قومی زبان

خواب ہوں میں تو مری ذات سے پہلے کیا تھا

خواب ہوں میں تو مری ذات سے پہلے کیا تھا ابھی جاگا ہوں تو اس رات سے پہلے کیا تھا اپنے ہونے کا اب احساس ہوا ہے کچھ کچھ تجھ سے اس تشنہ ملاقات سے پہلے کیا تھا میں اگر چپ ہوں یہ بہتا ہوا دریا کیا ہے لب کشا ہوں تو مری بات سے پہلے کیا تھا گردش شام و سحر اک نگہ مہر تری تیرے اس لطف و عنایات ...

مزید پڑھیے

میرا دکھ

زمیں کی اک حد آسماں کی اک حد ہے مگر میرے دکھ کی کوئی حد نہیں ہے تم کہو گے زمیں چاند، سورج، ستارے یہ اک کہکشاں یہ سب اپنے ہی حجم میں دم بہ دم پھیلتے جا رہے ہیں یہ مانا مگر ان کے پھیلاؤ کی بھی کوئی آخری حد تو ہوگی میں یہ مانتا ہوں میں سب جانتا ہوں مگر میرے دکھ کی کوئی حد نہیں ہے۔۔۔!

مزید پڑھیے

کہی ان کہی

کچھ نہ کہنا بھی بہت کہنا ہے لفظ سینے میں ہی رک جائیں تو پھر بات کہاں ہوتی ہے لیکن الفاظ کے اطراف جو وہ ایک چشم نگراں ہوتی ہے اسی چشم نگراں کے صدقے آنکھ اگر خشک نظر آئے بہت روتی ہے زندگی خواب ہے تصویر تری سوتی ہے خواب تھا یا عالم بیداری تھا تیری تصویر تھی یا تو، تجھے کب دیکھا ...

مزید پڑھیے

وقت

وہ چلتا رہا اس کرۂ ارض کی گیند پر ایک پاؤں رکھے دوسرا پاؤں اس کا خلا میں۔۔۔ گیند آگے بڑھاتے ہوئے توازن بھی قائم رہے۔۔۔ قیامت کو ٹالے ہوئے۔۔۔ وہ چلتا رہا زیست اور موت کے دائرے کھینچتا۔۔۔ ایک ہی سمت میں ایک رفتار سے کسی بازی گر ایک سرکس کے نٹ کی طرح چاند سورج ستاروں کے گولے کبھی ...

مزید پڑھیے

نشتروں پر جسم سارا رکھ دیا

نشتروں پر جسم سارا رکھ دیا زخم پر لفظوں کا پھاہا رکھ دیا رات کی بھیگی ہوئی دیوار پر میں نے اک روشن ستارہ رکھ دیا رات تم نے روشنی کے کھیل میں کیوں مرے سائے پہ سایہ رکھ دیا میں نے وہ پتوار بھی لوٹا دیے بیچ دریا کے کنارا رکھ دیا پھول تھے ان میں مگر خوشبو نہ تھی لفظ کو سونگھا ...

مزید پڑھیے

اک خواب تھی زندگی ہماری

اک خواب تھی زندگی ہماری پھر آنکھ نہیں کھلی ہماری دنیا سے بھی پھر نہیں ملے ہم وہ بھی تو کبھی نہ تھی ہماری دن ڈھل گیا خواب دیکھنے میں کٹ جائے گی رات بھی ہماری پلکوں پہ یہ پھول آنسوؤں کے صحرا کی یہ ریت بھی ہماری اک دھیان کی لہر نے ڈبویا اک یاد نہ ہو سکی ہماری ٹاپوں کی صدا سی اس ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا کھیل ہے اب اس سے بات بھی کر لوں

یہ کیسا کھیل ہے اب اس سے بات بھی کر لوں کہے تو جیت کو اپنی میں مات بھی کر لوں یہ اختیار مرا تجھ کو جس طرح سوچوں سحر کو یاد سے اور دل سے گھات بھی کر لوں یہ دکھ بھی ساتھ چلے گا کہ اب بچھڑنا ہے اگر سفر میں اسے اپنے ساتھ بھی کر لوں کسی کا نام نہ لوں اور غزل کے پردے میں بیان اس کی میں ...

مزید پڑھیے

کبھی ہنس رہا تھا کبھی گا رہا تھا

کبھی ہنس رہا تھا کبھی گا رہا تھا مرا حوصلہ تھا جیے جا رہا تھا یہ اچھا ہوا کوئی ملنے نہ آیا میں خود اپنے سائے سے کترا رہا تھا وہ پہلی کرن سی مرے آنسوؤں کی مجھے اپنا اک خواب یاد آ رہا تھا کئی عقل کی گتھیاں تھیں مرا دل سمجھتا نہ تھا مجھ کو سمجھا رہا تھا اسی پر نئے پھول بھی کھل رہے ...

مزید پڑھیے

حکایت دل محزوں نہ قصۂ مجنوں

حکایت دل محزوں نہ قصۂ مجنوں کسی کی بات سنوں میں نہ اپنی بات کہوں تو میں وہی ہوں جسے وہ عزیز رکھتا تھا میں خود کو سوچ تو لوں آئینے میں دیکھ تو لوں تو جس لباس میں کل اس نے مجھ کو دیکھا تھا وہی قمیص پہن کر ادھر سے پھر گزروں وہ ایک لمحہ ازل تا ابد وہی لمحہ وہ مجھ سے کچھ نہ کہے میں بھی ...

مزید پڑھیے

اشکوں سے برنگ آب ہم نے

اشکوں سے برنگ آب ہم نے دریا کو لکھا سراب ہم نے ہم خود سے سوال کر رہے تھے لو ڈھونڈ لیا جواب ہم نے دیکھا نہیں اس کو کتنے دن سے انگلی پہ کیا حساب ہم نے اب اپنی نگاہ درمیاں ہے دیکھا تجھے بے نقاب ہم نے کیا کیا نہ ہمارے جی میں آئی کچھ تم کو دیا جواب ہم نے جگنو بھی نہ دے سکے نہ دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2489 سے 6203