظوں پر کیوں پہرے ہیں دھیان کے رس میں ڈوبے لب بوسہ بوسہ چہرے ہیں اشکوں کی بارش ...

مزید پڑھیے

رات خوابوں نے پریشاں کر دیا

رات خوابوں نے پریشاں کر دیا صبح آئینے نے حیراں کر دیا بولے ''بیٹھو'' اور چہرے پر مرے ایک چہرہ اور چسپاں کر دیا میرے آگے کھینچ دی کیسی لکیر اک در بے در کا درباں کر دیا آپ پھولوں تتلیوں میں چھپ گئے ہم کو صحرا کا نگہباں کر دیا ایسے دیکھا جیسے دیکھا ہی نہیں آج ہم نے اس کو حیراں کر ...

مزید پڑھیے

اپنا شہکار ابھی اے مرے بت گر نہ بنا

اپنا شہکار ابھی اے مرے بت گر نہ بنا دل دھڑکتا ہے مرا تو مجھے پتھر نہ بنا قید آوارگیٔ جاں ہی بہت ہے مجھ کو ایک دیوار مری روح کے اندر نہ بنا آتی جاتی ہوئی سانسوں پہ لکیریں مت کھینچ میری تصویر مجھے پاس بٹھا کر نہ بنا وہ گھروندے ترے بچپن میں بھی ڈھ دیتی تھی اب تو وہ کھیل کی باتیں ...

مزید پڑھیے

جانے کس لیے روٹھی ایسے زندگی ہم سے

جانے کس لیے روٹھی ایسے زندگی ہم سے نام تک نہیں پوچھا بات بھی نہ کی ہم سے دیکھو وقت کی آہٹ تیز ہوتی جاتی ہے جو سوال باقی ہیں پوچھ لو ابھی ہم سے کوئی غم ادھر آئے اس کو گھورتی کیوں ہے اور چاہتی کیا ہے اب تری خوشی ہم سے ایک بھولی بسری یاد آج یاد کیوں آئی کیوں کسی کے ملنے کی آرزو ملی ...

مزید پڑھیے

ذکر تیرا کریں گے پھر تجھ سے

ذکر تیرا کریں گے پھر تجھ سے ابھی دیکھا نہیں ہے جی بھر کے پوچھ کر روشنی کے کھمبوں سے ڈھونڈتے ہیں مجھے گلی کوچے مر گئی رات میری آنکھوں میں دن کے فٹ پاتھ پر تھے خواب پڑے چاند کیوں آسماں سے اترے گا شاخ سے ٹوٹ جائیں گے پتے راز کیا ہے کسی کی سنگت کا تم اکیلے نظر نہیں آتے وہ ہنسی دل ...

مزید پڑھیے

کس دشت طلب میں کھو گئے ہم

کس دشت طلب میں کھو گئے ہم سایہ جو ملا تو سو گئے ہم لو آج بھلا دیا تمہیں بھی لو آج تمہارے ہو گئے ہم اے شمع فراق بجھ چکی شب اے ساعت وصل سو گئے ہم پھر اپنا نشاں کہیں نہ پایا اٹھ کر ترے ساتھ تو گئے ہم یوں صبح کے بھولے اپنے گھر کو لوٹے ہیں کہ اور کھو گئے ہم جب آنکھ کھلی تو ہم نہیں ...

مزید پڑھیے

چاند نے اپنا دیپ جلایا شام بجھی ویرانے میں

چاند نے اپنا دیپ جلایا شام بجھی ویرانے میں اس کی بستی دور ہے شاید دیر ہے اس کے آنے میں کیا پتھر کی بھاری سل ہے ایک اک لمحہ ماضی کا دیکھو دب کر رہ جاؤ گے اتنا بوجھ اٹھانے میں اس کو نہیں دیکھا ہے جس نے مجھ کو بھلا کیا سمجھے گا ان آنکھوں سے گزرنا ہوگا میرے دل تک آنے میں اپنی ذات سے ...

مزید پڑھیے

ہم ترا سایہ تھے سایہ ہو کے

ہم ترا سایہ تھے سایہ ہو کے پھر چلے آئے ہیں تجھ کو کھو کے درد کی فصل ہمیں یاد رہی بیج ہم بھول گئے تھے بو کے آنکھ نے دیکھا مگر کیا دیکھا عقل نے اور بھی کھائے دھوکے ایک طوفان کی آمد آمد ایک آنسو کوئی روکے روکے سب کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں تو ہم کوئی اتنا نہیں اس کو ٹوکے تیرا عاشق ...

مزید پڑھیے

یاد پھر آئی تری موسم سلونا ہو گیا

یاد پھر آئی تری موسم سلونا ہو گیا شغل سا آنکھوں کا بس دامن بھگونا ہو گیا اب کسی سے کیا کہیں ہم کس لئے برباد ہیں اب کسی کی کیوں سنیں جو کچھ تھا ہونا ہو گیا گیت بابل کے سنانے تیری سکھیاں آ گئیں میں ترے بچپن کا اک ٹوٹا کھلونا ہو گیا میری پلکوں پر مرے خوابوں کی کرچیں رہ گئیں نیند ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی آوارگی سے ڈر گئے

اپنی ہی آوارگی سے ڈر گئے بس میں بیٹھے اور اپنے گھر گئے ساری بستی رات بھر سوئی نہیں آسماں کی سمت کچھ پتھر گئے سب تماشا ساری دنیا دیکھ لی اس گلی سے ہو کے اپنے گھر گئے بیچ میں جب آ گئی دیوار جسم اپنے سائے سے بھی ہم بچ کر گئے اور کیا لو گے ہمارا امتحاں زندگی دی تھی سو وہ بھی کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2490 سے 6203