آشفتگی پھر آج منا لے گئی مجھے
آشفتگی پھر آج منا لے گئی مجھے اک بوئے رہ گزار بلا لے گئی مجھے جانا تھا میں نے میں ترے قدموں کی دھول ہوں دنیا سمجھ کے پھول اٹھا لے گئی مجھے چارہ گروں کو میری ہوا تک نہ مل سکی چپکے سے کوئی شام بلا لے گئی مجھے تجھ کو پکارنا تھا نہ دشت طلب میں دوست دور اور تجھ سے تیری صدا لے گئی ...