قومی زبان

لگا ہے ایسا کوئی کاسۂ سوالی ہوں

لگا ہے ایسا کوئی کاسۂ سوالی ہوں یہ آنکھ جیسے مری روشنی سے خالی ہوں یہ کیا ضروری ہے ہم ساری عمر ساتھ رہیں نہیں یہ بات کہ قدریں یہ لا زوالی ہوں نہ جانے کون پس چشم مر چکا ہوگا وہ آنکھیں جیسے کسی مقبرے کی جالی ہوں سدا سے ہیں کسی نادیدہ گونج کی تابع یہ بھیڑیں سبز پہاڑوں نے جیسے پا لی ...

مزید پڑھیے

میں منحرف تھا جس سے حرف انحراف کی طرح

میں منحرف تھا جس سے حرف انحراف کی طرح کھلا وہ دھیرے دھیرے بوئے انکشاف کی طرح یہ بے ثمر زمیں یہ رائیگاں فلک کے سلسلے ہیں میرے گرد کیوں حصار اعتکاف کی طرح وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح یہ لگ رہا ہے سب دعائیں مستجاب ہو گئیں جگہ جگہ ہے گہرا ...

مزید پڑھیے

کئی زمانوں کے دریائے نیل چھوڑ گیا

کئی زمانوں کے دریائے نیل چھوڑ گیا وہ وقت تھا جو مجھے لاکھوں میل چھوڑ گیا نہ بھیگے ہونٹ بھی کم ظرف دشت و دریا کے مرا حسین لہو کی سبیل چھوڑ گیا سب ایک سے تھے طلوع و غروب جاں اس کے جدائی میں بھی وہ نقش جمیل چھوڑ گیا تھے اس کے ساتھ زوال سفر کے سب منظر وہ دکھتے دل کے بہت سنگ میل چھوڑ ...

مزید پڑھیے

اسی نے ہجرتیں کچھ اور بھی بتائی تھیں

اسی نے ہجرتیں کچھ اور بھی بتائی تھیں وہ شخص جس کے لیے کشتیاں جلائی تھیں ملا تھا کیا تمہیں بولو عظیم فنکارو مرے قلم نے تو گم نامیاں کمائی تھیں ابھی تو ہاتھ میں ہی سنگ پارے تھے لیکن سکوت آب پہ کتنی خراشیں آئی تھیں اڑا کے برگ خزاں دیدہ کی طرح اک روز اسی نے پوچھا تھا پھر آندھیاں کب ...

مزید پڑھیے

آنکھیں یوں برسیں پیراہن بھیگ گیا

آنکھیں یوں برسیں پیراہن بھیگ گیا تیرے دھیان میں سارا ساون بھیگ گیا خشک محاذو بڑھ کے مجھے سلامی دو میرے لہو کی چھینٹوں سے رن بھیگ گیا تم نے مے پی چور چور میں نشے میں کس نے نچوڑا کس کا دامن بھیگ گیا کیا نمناک ہنسی دیوار و در پر تھی بچا کھچا سب رنگ و روغن بھیگ گیا سجنی کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

باد شمال چلنے لگی انگ انگ میں

باد شمال چلنے لگی انگ انگ میں لپٹا ہے کون مجھ سے یہ پت جھڑ کے رنگ میں خواہش کے کاروبار سے بچنا محال ہے اترے گا تو بھی ساتھ مرے اس سرنگ میں میں آندھیوں میں ہاتھ بھی پکڑوں ترا تو کیا اک شاخ بے سپر ہوں ہواؤں کی جنگ میں رانجھاؔ میں عہد نو کا قبیلوں میں بٹ گیا تو ہیرؔ بن کے پی نہ سکی ...

مزید پڑھیے

میں ایک پل کی تھا خوشبو کدھر نکل آیا

میں ایک پل کی تھا خوشبو کدھر نکل آیا چلا میں مجھ کو ہوا کا سفر نکل آیا نہ کھینچنی تھی تمہیں سطح آب کی چادر کبھی کا گھات میں بیٹھا بھنور نکل آیا برہنگی کو تماشا بھی دردناک ملا بدن کے رنگ جب اترے کھنڈر نکل آیا وہ ایک ابر تو بجلی سے رات بھر لڑتا ہوا کے میان سے خنجر مگر نکل ...

مزید پڑھیے

رہ جنوں میں چلا یوں میں عمر بھر تنہا

رہ جنوں میں چلا یوں میں عمر بھر تنہا کہ جیسے کوئی بگولا کرے سفر تنہا اداسی روح سے گزری ہے اس طرح جیسے اجاڑ دشت میں پت جھڑ کی دوپہر تنہا بھٹک رہی ہے خلاؤں میں یوں نظر جیسے ہو رات میں کسی گمراہ کا گزر تنہا گزر گئے جرس گل کے قافلے کب کے تکا کرے یوں ہی اب گرد رہگزر تنہا نسیم صبح ...

مزید پڑھیے

جسموں کی چڑھتی دھوپ کا جب قہر اتر گیا

جسموں کی چڑھتی دھوپ کا جب قہر اتر گیا اک شعلہ ڈوبنے کو سر نہر اتر گیا پھر یاد آ گئی ہے ترے آنسوؤں کی شام پھر آج زیر آب کوئی شہر اتر گیا اب ڈس رہا ہے مجھ کو مرا کھوکھلا بدن ساون کی بجلیوں سے مرا زہر اتر گیا ہم موج تہ نشیں تھے تجھے چھو نہیں سکے تو برگ سطح آب تھا ہر لہر اتر گیا اب ...

مزید پڑھیے

جنگل مدافعت کے ہلکان ہو گئے ہیں

جنگل مدافعت کے ہلکان ہو گئے ہیں سب رستے آندھیوں کے آسان ہو گئے ہیں رشتوں کا بوجھ ڈھونا دل دل میں کڑھتے رہنا ہم ایک دوسرے پر احسان ہو گئے ہیں آنکھیں ہیں سلگی سلگی چہرے ہیں دہکے دہکے کن جلتی بستیوں کی پہچان ہو گئے ہیں لوگوں کا آنا جانا معمول تھا پر اب کے گھر پہلے سے زیادہ سنسان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2483 سے 6203