اشک پلکوں پہ جو آئیں تو چھپائے نہ بنے
اشک پلکوں پہ جو آئیں تو چھپائے نہ بنے ٹوٹ کر بکھریں یہ موتی تو اٹھائے نہ بنے قہر ہے اپنے لیے سوز دروں کا عالم دیکھنا گر کوئی چاہے تو دکھائے نہ بنے کس طرح ہاتھ اٹھاؤں میں دعا کی خاطر ہاتھ اک پل بھی تو سینے سے ہٹائے نہ بنے قصۂ حسرت دل ہم سے بیاں کیا ہوگا بے رخی ان کی ہے ایسی کہ ...