قومی زبان

واپسی

ڈھلتے سورج کا زرفشاں تابوت لے چلے مغربی افق کے کہار اور درماندہ رہ گزاروں پر جم گیا وقت صورت اشجار بے کراں بے اماں خلاؤں تک چیختی جاتی ہیں ابابیلیں پربتوں کے مہیب چہروں سے ڈر کے خاموش ہو گئیں جھیلیں ہر کھنڈر میں ہیں بھوت محو رقص کاسۂ سر کی لے کے قندیلیں اور دور اس فصیل شام سے ...

مزید پڑھیے

ہوا کا نوحہ

اپنی اور قیوم راہیؔ کی ماں کی موت پر ستارے چپ ہیں کسی بیوہ مانگ کی مانند بجھا بجھا ہے سر شام چاند کا جھومر دمکتی راہوں کے دھندلا گئے ہیں آئینے اتر چکا ہے خلاؤں میں روشنی کا نگر مہیب و سرو و سیہ ہاتھ بڑھتے جاتے ہیں کھنچے ہوئے ہیں فضاؤں میں آتشیں خنجر فرشتے روتے ہیں اپنے پروں کو ...

مزید پڑھیے

انتظار

وہ ایک پنچوٹی کا وشال سا جنگل جگوں جگوں سے جہاں اک اہلیا کی شلا تباہ کار سیہ فال بد دعا کا صلہ بری طرح سے ہے اپنے شراب میں پاگل کبھی یہ سوچتا ہے سنگ و خشت کا پیکر خود اس کی طرح نہ ہر رہ گزار پتھرا جائے وہ لوح حرف مقدر بھی جس پہ دھندلا جائے نہ جانے کتنی صدی تک رہے گی خاک بسر اس آس پر ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر

میں ترے شہر میں پھرتا ہی رہا سرگرداں شاہراہوں کے ہر اک موڑ پہ حیراں حیراں آبلہ پا جگر افگار کراں تا بہ کراں اسی امید پہ شاید کہ کوئی پہچانے جستجو ایک بگولے کے عناصر چھانے شوق رسوا کی پذیرائی کے ہوں افسانے لیکن اس شہر ستم پیشہ میں کچھ بھی نہ ہوا مری جانب کوئی گل پوش دریچہ نہ ...

مزید پڑھیے

تہہ بہ تہہ دریا کے سب اسرار تک وہ لے گیا

تہہ بہ تہہ دریا کے سب اسرار تک وہ لے گیا لہر اک اس پار سے اس پار تک وہ لے گیا کیسا سایہ تھا کہ گل کی اس نے ساری روشنی ساتھ اپنے دھند کی دیوار تک وہ لے گیا ایک تھا بیمار قیدی اک گواہ چشم دید ایک ہی زنجیر کو دربار تک وہ لے گیا تھا چراغ التجا لیکن بجھا اس شان سے ہر مخاطب سے لب اظہار ...

مزید پڑھیے

حسین ہی تھا جو پیاسا اٹھا فرات سے وہ

حسین ہی تھا جو پیاسا اٹھا فرات سے وہ لہولہان سمندر تھا اپنی ذات سے وہ فصیل شب کی کمیں گاہیں اس پہ سب روشن نہ جانے گزرے گا کب جائے واردات سے وہ کیا نہ ترک مراسم پہ احتجاج اس نے کہ جیسے گزرے کسی منزل نجات سے وہ پرندے لوٹ رہے ہیں کھلے بسیروں میں گیا ہے گھر سے بھی لڑ کر گزشتہ رات سے ...

مزید پڑھیے

دشنۂ درد ہر اک سانس میں ٹھہرا ہوگا

دشنۂ درد ہر اک سانس میں ٹھہرا ہوگا دل سمندر ہے تو پھر گھاؤ بھی گہرا ہوگا تیری قربت میں مری سانس گھٹی جاتی ہے میں نے سوچا تھا ترا جسم بھی صحرا ہوگا موج خوں سر سے گزر جائے گی جس رات مرے رنگ پیراہن شب اور بھی گہرا ہوگا چل پڑے ہیں ابھی جس پر یہ سفیران بہار کسی بجتی ہوئی زنجیر کا ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے بھی ملا رسوائیوں کا قہر تجھے

بچھڑ کے بھی ملا رسوائیوں کا قہر تجھے چھپا سکا نہ ترے آنسوؤں کا شہر تجھے یہ چڑھتی دھوپ کا ملبوس اتار دے سر شام اترتی دھوپ میں اب دیکھتا ہے شہر تجھے ہر ایک سیل صدا کو تو کر گیا پایاب ڈبو سکی نہ مری چاہتوں کی نہر تجھے بکھرتی کرنوں کو آنگن میں تھامنے والے مہ تمام کا پینا پڑے گا زہر ...

مزید پڑھیے

اٹھے جس بزم سے تم غم کا سماں چھوڑ آئے

اٹھے جس بزم سے تم غم کا سماں چھوڑ آئے دیے محفل سے اٹھا لائے دھواں چھوڑ آئے ایک ٹوٹا ہوا بیکار سفینہ ہم ہیں ہمیں اب سیل بلا چاہے جہاں چھوڑ آئے آج سر پھوٹے گا روئے گی نہ دیوار تیری شہر سے دور ہمیں اہل جہاں چھوڑ آئے ہنس کے جی بھر کے زمانے کہ جنوں ہار گیا ناصحا خوش ہو کہ ہم کوئے بتاں ...

مزید پڑھیے

لہو لہان تھا شاخ گلاب کاٹ کے وہ

لہو لہان تھا شاخ گلاب کاٹ کے وہ ہوا ہلاک چٹانوں کے خواب کاٹ کے وہ میں گزرے وقت کے کس آسماں میں جیتا ہوں گیا کبھی کا ہوا کی طناب کاٹ کے وہ اسی امید پہ جلتی ہیں دشت دشت آنکھیں کبھی تو آئے گا عمر خراب کاٹ کے وہ ہوئے ہیں خشک بھری دوپہر کئی دریا اس آرزو میں کہ رکھ دے سراب کاٹ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2481 سے 6203