قومی زبان

گالی

میں کبھی نہیں جان سکا گالی جذبے کی کون سی سطح ہے میں نے کبھی گالی نہیں دی مگر مجھے ہمیشہ گالیوں سے دلچسپی رہی میں ہر روز ہر طرح کی گالیاں سنتا ہوں گالی کسی کو بھی دی جائے اسلوب میں عورت ضرور آتی ہے میری ساری زندگی لفظوں کے درمیان گزری مجھے ہمیشہ لفظ نظر آتے ہیں گالی لفظوں کی ایک ...

مزید پڑھیے

دہکتی ہوئی یاد

میرے بدن سے ٹکراتی ہے اس کا لمس مجھے پاگل سا بنا دیتا ہے میں چیخ پڑتا ہوں گوشت جلنے کی بو فضا میں پھیلنے لگتی ہے میری آنکھوں میں رہنے والے آنسوؤں میں ایک چھناکے کے ساتھ دہکتی ہوئی یاد سرد ہونے لگتی ہے میں آس پاس کے منظر نامے کو دیکھتا ہوں جو بدلا ہوا ہوتا ہے میں سرد پڑنے والی یاد ...

مزید پڑھیے

میرا لمس

تمہارا احساس سفید ریشم سے بنا ہوا ہے میں اسے چھونے سے ڈرتا ہوں میرا لمس اسے میلا نہ کر دے احساس سے زیادہ اجلی لڑکی تمہاری اجلاہٹ ہی تمہارا وصف ہے تم تو خود بھی اپنے آپ تک نہیں پہنچ سکیں میں تم سے پہلے تم تک کیسے پہنچوں میرا میلا پن مسلسل تمہیں گھور رہا ہے

مزید پڑھیے

زبان

مجھے صرف نفرت کی زبان آتی ہے نفرت کا لغت نویس بن کر میں اپنی زبان بھول چکا ہوں محبت میری ماں بولی تھی مگر زندہ رہنے کے لیے مجھے نفرت کی زبان سیکھنی پڑی میں ایک لڑکی کو تلاش کر رہا ہوں وہ مجھے محبت کی متروک زبان سکھا دے گی ایک لڑکی اپنی ماں بولی کبھی نہیں بھولتی

مزید پڑھیے

تمہیں غصہ آتا ہے

تمہیں غصہ آتا ہے میری بھولنے کی عادت پر میں تمہارے پاس نظموں کی کتاب بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو میں اپنی عینک تمہارے پاس بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو میں اپنا قلم تمہارے پاس بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو مجھے بھی تمہاری طرح اپنی بھولنے کی عادت پر غصہ آتا ہے میں کچھ ...

مزید پڑھیے

ہم

ہم بہت چھوٹے ہیں ہمارے خواب ہم سے بھی چھوٹے ہیں ہمیں ممانعت کی جاتی ہے خود سے بڑا خواب دیکھنے کی ہمارے خواب اتنے چھوٹے ہیں کہ ہم بھی ان میں داخل نہیں ہو سکتے

مزید پڑھیے

یہ کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

یہ کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا ہر گزرتے ہوئے لمحے سے یہی خوف رہا حسرتوں سے مرے دامن کو یہ بھر جائے گا دل شفق رنگ ہوا ڈوبتے سورج کی طرح رات آئے گی تو ہر خواب بکھر جائے گا شدت غم سے ملا زیست کو مفہوم نیا ہم سمجھتے تھے کہ دل جینے سے بھر جائے ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے تیرا غم دیئے جلاتا تھا

کچھ اس طرح سے تیرا غم دیئے جلاتا تھا کہ خاک دل کا ہر اک ذرہ جگمگاتا تھا اسی لئے نہ کیا تلخی‌ٔ جہاں کا گلا ترا خیال پس پردہ مسکراتا تھا نہ یاد رکھتا تھا مجھ کو نہ بھول جاتا تھا کبھی کبھی وہ مجھے یوں بھی آزماتا تھا ہر آئنہ تھا سراپا حجاب میرے لیے میں اپنے آپ کو دیکھوں نظر وہ آتا ...

مزید پڑھیے

غم ہی لے دے کے مری دولت بیدار نہیں

غم ہی لے دے کے مری دولت بیدار نہیں یہ خوشی بھی ہے میسر کوئی غم خوار نہیں خود سے بھی توڑ چکا ہوں میں تعلق اپنا اب مری راہ میں حائل کوئی دیوار نہیں ایسی سنسان کبھی پہلے نہ تھی ہجر کی رات دور تک قافلۂ صبح کے آثار نہیں بات آسان فراوانیٔ غم نے کر دی اب مجھے شکوۂ ناکامئ اظہار ...

مزید پڑھیے

مثال عکس کنج ذات سے باہر رہا ہوں میں

مثال عکس کنج ذات سے باہر رہا ہوں میں کہ آپ اپنے مقابل آئینہ بن کر رہا ہوں میں عجب موسم تھا جب قربت تری سرمایۂ جاں تھی وہی موسم ہے اور ترک تعلق کر رہا ہوں میں تمہاری مشکلیں آساں ہوئی ہیں ڈوبنے والو! مجھے دیکھو کہ ساری عمر ساحل پر رہا ہوں میں اسی معمورۂ خوابیدگاں شہر خموشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2469 سے 6203