اجنبی
دن بھر لوگ مرے کپڑوں سے ملتے ہیں میری ٹوپی سے ہاتھ ملا کر ہنستے ہیں میرے جوتے پہن کے میری سانسوں پر چلتے ہیں اپنے آپ سے کب بچھڑا تھا دن کے اس انبوہ میں مجھ کو کچھ بھی یاد نہیں آتا رات کو اپنے ننگے جسم کے بستر پر نیند نہیں آتی
دن بھر لوگ مرے کپڑوں سے ملتے ہیں میری ٹوپی سے ہاتھ ملا کر ہنستے ہیں میرے جوتے پہن کے میری سانسوں پر چلتے ہیں اپنے آپ سے کب بچھڑا تھا دن کے اس انبوہ میں مجھ کو کچھ بھی یاد نہیں آتا رات کو اپنے ننگے جسم کے بستر پر نیند نہیں آتی
میں کہتا ہوں دنیا بے وقعت بے مایہ ہے اور یہ میرا دکھ سکھ بھی کیا یہ تو بس اک دھوپ کا ٹکڑا بادل کا سایہ ہے میں نے یہ کہنے سے پہلے گیتا یا قرآن پہ ہاتھ نہیں رکھا لیکن سچ کہتا ہوں اور اگر میں سچ کہتا ہوں تو مجھ کو یہ دنیا کیوں اتنی بھاتی ہے کیوں میں اچانک سوتے سوتے آنکھیں ملتے اٹھ ...
وہ ایسے روٹھی ہے مجھ سے مجھے پاس نہیں آنے دے گی کہتی ہے دور ہٹو لیکن مجھے دور نہیں جانے دے گی جب اس کے پاس میں آتا ہوں کیا کہتا ہوں کچھ یاد نہیں بس یاد اگر ہے اتنا ہے ان آنکھوں میں اس تکیے پر کچھ آنسو ہیں کچھ موتی ہیں یا ان آنکھوں کی جھیلوں میں اک کشتی ہے کچھ تارے ہیں یہ تارے ہیں ...
میں اپنے جسم کے باہر کھڑا ہوں ان آنکھوں کے دریچے سے تو اب بسیں سڑکیں ملوں کی چمنیاں میونسپلٹی کا وہ نل کوڑھی بھکاری دھنی مل کا بہت اونچا مکاں کچھ بھی نظر آتا نہیں اب ان آنکھوں میں میری ہزاروں انجنوں کا شور ہے کالا دھواں ہے مگر دل کو لبھاتا ہے ابھی تک نیلگوں دوری کا منظر چاند ...
میں نے اپنی عمر کا سرکش گھوڑا یادوں کے اک پیڑ سے باندھا میرا لنگڑاتا بڑھاپا ستر اس کے سائے سائے پچپن میرا گھر میرا دفتر میری جوانی میرا بچپن تئیس بائیس ان کے پیچھے تیرہ بارہ میرے گاؤں کا چوبارا۔۔۔ مجھ کو تو یہ سارا منظر پل پل اپنا روپ بدلتا منظر دھندلا دھندلا سا لگتا ہے میری ...
ایک مجوف عدسے سے میں دنیا کو دیکھ رہا تھا جنگل میداں ریت کے ٹیلے ثقل زمیں سے اپنا رشتہ توڑ رہے تھے دور کنارے دریا کے ساتھ پرانا چھوڑ رہے تھے بہتی ہواؤں کے دامن کو گرتے پربت تھام رہے تھے اور ان سب کے پیچھے میری آنکھیں پھیل گئی تھیں میری ناک بہت لمبی تھی وہ بولی پہچانو آہستہ سے ...
درد کا نام پتہ مت پوچھو درد اک خیمۂ افلاک اس اقلیم پہ ہے سایہ کناں تم اسے قطب شمالی کہہ لو تم جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھو برف ہی برف ہے اور رات ہی رات ہم وہ موجود کہ جن میں شاید زندگی بننے کے آثار ابھی باقی تھے حشرات ایسے کہ جن کو شاید روشنی اور حرارت کی ضرورت تھی ابھی اس اندھیرے میں ...
خزاں کی آہٹیں سن رہی ہو میرا جسم بجھ رہا ہے میری سانسوں کے پھول پتے مرجھا رہے ہیں میں وقت کی شاخ سے نہ جانے کب ٹوٹوں اور بکھر جاؤں میری کتابیں باتیں تصویریں کسی مائکرو فلم آڈیو یا ویڈیو کیسٹ پر یا کسی سیڈی میں محفوظ کر لو دیکھو اب بھی وقت ہے مگر وقت بہت کم ہے مجھے آخری بار چھو ...
جب میں اپنے اندر جھانک رہا تھا ایک کنواں تھا ڈول میں اس میں ڈال رہا تھا اک رسی سانسوں کی میرے اشکوں میں بھیگی اوپر نیچے آتی جاتی میں اس کو باہر وہ مجھ کو اندر کھینچ رہا تھا!!
میں کیوں اک کمرے میں اک کرسی پر بیٹھا اپنے اندر چلتے چلتے تھک جاتا ہوں بچپن کی تصویریں یادیں گھٹنے میں جو چوٹ لگی تھی ہاتھ سے مٹی چھان کے بہتے خون کو کیسے روک لیا تھا وہ مکتب، کالج، دفتر، گھر اوبڑ کھابڑ رستے گرتے پڑتے کیا بتلاؤں کیسے اپنے گھر آیا ہوں کن بازاروں سے گزرا ہوں ہر ...