قومی زبان

اشک پلکوں پہ جو آئیں تو چھپائے نہ بنے

اشک پلکوں پہ جو آئیں تو چھپائے نہ بنے ٹوٹ کر بکھریں یہ موتی تو اٹھائے نہ بنے قہر ہے اپنے لیے سوز دروں کا عالم دیکھنا گر کوئی چاہے تو دکھائے نہ بنے کس طرح ہاتھ اٹھاؤں میں دعا کی خاطر ہاتھ اک پل بھی تو سینے سے ہٹائے نہ بنے قصۂ حسرت دل ہم سے بیاں کیا ہوگا بے رخی ان کی ہے ایسی کہ ...

مزید پڑھیے

شام غم سے شب اندوہ سے چشم تر سے

شام غم سے شب اندوہ سے چشم تر سے باز آیا میں تری یاد کے اس لشکر سے یاں شب و روز ہے مطلب کسے خیر و شر سے زندگی کا ہے عجب سلسلہ سیم و زر سے جو تجھے چاہا بتانا نہ بتایا پھر بھی کب چھپا حال دل سوختہ نامہ بر سے بعد تکمیل ہوئی گھر کی حقیقت معلوم گھر کہاں بنتا ہے دیوار سے چھت سے در ...

مزید پڑھیے

مرا دل عجب شادمانی میں گم ہے

مرا دل عجب شادمانی میں گم ہے کہ وہ آج میری کہانی میں گم ہے سمجھتا ہے دل تیرے طرز سخن کو مگر تیری جادو بیانی میں گم ہے میں ہوں فطرتاً موج سے لڑنے والا وہ ملاح کیا جو روانی میں گم ہے اسے کیا پتا کیا ہے صحرا نوردی ہواؤں کی جو بے زبانی میں گم ہے بہت ٹیس اٹھتی ہے دیکھے سے اس کو وہ کیا ...

مزید پڑھیے

برابر خواب سے چہروں کی ہجرت دیکھتے رہنا

برابر خواب سے چہروں کی ہجرت دیکھتے رہنا گزر چکنے پہ بھی وہ شام رحلت دیکھتے رہنا دھنک کی بارشیں برفاب شہروں پر نہیں ہوتیں یہاں پھولوں کا رستہ عمر بھر مت دیکھتے رہنا کتابوں کی تہوں میں ڈھونڈھنا نا دیدہ اشیاء کا پلٹ کر پھر کوئی خالی عبارت دیکھتے رہنا ہجوم شہر کے سناٹے میں گم صم ...

مزید پڑھیے

تباہ کر گیا سب کو مرے گھرانے کا

تباہ کر گیا سب کو مرے گھرانے کا وہی جنون ہتھیلی پہ پھول اگانے کا ترے بغیر میں مر جاؤں گا یہی سچ ہے نہیں ہے حوصلہ اب جھوٹ کو بچانے کا ہمارے بیچ میں اک اور شخص ہونا تھا جو لڑ پڑے تو کوئی بھی نہیں منانے کا وہ ریگ ریگ سے اٹھتا تھا لہر لہر کی شکل میں خواب دیکھتا تھا کشتیاں چلانے ...

مزید پڑھیے

پہچان کا اثاثہ وہ جب ہار آئے گا

پہچان کا اثاثہ وہ جب ہار آئے گا چہرے نئے خریدنے بازار آئے گا رنگوں کے قافلے نہیں اب میرے ہم سفر ہم راہ ایک برگ عزا دار آئے گا ناموس صبح کربلا اپنی ردا سنبھال چل کر ابھی تو شام کا دربار آئے گا دیوار و در میں دیر سے سرگوشیاں سی ہیں فاتح قبیلوں کا کوئی سردار آئے گا مفتوح بستیوں ...

مزید پڑھیے

ہوا رہ میں دئے طاقوں میں مدھم ہو گئے ہیں

ہوا رہ میں دئے طاقوں میں مدھم ہو گئے ہیں محاذ اب دوریوں کے کتنے محکم ہو گئے ہیں ہجوم نا شناساں میں ہے اتنا ہی غنیمت یہ رشتے اجنبیت کے جو قائم ہو گئے ہیں چٹانوں سے جہاں تھی گفتگوئے سخت لازم وہیں شیریں سخن لہجے ملائم ہو گئے ہیں مرے بچے ترا بچپن تو میں نے بیچ ڈالا بزرگی اوڑھ کر ...

مزید پڑھیے

اک کتب خانہ ہوں اپنے درمیاں کھولے ہوئے

اک کتب خانہ ہوں اپنے درمیاں کھولے ہوئے سب کتابیں صفحۂ حرف زیاں کھولے ہوئے اک جدائی پر ہوں حیراں جس طرح کوئی پہاڑ قتل پر ہابیل کے اپنا دہاں کھولے ہوئے بد دعائے نارسائی کام اپنا کر چکی اپنی ساری پرتیں ہے کیوں آسماں کھولے ہوئے بند رکھو مٹھیوں کو ریت اڑتی ہے یہاں جانے کون آ جائے ...

مزید پڑھیے

یاد تو آئے کئی چہرے ہر اک گام کے بعد

یاد تو آئے کئی چہرے ہر اک گام کے بعد کوئی بھی نام کہاں آیا ترے نام کے بعد دشت و دریا میں کبھی گلشن صحرا میں کبھی میں رہا محو سفر اک ترے پیغام کے بعد گامزن راہ جنوں پر ہیں تو پھر سوچنا کیا کسی انجام سے پہلے کسی انجام کے بعد دل کا ہر کام فقط اس کی نظر کرتی ہے نام آتا ہے مگر میرا ہر ...

مزید پڑھیے

قہقہے کی موت ہے یا موت کی آواز ہے

قہقہے کی موت ہے یا موت کی آواز ہے سسکیاں لیتا ہوا اب زندگی کا ساز ہے ایک سایہ لڑکھڑاتا آ رہا ہے اس طرف دیکھیے تو اک حقیقت سوچئے تو راز ہے ریت میں منہ ڈال کر سانسوں کا اس کا روکنا چند سکوں کے لئے بچہ بڑا جانباز ہے سوچ کی منزل کہیں ہے اور آنکھیں ہیں کہیں جانتا ہوں کس میں کتنی قوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2485 سے 6203