قومی زبان

آشفتگی پھر آج منا لے گئی مجھے

آشفتگی پھر آج منا لے گئی مجھے اک بوئے رہ گزار بلا لے گئی مجھے جانا تھا میں نے میں ترے قدموں کی دھول ہوں دنیا سمجھ کے پھول اٹھا لے گئی مجھے چارہ گروں کو میری ہوا تک نہ مل سکی چپکے سے کوئی شام بلا لے گئی مجھے تجھ کو پکارنا تھا نہ دشت طلب میں دوست دور اور تجھ سے تیری صدا لے گئی ...

مزید پڑھیے

وداع ساتھ تمہارے ہی ہو گیا سورج

وداع ساتھ تمہارے ہی ہو گیا سورج پھر اس کے بعد نہ ہم کو کہیں ملا سورج کہیں ابھر نہ سکا روز و شب کی محفل میں میں دن کا چاند رہا اور رات کا سورج اٹھے جو ہم سے گراں گوش تو ہوا معلوم ہمیں پکار کے کب کا چلا گیا سورج ملن کی شام سہی پر ملن نصیب کہاں تو چڑھتے چاند کی میت میں ڈوبتا سورج اس ...

مزید پڑھیے

ہر سانس میں مسمار کھنڈر ٹوٹتے رہنا

ہر سانس میں مسمار کھنڈر ٹوٹتے رہنا سن سن کے شکستوں کی خبر ٹوٹتے رہنا افلاک سے ماتم زدہ آوازوں کی آمد رہ رہ کے ستاروں کے گجر ٹوٹتے رہنا یلغار ہواؤں کی پرندوں کی صفوں پر آندھی میں پری زادوں کے پر ٹوٹتے رہنا دن بھر وہی لمحات سے رہنا متصادم شب بھر وہی لمحوں کی کمر ٹوٹتے رہنا ملبے ...

مزید پڑھیے

بگڑتے بنتے دائرے سوال سوچتے رہے

بگڑتے بنتے دائرے سوال سوچتے رہے نہ جانے کس کے تھے وہ خد و خال سوچتے رہے جو رونما نہیں ہوا وہ مرحلہ ڈرا گیا ملیں گے کیسے اس سے ماہ و سال سوچتے رہے ستارہ در ستارہ شام اتری ہوگی لان پر اکیلے بیٹھے ہم بصد ملال سوچتے رہے عجیب موڑ سامنے تھے خواب خواب بستیاں بچھڑ کے باقی عمر کا مآل ...

مزید پڑھیے

کڑے ہیں کوس سفر دور کا ضروری ہے

کڑے ہیں کوس سفر دور کا ضروری ہے گھروں سے رشتوں کا اب خاتمہ ضروری ہے پرستش اپنی انا کے بتوں کی کر لی بہت سکون دل کے لیے اک خدا ضروری ہے کہیں تو تھوڑی سی گنجائش خلوص ملے دلوں میں چھپ کے یہاں جھانکنا ضروری ہے میں سنگ رہ ہوں تو ٹھوکر کی زد پہ آؤں گا تم آئینہ ہو تو پھر ٹوٹنا ضروری ...

مزید پڑھیے

یکساں ہے دھواں جلتے خرابے کی مہک تک

یکساں ہے دھواں جلتے خرابے کی مہک تک سناٹے کا گھر سے دیا سنسان سڑک تک پہلے ہی کہا تھا مرے دامن سے پرے رہ آ ہی گیا تو بھی انہیں شعلوں کی لپک تک اب میں ہوں فقط اور کوئی ہانپتا صحرا آئی تھی مرے ساتھ ان اشکوں کی کمک تک دو کشتیاں کاغذ کی بہا لیں چلو ہم تم پھر تو ہمیں ملنا نہیں خوابوں ...

مزید پڑھیے

میں آندھی میں ریزہ ریزہ اک پھول چن رہا ہوں

میں آندھی میں ریزہ ریزہ اک پھول چن رہا ہوں ڈرا ڈرا سا ہوا کی سانسوں کو سن رہا ہوں وہ دونوں تو ربط باہمی سے جڑے ہوئے تھے میں کیوں رقابت کے اس جہنم میں بھن رہا ہوں پڑوسیوں کے تمام مفروضے سچ ہوئے ہیں میں بے ثمر سوچوں کی ذہانت کو دھن رہا ہوں کہر میں گم سم سماعتو تم گواہ رہنا میں ایک ...

مزید پڑھیے

گھرا ہوں دو قاتلوں کی زد میں وجود میرا نہ بچ سکے گا

گھرا ہوں دو قاتلوں کی زد میں وجود میرا نہ بچ سکے گا میں زرد جنگل سے بچ گیا تو پہاڑ اک مشتعل ملے گا ہزیمتوں کے سفر کا راہی افق کو دیکھے گا بے بسی سے افق سے بڑھتا ہوا سمندر زمیں کو قدموں سے کھینچ لے گا جلا کے گھر سے رقیب شمعیں ہوا میں ہم تم نکل پڑے ہیں یہی ہے دونوں کو انتظار اب کہ ...

مزید پڑھیے

فضا میں زلف کے جادو اگر بکھر جاتے

فضا میں زلف کے جادو اگر بکھر جاتے ہوا کے ساتھ بہت لوگ در بدر جاتے بھلا ہوا کہ ہوئی جنس غم کی ارزانی ہم اپنے داغ دکھانے نگر نگر جاتے نہ جلتا کوئی چراغ صدا تو سب سر شام لپٹ کے اپنے گھروں کے ستوں سے مر جاتے اک ایسا لمحۂ شام خزاں بھی گزرا ہے مجھے جو دیکھتے اس لمحہ تم تو ڈر جاتے ہمیں ...

مزید پڑھیے

سیاہ درد کا یہ سائبان گر جائے

سیاہ درد کا یہ سائبان گر جائے ہمیں پہ ٹوٹ کے کاش آسمان گر جائے خرابۂ دل تنہا نہ دیکھا جائے گا ہمیں مکیں ہیں تو ہم پر مکان گر جائے میں اس لرزتی سی دیوار دل کا نوحہ ہوں جو کہتے کہتے کوئی داستان گر جائے سنبھل سنبھل کے اٹھا بار بیکسی کا پہاڑ ترے جگر پہ نہ سر کی چٹان گر جائے نہ ایسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2482 سے 6203