قومی زبان

وقت کی ریل گاڑی

میں تجھے ڈھونڈنے نکلا گھر سے اور اپنا ہی پتہ بھول گیا اب نہ وہ تو ہے نہ میں نہ وہ راستہ ہے نہ پیڑ نہ وہ مندر ہے نہ کٹیا نہ چراغ اب نہ وہ تو ہے نہ میں اور وہ لوگ کہاں کیسے ہیں میں جنہیں بھول کے خوش ہوں جو مجھے یاد بھی آئیں کیسی دیوار ہے یہ نیم فراموشی کی آؤ دیوار گرائیں اور اگر یہ نہ ...

مزید پڑھیے

تجربہ گاہ

پتھر کے کمرے میں اس نے مٹی دھات نمک کو ایٹم اور اس سے بھی چھوٹے ذروں میں بانٹا اک اونچی میز پہ لیٹے وقت کو کلوروفارم سونگھا کر اس کے ایک ایک عضو کو کاٹا صدیوں برسوں اور مہینوں اک اک پل میں ایک تکونے چمٹے سے ایک سلائڈ پر میری کچھ سانسیں رکھیں شیشے کی نلکی سے میری گردن کو ہلایا دو ...

مزید پڑھیے

کہانیاں تمام شب

کہانیاں تمام شب تمام شب کہانیاں بجھے ہوئے چراغ نے اداس رات سے کہی اداس رات نے لکھیں تمام شب کہانیاں عروج کی بساط پر زوال کی کہانیاں کہانیاں تمام شب وہ جسم یا عذاب ہے وہ آنکھ یا کتاب ہے وہ ہونٹ یا گلاب ہے کتاب میں عذاب کی گلاب کی کہانیاں تمام شب کہانیاں کہانیاں تمام شب

مزید پڑھیے

میں یہ چاہتا ہوں

میں یہ چاہتا ہوں سمندر کے ساحل پہ بھیگی ہوئی ریت پر گال رکھے چند لمحے اسی طرح لیٹا رہوں مگر وقت کی بھیڑ میں مرے پاس اپنے لیے چند لمحے کہاں ہواؤں کے اس شور میں میرے گریبان کی دھجیاں اب کہاں سمندر کی آغوش میں اتنی لہریں ہیں ایک بھی لہر ایسی نہیں جو لے جائے مجھ کو بہا کر اک ایسے جزیرے ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

میں نے ریس میں ایک گھوڑے پر ہزار روپے لگائے اور ہار گیا میں نے اپنے بیٹے کو وہ سب کچھ دیا۔۔۔ جو دے سکتا تھا ساری آسائشیں ترک کر کے لیکن بھول گیا اسے اپنی زندگی جینا ہے منظر بدلتے رہے پھر وہ آ گئی اور بھی لوگ آئے لیکن ہر شخص کے ساتھ اس کے اپنے سائے تھے اور جب سارے سائے رخصت ...

مزید پڑھیے

ہم تھے کسی کا دھیان تھا وہ بھی نہیں رہا

ہم تھے کسی کا دھیان تھا وہ بھی نہیں رہا اک ربط جسم و جان تھا وہ بھی نہیں رہا جھگڑا تھا میرا جس سے وہ دنیا کدھر گئی اک شخص درمیان تھا وہ بھی نہیں رہا مثل چراغ تیرگی جسم و جاں میں دل اک شہر بے نشان تھا وہ بھی نہیں رہا اینٹیں بچھی تھیں جس میں وہ اک تنگ سی گلی اس میں مرا مکان تھا وہ ...

مزید پڑھیے

صدا ز فیض اثر خامشی نہ بن جائے

صدا ز فیض اثر خامشی نہ بن جائے جو بات کہہ نہ سکوں آپ ہی نہ بن جائے کس انتظار میں ہے گھر کا بند دروازہ ہوا بھی سایۂ زنجیر ہی نہ بن جائے وہ گھٹ کے مر ہی نہ جائے جو میرے اندر ہے مرا وجود ہی میری نفی نہ بن جائے تری وفا مری نس نس میں زہر بھر دے گی یہ دوستی بھی تری دشمنی نہ بن ...

مزید پڑھیے

ایک غم ہے اسے اپنا جانیں

ایک غم ہے اسے اپنا جانیں ہم کسی اور کو کیا پہچانیں مجھ کو برباد کر آباد بھی کر جھوٹ اس طرح سے کہہ سچ جانیں خواب دیکھیں نئے سر سے تیرے پھر ترے دھیان کی چادر تانیں دل کے بازار کا نقشہ تھا عجیب چاند نکلا تو کھلیں دکانیں چھیڑتے ہیں اسے خود ہی مصحفؔ اس کی باتوں کا برا بھی مانیں

مزید پڑھیے

کوئی بیمار پڑ جائے تو اچھا کیسے کرتے ہو

کوئی بیمار پڑ جائے تو اچھا کیسے کرتے ہو دکھاؤ تو مسیحائی کا دعوا کیسے کرتے ہو ہزاروں جاگتی آنکھیں سراغ اس کا نہیں پاتیں تم آنکھیں بند کر کے اس کو دیکھا کیسے کرتے ہو اگر بے مہر ہے تو روز کیوں جا جا کے ملتے ہو اگر پتھر اسے کہتے ہو سجدہ کیسے کرتے ہو حیا ایسی ادب اتنا ہماری عقل ...

مزید پڑھیے

جو بیتی ہے جو بیتے گی سب افسانے لگے ہم کو

جو بیتی ہے جو بیتے گی سب افسانے لگے ہم کو اسے دیکھا تو اپنے خواب ہی سچے لگے ہم کو انہیں دیکھا تو جیسے پر شکستہ کوئی طائر ہو وہ اپنی ڈار سے بچھڑے تھکے ہارے لگے ہم کو بہت ناراض تھے خود سے کسی سے کچھ نہیں بولے وہ اک کونے میں یوں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو سمجھتے ہی نہ تھے سمجھایا ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2488 سے 6203