حسرتیں روتی رہیں دل میں مجاور کی طرح
حسرتیں روتی رہیں دل میں مجاور کی طرح دل مگر چپ ہی رہا لوح مقابر کی طرح خشک پتوں کی طرح چھٹ گئے یاران کہن پھر نہ پلٹے کبھی پت جھڑ کے مسافر کی طرح آ تری مانگ میں کچھ اشک پروتا جاؤں میں تو ہر چھاؤں سے گذروں گا مہاجر کی طرح میں ہوں اک نقش قدم دشت فراموشی کا بھول جاؤ گے مجھے تم بھی ...